اصلی لندن پلان پی پی اور ن لیگ نے میثاق جمہوریت کے نام سے بنا یا عمران خان

دونوں جماعتوں نے مک مکا کیا کہ پہلے تمھاری پھر ہماری باری، تم ہمیں تنگ نہ کرنا ہمیں تمہیں نہیں کرینگے، عمران خان

بلاول کو ملتان میں اتنا پروٹوکول دیا گیا جو قائداعظم کو بھی نہ ملتا، چیرمین تحریک انصاف۔ فوٹو؛ فائل

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ آج لندن پلان کی باتیں کرنیوالوں کو اصلی لندن پلان کے بارے میں بتاتا ہوں کہ لندن پلان تو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے ملکر2007 میں ''چارٹر آف ڈیموکریسی'' (میثاق جمہوریت) کے نام سے بنایا تھا۔

جس میں دونوں جماعتوں نے مک مکا کر لیا تھا، میں نے تو ان جماعتوں کو بھگانے کیلئے18سال پہلے منصوبہ بنایا تھا کہ ان دونوں کی وکٹیں ایک ہی گیند سے اڑائیں گے، جمعہ کو دنیا کے سب سے لمبے دھرنے کا ریکارڈ بنائیں گے، لاہور میں سیاسی شعور ہے اس لئے اتوار کا جلسہ تاریخی ہونے جا رہا ہے۔ ڈی چوک میں دھرنے سے خطاب کرے ہوئے انھوں نے کہا ہم نواز شریف کے استعفے تک یہاں موجود رہیں گے، کسی دوسری جماعت کے پاس تحریک انصاف جیسے کارکن نہیں ہیں، آپ کی جگہ دوسرے ہوتے تو اولے پڑتے ہی بھاگ جاتے۔ بلاول بھٹو زرداری کے پاس تو کوئی سرکاری عہدہ بھی نہیں ہے لیکن اس کو ملتان میں پروٹوکول دینے کیلیے ساڑھے 7 سو پولیس والے بھیجے گئے۔


عمران خان نے کہا کہ ایک بچے کو اتنا پروٹوکول دے دیا گیا جو قائداعظم کو بھی نہ ملتا، سرائیکی صوبے کی بات کرنیوالے سندھ میں انتظامی یونٹس بنانے کی بات کی مخالفت کرتے ہیں، ایسے لوگوں کو اتنا بڑا پروٹوکول لیتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ دونوں پارٹیاں اکٹھی ہو چکی ہیں کیونکہ دونوں جانتے ہیں کہ عمران خان آ گیا تو ان کی نورا کشتی ختم ہو جائے گی، انھیں ڈر ہے ہم احتساب شروع کر دیں گے، یہ ایک دوسرے کی چوری چھپانے پر لگے ہوئے ہیں۔ ہم آگئے ہیں اور ان دونوں کی وکٹیں ایک ہی گیند پر اڑائیں گے۔

انھوں نے کہا اتنا لمبا دھرنا دینے کا پلان کوئی احمق ہی بنا سکتا ہے اور وہ بھی لندن میں بیٹھ کر، میں نے ان چوروں اور لٹیروں کو گھر بھیجنے کا فیصلہ کیا اور یہ پلان میں نے لندن میں بیٹھ کر نہیں بنایا یہ منصوبہ تو میں نے 18سال پہلے بنایا تھا۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ پہلی باری تمہاری پھر باری ہماری، تم ہمیں تنگ نہ کرنا ہمیں تمہیں کچھ نہیں کہیں گے، اسی پلان کو 'چارٹر آف ڈیموکریسی،کا نام دیاگیا اور طے کیاگیا کہ نیب کا سربراہ بھی ہم دونوں آپس میں مل کر لگائیں گے تاکہ کسی کا احتساب نہ کیا جا سکے، حدیبیہ پیپر ملز کیس میں نواز شریف کو بری کیاجانا اسی کا حصہ تھا۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ہر صوبے میں ہمارا اپنا اپنا الیکشن کمیشن کا ممبر ہو گا اور نگران حکومت بھی آپس میں مل کر بنائیں گے، اسی منصوبے کے تحت 2013کے انتخابات میں بھی دھاندلی ہوئی، ن لیگ نے پنجاب میں دھاندلی کی اور پیپلز پارٹی نے سند ھ میں اپنا زور چلایا، دونوں پارٹیوں نے حکومت میں رہنے کا منصوبہ مکمل کر دکھایا ہے۔
Load Next Story