ایشین گیمز ہاکی میں پاک بھارت اہم معرکے کیلیے میدان سج گیا
روایتی حریفوں کے مابین آج کا میچ گروپ بی کی ٹاپ پوزیشن کا فیصلہ بھی کردے گا، پاکستانی کپتان قوم کی امیدوں پر۔۔۔
حریف سائیڈ کی انٹرنیشنل ایونٹس سے دوری کا ہمیں فائدہ ہوگا (بھارتی کوچ) فاتح ٹیم ٹائٹل کی مضبوط دعویدار بن جائے گی، سابق قومی اسٹارز۔ فوٹو: فائل
ایشین گیمز ہاکی ایونٹ میں پاک بھارت اہم معرکے کیلیے میدان سج گیا، روایتی حریفوں کے مابین جمعرات کو شیڈول میچ گروپ بی کی ٹاپ پوزیشن کا فیصلہ کردے گا۔
فاتح ٹیم کا سیمی فائنل میں جنوبی کوریا سے ٹکراؤ کا ممکنہ خطرہ ٹل سکتا ہے، پاکستانی کھلاڑیوں نے بدھ کو 2 گھنٹے تک بھرپور ٹریننگ کی، اس دوران زیادہ تر توجہ اٹیکنگ لائن کی مضبوطی تھی، پنالٹی کارنر کو بھی ہر صورت مہلک بنانے کیلیے مشق کی گئی،کپتان محمد عمران کا کہنا ہے کہ تمام کھلاڑی اہم میچ جیت کر قوم کی امیدوں پر پورا اترنے کیلیے بے تاب ہیں۔ بھارتی ٹیم کے آسٹریلوی کوچ ٹیری والش نے بھی فتح کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری طرف سابق پاکستانی اسٹارز نے ایشین گیمز کے ابتدائی دونوں مقابلوں میں شاندار کارکردگی کی بنا پر گرین شرٹس کو فیورٹ قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق پاک بھارت کھیلوں کے مقابلوں کو خاص اہمیت حاصل ہے، میچ چاہے دنیا میں کہیں بھی کھیلا جائے دونوں ممالک کے عوام سمیت دنیا بھرکے کروڑوں شائقین دل تھام کر بیٹھ جاتے ہیں۔ جنوبی کوریا میں جاری ایشین گیمز کے ہاکی ایونٹ میں ایسا ہی جمعرات کو ہونے جارہا ہے،جہاں گروپ بی میں شامل روایتی حریف ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔ میچ پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے شروع ہوگا۔ دونوں ٹیمیں ایونٹ میں ابتدائی مقابلوں میں سرخرو ہیں، گرین شرٹس نے سری لنکا کو 14 اور چین کو 2 گول سے زیر کیا۔
بھارتی سائیڈ سری لنکا کیخلاف 8 اور اومان پر7 گولز سے کامیاب ہوئی۔ دونوں ٹیمیں آخری بار ایشین گیمز کے گذشتہ ایڈیشن میں آمنے سامنے آئیں تھیں جس میں بھارت نے3-2 سے کامیابی حاصل کی، مقابلوںکی تاریخ میں پاکستان نے 8 بار گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ حریف ٹیم 2 بار ہی ٹائٹل جیت سکی، پاکستان نے ایشین گیمز کے ٹائٹل معرکے میں 8 میں سے 7 بار روایتی حریف ٹیم کو مات دی، آخری بار چار سال قبل گرین شرٹس نے ملائیشیا پر 2-0 سے قابو پاتے ہوئے گولڈ میڈل پایا تھا، فائنل میں بھارتی ٹیم صرف ایک بار پاکستان کو ہرا سکی۔
دوسری طرف پاکستانی کپتان محمد عمران نے کہاکہ بھارت کیخلاف گروپ میچ ہو یا فائنل ہمیشہ ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، دنوں ممالک کی عوام ہر صورت فتح چاہتی ہے، عوامی توقعات کے نتیجے میںکھلاڑی بھی اضافی دباؤ محسوس کرتے ہیں لیکن شاندار کارکردگی سے راتوں رات ہیرو بننے کا موقع انھیں صلاحیتوں سے بڑھ کر پرفارم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ انچیون سے نمائندہ '' ایکسپریس'' کو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ سری لنکا اور چین کو زیر کرنے کے بعد تمام کھلاڑیوں کا مورال بلند ہے، بھارت پر فتح کے ساتھ سیمی فائنل میں باوقار طریقے سے رسائی چاہتے ہیں، انھوں نے کہا کہ ہم ہر میچ فائنل سمجھ کر کھیل رہے ہیں، حریف چاہے بھارت ہو یا کوئی اور ہمارا مشن فتح حاصل کرنا ہے۔
