سابق اکاؤنٹس آفیسر کو بچانے کیلئے ایڈمنسٹریٹر وسطی سرگرم نام نہاد کمیٹی تشکیل
کمیٹی کروڑوں روپے کی خوردبردکاسراغ لگا کر ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کریگی،ایک کمیٹی رکن پرکرپشن کی تحقیقات جاری ہیں
کمیٹی کا قیام کمال احمداورمصطفی کمال کی ناصرخان کوبچانے کی منصوبہ بندی ہے،نیب مالیاتی اسکینڈل کی تحقیقات کرے،ملازمین فوٹـو: فائل
ISTANBUL:
سابق اکاؤنٹس آفیسر بلدیہ وسطی کو بچانے کے لیے ادارے کے ایڈمنسٹریٹر نے نام نہاد 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی جو کروڑوں روپے کی خوردبرد کا سراغ لگا کر ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کریگی۔
تفصیلات کے مطابق بلدیہ وسطی میں سابق اکاؤنٹس آفیسر ناصر خان کی مبینہ کرپشن اور کروڑوں روپے خوردبرد کا معاملہ منظر عام پر آنے کے حوالے سے ایڈمنسٹریٹر بلدیہ وسطی کمال احمد نے ایک 3 رکنی خود ساختہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے اس حوالے سے رابطہ کرنے پر انھوں نے کمیٹی تشکیل دیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کہ 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی جس میں ڈائریکٹر پارکس ندیم، فنانس آفیسر حبیب راجپوت اور ٹیکسیشن آفیسر شمونہ صدف شامل ہیں جو کہ اپنی رپورٹ ایک ہفتے میں انھیں پیش کریں گے۔
ایڈمنسٹریٹر بلدیہ وسطی کمال احمد کی جانب سے تشکیل دی جانے والی خود ساختہ تحقیقاتی کمیٹی کے قیام پر بلدیہ وسطی کے افسران و ملازمین نے انتہائی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے نہ صرف ایک مذاق قرار دیا بلکہ سابق اکاؤنٹس آفیسر بلدیہ وسطی ناصر خان کو بچانے کی انتہائی منظم منصوبہ بندی قراردیا ہے، قائم کی جانے والی کمیٹی میں حیرت انگیز طور پر شامل خاتون رکن شمونہ صدف خود تحقیقات کا سامنا کر رہی ہیں اور اس حوالے سے گزشتہ سال نومبر میں لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ سندھ کی جانب سے سابق ایڈمنسٹریٹر بلدیہ وسطی آفاق سعید اورشمونہ صدف کی بحالی کے حوالے سے جاری کیے جانے والے خط میں تحریرہے کہ دونوں افسران کو بحال تو کیا جارہا ہے تاہم ان کے خلاف تحقیقات زیر التوا ہیں۔
اعلیٰ حکام نے آفاق سعید اور شمونہ صدف کو ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کرنے اور قانونی کارروائی کیے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے دونوں کو معطل کردی اتھا، بلدیہ وسطی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر کی جانب سے قائم کی جانے والی خود ساختہ کمیٹی دراصل سابق اکاؤنٹس آفیسر کو بچانے کی کوشش ہے اور اس دباؤ کو بھی کم کرنا ہے جو سابق اکاؤنٹس آفیسر کی کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کی وجہ سے انھیں برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لوٹ کھسوٹ کے اس گھناؤنے کھیل کا مرکزی کردار سابق اکاؤنٹس آفیسر بتایا جاتا ہے اور اسے بچانے کے لیے ایڈمنسٹریٹر کمال احمد اور میونسپل کمشنر مصطفی کمال انتہائی سرگرم ہیں تاکہ کسی بھی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے نتیجے میں مشترکہ کرپشن کے راز باہر نہ آجائیں، ایڈمنسٹریٹر کمال احمد کی جانب سے قائم کی جانے والی خود ساختہ تحقیقاتی کمیٹی پر بلدیہ وسطی کے افسران و ملازمین مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات ایف آئی اے،نیب یا اینٹی کرپشن سے کرائی جائے تاکہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد کروڑوں کی کرپشن کے اصل کرداروں کا تعین کیا جائے۔
سابق اکاؤنٹس آفیسر بلدیہ وسطی کو بچانے کے لیے ادارے کے ایڈمنسٹریٹر نے نام نہاد 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی جو کروڑوں روپے کی خوردبرد کا سراغ لگا کر ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کریگی۔
تفصیلات کے مطابق بلدیہ وسطی میں سابق اکاؤنٹس آفیسر ناصر خان کی مبینہ کرپشن اور کروڑوں روپے خوردبرد کا معاملہ منظر عام پر آنے کے حوالے سے ایڈمنسٹریٹر بلدیہ وسطی کمال احمد نے ایک 3 رکنی خود ساختہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے اس حوالے سے رابطہ کرنے پر انھوں نے کمیٹی تشکیل دیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کہ 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی جس میں ڈائریکٹر پارکس ندیم، فنانس آفیسر حبیب راجپوت اور ٹیکسیشن آفیسر شمونہ صدف شامل ہیں جو کہ اپنی رپورٹ ایک ہفتے میں انھیں پیش کریں گے۔
ایڈمنسٹریٹر بلدیہ وسطی کمال احمد کی جانب سے تشکیل دی جانے والی خود ساختہ تحقیقاتی کمیٹی کے قیام پر بلدیہ وسطی کے افسران و ملازمین نے انتہائی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے نہ صرف ایک مذاق قرار دیا بلکہ سابق اکاؤنٹس آفیسر بلدیہ وسطی ناصر خان کو بچانے کی انتہائی منظم منصوبہ بندی قراردیا ہے، قائم کی جانے والی کمیٹی میں حیرت انگیز طور پر شامل خاتون رکن شمونہ صدف خود تحقیقات کا سامنا کر رہی ہیں اور اس حوالے سے گزشتہ سال نومبر میں لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ سندھ کی جانب سے سابق ایڈمنسٹریٹر بلدیہ وسطی آفاق سعید اورشمونہ صدف کی بحالی کے حوالے سے جاری کیے جانے والے خط میں تحریرہے کہ دونوں افسران کو بحال تو کیا جارہا ہے تاہم ان کے خلاف تحقیقات زیر التوا ہیں۔
اعلیٰ حکام نے آفاق سعید اور شمونہ صدف کو ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کرنے اور قانونی کارروائی کیے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے دونوں کو معطل کردی اتھا، بلدیہ وسطی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر کی جانب سے قائم کی جانے والی خود ساختہ کمیٹی دراصل سابق اکاؤنٹس آفیسر کو بچانے کی کوشش ہے اور اس دباؤ کو بھی کم کرنا ہے جو سابق اکاؤنٹس آفیسر کی کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کی وجہ سے انھیں برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لوٹ کھسوٹ کے اس گھناؤنے کھیل کا مرکزی کردار سابق اکاؤنٹس آفیسر بتایا جاتا ہے اور اسے بچانے کے لیے ایڈمنسٹریٹر کمال احمد اور میونسپل کمشنر مصطفی کمال انتہائی سرگرم ہیں تاکہ کسی بھی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے نتیجے میں مشترکہ کرپشن کے راز باہر نہ آجائیں، ایڈمنسٹریٹر کمال احمد کی جانب سے قائم کی جانے والی خود ساختہ تحقیقاتی کمیٹی پر بلدیہ وسطی کے افسران و ملازمین مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات ایف آئی اے،نیب یا اینٹی کرپشن سے کرائی جائے تاکہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد کروڑوں کی کرپشن کے اصل کرداروں کا تعین کیا جائے۔