منی پاکستان امن سے محروم کیوں

منی پاکستان کی سلامتی ملکی سالمیت اور قومی یکجہتی سے منسلک ہے

قتل و غارت گری کا تشویش ناک پہلو یہ بھی ہے کہ مرنے والے کسی سیاسی اور دوسری تنظیم سے وابستگی نہ رکھنے کے باوجود روزانہ مارے جا رہے ہیں. فوٹو: فائل

منی پاکستان میں موت کا خونیں رقص انتہا کو پہنچ گیا ہے جسے شہر قائد کی سماجی اور سیاسی تاریخ میں درد انگیز اورغیر انسانی صورتحال سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

سوچنے کا مقام ہے کہ کیا قانون کی حکمرانی کا خواب ایسے آشوب زدہ میگا سٹی میں قائم ہونے کا وہ دل گرفتہ اور پریشاں حال شہری سوچ سکتے ہیں جہاں ہر صبح سورج ان کے لیے موت کا اچانک پیغام لے آئے۔

بدھ کو 16 افراد تشدد، فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ کی نذر ہوئے اور جمعرات کو مزید افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا، اور یہ سب کچھ اس دل کشا شہر میں ہو رہا ہے جسے منی پاکستان کہا جاتا ہے اور جو ملکی معیشت کی شہ رگ ہے۔

جسے در حقیقت بعض نا دیدہ قاتل انارکی، لاقانونیت، پر تشدد اور اشتعال انگیز کارروائیوں سے ذبح کر رہے ہیں اور ان کا ہاتھ روکنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا جب کہ یہ دردناک صورتحال سیاسی کارکنوں و بیگناہ لوگوں کی بلا جواز ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ جمہوری عمل اور ملکی سالمیت کو لاحق ہونے والے خطرات کا الٹی میٹم ہے۔

منی پاکستان کی سلامتی ملکی سالمیت اور قومی یکجہتی سے منسلک ہے۔ کراچی کا دکھ ہر جگہ محسوس کیا جاتا ہے۔ جو میتیں سندھ سے ملک کے بالائی حصوں پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان پہنچتی ہیں ان سے بے پناہ انسانی مسائل، اندیشے اور المیے جنم لیتے ہیں۔ قتل و غارت گری کا تشویش ناک پہلو یہ بھی ہے کہ مرنے والے کسی سیاسی اور دوسری تنظیم سے وابستگی نہ رکھنے کے باوجود روزانہ مارے جا رہے ہیں، اور کسی کی داد رسی نہیں ہو رہی۔

قاتل شہر میں دندناتے پھرتے ہیں، ہر جگہ اسلحہ موجود ہے۔ ساری رعونت اسی غیر قانونی اسلحہ نے پیدا کی ہے۔ جب کہ سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں کے حوالے سارا شہر کر کے آخر کس قسم کے پر امن، جمہوری معاشرہ اور بلدیاتی نظام کی تشکیل کے دعوے کیے جاتے ہیں۔

امن ہو گا، ہلاکتیں رکیں گی تبھی حکومت مسائل کے حل پر توجہ دے سکے گی مگر حالات تو کسی اور نہج پر جا رہے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ سے کراچی میں ہولناک ہلاکتوں سے پیدا شدہ انسانی مصائب و آلام کا ہر پہلو سے جائزہ لینا چاہیے۔


یوں بھی کراچی اب مائی کولاچی کے ماہی گیروں کی چھوٹی بستی نہیں رہی، اس کی آمریتوں کے خلاف جدوجہد کی ایک سیاسی شناخت تھی، یہ ایک زندہ، متحرک اور بندہ نواز شہر کی بربادی کا منظر نامہ ہے۔

منی پاکستان سیاسی، فکری، نظریاتی اور مزاحمتی سیاست کا قلعہ تھا جسے آمریتوں نے تقسیم در تقسیم کر کے قتل گاہ بنا دیا۔ اس لیے خدارا سیاسی و جمہوری قوتیں سب ایک مقتل میں بے بسی کی تصویر بن کر نہ بیٹھیں۔

قانون شکن عناصر پر ٹوٹ پڑیں، اگر ہلاکتوںکی گزشتہ خبروں کی ترتیب دیکھی جائے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ شہرمیں کسی کی جان محفوظ نہیں، مافیائوں کے کارندے گنیں اٹھائے معصوم شہریوں کا شکار کرتے پھر رہے ہیں۔

ڈیڑھ کروڑ کی آبادی والے اس مختلف الخیال لیکن وسیع المشرب انسانوں کے مسکن کو روزگار، ترقی، معاشی سکون اور زندگی کا تحفظ درکار ہے مگر صورتحال روز بروز بگڑتی جا رہی ہے، لہٰذا قتل و غارتگری میں ملوث عناصر کی سرکوبی میں تاخیر نہ ہو۔

بلاشبہ ٹارگیٹڈ کارروائی کے تحت رینجرز کے چھاپے جاری ہیں، گینگ وار سمیت سیاسی تنظیموں اور دیگر ٹارگٹ کلرز کو حراست میں لینے کی اطلاعات ہیں مگر مجرموں کو لوگ کیفر کردار تک پہنچتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

رینجرز اور پولیس میں اشتراک عمل کا فقدان کیوں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہلاکتیں روکنے کے لیے صدر، وزیراعظم، گورنر و وزیراعلیٰ سندھ بلا تاخیر آئی جی پولیس اور ڈی آئی جی رینجرزکو قاتلوں کا پیچھا کرنے کا حکم دیں ۔

عوام کم از کم دیکھ تو لیں کہ شہریوں کے قاتل کون ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ منی پاکستان کو بچانے کے لیے سیاسی اسٹیک ہولڈرز کا فیصلہ کن اہم اجلاس جلد بلایا جائیگا تا کہ قتل و غارتگری کی روک تھام کے لیے ایک نکاتی ایجنڈا تیار ہو اور اس کے تحت شہر میں امن قائم کرنے کے لیے فری ہینڈ آپریشن شروع کیا جائے۔

مفاہمانہ اور اتحادی سیاست سے مکینوں کو امن، انصاف اور تشدد سے پاک سیاسی ماحول نہ ملا تو سارا جمہوری عمل غیر موثر ہو جائیگا۔ اس بربادی سے بچنا چاہیے۔ مسئلہ پاکستان کی سلامتی، عوام کے تحفظ اور معیشت کے استحکام کا ہے۔
Load Next Story