عمران نے کہا کہ ہر بھارتی کھلاڑی کی کارکردگی پر نظر ہے، کپتان سردار سنگھ اور پنالٹی کارنر اسپیشلسٹ روپندر پال سنگھ کو قابو میں کرنے کی کوشش کریں گے،امید ہے کہ کامیابی کے ساتھ قوم کو خوشخبری دیں گے۔ ایک سوال پر محمد عمران نے کہا کہ ہمارے پاس ایسے باصلاحیت فارورڈز موجود ہیں جو روایتی حریف دفاع کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیں گے ۔ دوسری جانب بھارتی ہاکی ٹیم کے آسٹریلوی کوچ ٹیری والش نے روایتی حریفوں کی جنگ کو فائنل سے قبل فائنل قرار دیا، انھوں نے کہا کہ ہمیں حریف سائیڈ کی انٹرنیشنل مقابلوں سے دوری کا فائدہ حاصل ہوگا۔
کامن ویلتھ گیمز میں برانز میڈل بھی کھلاڑیوں میں شاندار کھیل کیلیے جستجو پیدا کرے گا۔ دریں اثنا اہم میچ میں سابق پاکستانی اسٹارز نے قومی ٹیم کو فیورٹ قرار دے دیا، سابق کپتان اولمپئن سمیع اللہ خان نے کہا کہ دفاعی چیمپئن کیلیے جمعرات کا میچ ہرگز آسان نہیں ہوگا، البتہ فتح کی صورت میں کھلاڑیوںکے حوصلے بلند ہوجائیں گے جس کا آئندہ میچز میں مثبت اثر پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ 11 ماہ بعد انٹرنیشنل میچ کھیلنے والی پاکستانی ٹیم نے اب تک ایونٹ میں سری لنکا ور چین کی کمزور ٹیموں کے خلاف کامیابی پائی، اصل امتحان بھارت کے خلاف ہوگا جس کے لیے قومی ٹیم کو اپنا دفاع مضبوط تر بنانے کی ضرورت ہے، فارورڈ کو بھی ملنے والے مواقع سے بھر پور فائدہ اٹھانا ہوگا، چین کے خلاف پنالٹی کارنرز ضائع کرنے جیسی غلطی دوبارہ کی تو نقصان ہوگا۔
انھوں نے کہا کوریا اور ملائیشیا بھی آسان حریف نہیں لیکن بھارت کے خلاف مقابلہ اہم ہے۔ قومی ہاکی ٹیم کے ایک اور سابق کپتان اولمپئن حسن سردار نے کہا کہ بھارت کیخلاف میچ میں جارحانہ کھیل اپنانا ہوگا، یورپی طرز پر کھیلنے والی بھارتی ٹیم ہمارے کھلاڑیوں کو کھل کر صلاحیتیں آزمانے کا موقع نہیں دے گی،انھوں نے کہا کہ متوقع سخت مقابلے میں پاکستان کو حریف ٹیم کے پنالٹی کارنرز روکنے کے لیے خصوصی حکمت عملی تیار کرنا ہوگی، یہ مقابلہ ایک آزمائش ہے۔ اولمپئن ریحان بٹ نے قومی ٹیم کی ابتدائی 2 میچزکی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پلیئرز بھارت کو بھی زیر کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
فاتح ٹیم کا سیمی فائنل میں جنوبی کوریا سے ٹکراؤ کا ممکنہ خطرہ ٹل سکتا ہے، پاکستانی کھلاڑیوں نے بدھ کو 2 گھنٹے تک بھرپور ٹریننگ کی، اس دوران زیادہ تر توجہ اٹیکنگ لائن کی مضبوطی تھی، پنالٹی کارنر کو بھی ہر صورت مہلک بنانے کیلیے مشق کی گئی،کپتان محمد عمران کا کہنا ہے کہ تمام کھلاڑی اہم میچ جیت کر قوم کی امیدوں پر پورا اترنے کیلیے بے تاب ہیں۔ بھارتی ٹیم کے آسٹریلوی کوچ ٹیری والش نے بھی فتح کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری طرف سابق پاکستانی اسٹارز نے ایشین گیمز کے ابتدائی دونوں مقابلوں میں شاندار کارکردگی کی بنا پر گرین شرٹس کو فیورٹ قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق پاک بھارت کھیلوں کے مقابلوں کو خاص اہمیت حاصل ہے، میچ چاہے دنیا میں کہیں بھی کھیلا جائے دونوں ممالک کے عوام سمیت دنیا بھرکے کروڑوں شائقین دل تھام کر بیٹھ جاتے ہیں۔ جنوبی کوریا میں جاری ایشین گیمز کے ہاکی ایونٹ میں ایسا ہی جمعرات کو ہونے جارہا ہے،جہاں گروپ بی میں شامل روایتی حریف ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔ میچ پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے شروع ہوگا۔ دونوں ٹیمیں ایونٹ میں ابتدائی مقابلوں میں سرخرو ہیں، گرین شرٹس نے سری لنکا کو 14 اور چین کو 2 گول سے زیر کیا۔
بھارتی سائیڈ سری لنکا کیخلاف 8 اور اومان پر7 گولز سے کامیاب ہوئی۔ دونوں ٹیمیں آخری بار ایشین گیمز کے گذشتہ ایڈیشن میں آمنے سامنے آئیں تھیں جس میں بھارت نے3-2 سے کامیابی حاصل کی، مقابلوںکی تاریخ میں پاکستان نے 8 بار گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ حریف ٹیم 2 بار ہی ٹائٹل جیت سکی، پاکستان نے ایشین گیمز کے ٹائٹل معرکے میں 8 میں سے 7 بار روایتی حریف ٹیم کو مات دی، آخری بار چار سال قبل گرین شرٹس نے ملائیشیا پر 2-0 سے قابو پاتے ہوئے گولڈ میڈل پایا تھا، فائنل میں بھارتی ٹیم صرف ایک بار پاکستان کو ہرا سکی۔
دوسری طرف پاکستانی کپتان محمد عمران نے کہاکہ بھارت کیخلاف گروپ میچ ہو یا فائنل ہمیشہ ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، دنوں ممالک کی عوام ہر صورت فتح چاہتی ہے، عوامی توقعات کے نتیجے میںکھلاڑی بھی اضافی دباؤ محسوس کرتے ہیں لیکن شاندار کارکردگی سے راتوں رات ہیرو بننے کا موقع انھیں صلاحیتوں سے بڑھ کر پرفارم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ انچیون سے نمائندہ '' ایکسپریس'' کو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ سری لنکا اور چین کو زیر کرنے کے بعد تمام کھلاڑیوں کا مورال بلند ہے، بھارت پر فتح کے ساتھ سیمی فائنل میں باوقار طریقے سے رسائی چاہتے ہیں، انھوں نے کہا کہ ہم ہر میچ فائنل سمجھ کر کھیل رہے ہیں، حریف چاہے بھارت ہو یا کوئی اور ہمارا مشن فتح حاصل کرنا ہے۔
عمران نے کہا کہ ہر بھارتی کھلاڑی کی کارکردگی پر نظر ہے، کپتان سردار سنگھ اور پنالٹی کارنر اسپیشلسٹ روپندر پال سنگھ کو قابو میں کرنے کی کوشش کریں گے،امید ہے کہ کامیابی کے ساتھ قوم کو خوشخبری دیں گے۔ ایک سوال پر محمد عمران نے کہا کہ ہمارے پاس ایسے باصلاحیت فارورڈز موجود ہیں جو روایتی حریف دفاع کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیں گے ۔ دوسری جانب بھارتی ہاکی ٹیم کے آسٹریلوی کوچ ٹیری والش نے روایتی حریفوں کی جنگ کو فائنل سے قبل فائنل قرار دیا، انھوں نے کہا کہ ہمیں حریف سائیڈ کی انٹرنیشنل مقابلوں سے دوری کا فائدہ حاصل ہوگا۔
کامن ویلتھ گیمز میں برانز میڈل بھی کھلاڑیوں میں شاندار کھیل کیلیے جستجو پیدا کرے گا۔ دریں اثنا اہم میچ میں سابق پاکستانی اسٹارز نے قومی ٹیم کو فیورٹ قرار دے دیا، سابق کپتان اولمپئن سمیع اللہ خان نے کہا کہ دفاعی چیمپئن کیلیے جمعرات کا میچ ہرگز آسان نہیں ہوگا، البتہ فتح کی صورت میں کھلاڑیوںکے حوصلے بلند ہوجائیں گے جس کا آئندہ میچز میں مثبت اثر پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ 11 ماہ بعد انٹرنیشنل میچ کھیلنے والی پاکستانی ٹیم نے اب تک ایونٹ میں سری لنکا ور چین کی کمزور ٹیموں کے خلاف کامیابی پائی، اصل امتحان بھارت کے خلاف ہوگا جس کے لیے قومی ٹیم کو اپنا دفاع مضبوط تر بنانے کی ضرورت ہے، فارورڈ کو بھی ملنے والے مواقع سے بھر پور فائدہ اٹھانا ہوگا، چین کے خلاف پنالٹی کارنرز ضائع کرنے جیسی غلطی دوبارہ کی تو نقصان ہوگا۔
انھوں نے کہا کوریا اور ملائیشیا بھی آسان حریف نہیں لیکن بھارت کے خلاف مقابلہ اہم ہے۔ قومی ہاکی ٹیم کے ایک اور سابق کپتان اولمپئن حسن سردار نے کہا کہ بھارت کیخلاف میچ میں جارحانہ کھیل اپنانا ہوگا، یورپی طرز پر کھیلنے والی بھارتی ٹیم ہمارے کھلاڑیوں کو کھل کر صلاحیتیں آزمانے کا موقع نہیں دے گی،انھوں نے کہا کہ متوقع سخت مقابلے میں پاکستان کو حریف ٹیم کے پنالٹی کارنرز روکنے کے لیے خصوصی حکمت عملی تیار کرنا ہوگی، یہ مقابلہ ایک آزمائش ہے۔ اولمپئن ریحان بٹ نے قومی ٹیم کی ابتدائی 2 میچزکی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پلیئرز بھارت کو بھی زیر کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