معصوم بچوں کی گرفتاری باعث تشویش

شنید ہے ایک خاتون اپنے کمسن طالب علم بیٹے دانش جاوید کی گرفتاری پر حالت مرگ میں ہے ۔۔۔

شنید ہے ایک خاتون اپنے کمسن طالب علم بیٹے دانش جاوید کی گرفتاری پر حالت مرگ میں ہے. فوٹو: فائل

کراچی میں دہشت گردی ،اسٹریٹ کرائم اور ٹارگٹ کلنگ کے تسلسل نے شہر یوں کی نیندیں حرام کردی ہیں، منی پاکستان میں اسٹریٹ کرائم حد سے بڑھ گئے، دیگر علاقوں سمیت چنیسر گوٹھ اورکالا پل کا علاقہ جہاں رینجرز کا ہیڈکوارٹر بھی ہے اسٹریٹ کرائم کا گڑھ بنا ہوا ہے۔


یہ ساری صورتحال برس ہا برس کی مجرمانہ غفلت اور جرائم پیشہ عناصر کی سیاسی چھتری تلے آنے کا ہولناک نتیجہ ہے اور جس پر سپریم کورٹ کراچی میں مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے فیصلہ ساز رولنگ بھی دے چکی ہے، آئی جی سندھ پولیس غلام حیدر جمالی نے کہا ہے کہ کراچی میں موجود غیر قانونی اسلحہ پولیس کے لیے چیلنج ہے تاہم اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے جس شفاف تفتیش اور عدالتی انصاف کی ضرورت ہے وہ ہدف پورا نہیں ہوا، بھتہ خور مافیا دیدہ دلیری سے وارداتیں کررہی ہے ۔ ٹارگٹ کلنگ روز ہوتی ہے ۔ پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن جاری ہے مگر اس کی سمت کے تعین کی ضرورت ہے، لیاری میں گینگ وار ملزمان اور منشیات فروشوں کو رشوت لے کر چھوڑے جانے کی رپورٹیں میڈیا کو مل رہی ہیں جب کہ گذری کے مکینوں نے گزشتہ روز بیگناہ معصوم طالب علموں اور کمسن بچوں کو بلاوجہ گرفتار کرکے لاپتا کرنے پر شدید احتجاج کیا ۔

شنید ہے ایک خاتون اپنے کمسن طالب علم بیٹے دانش جاوید کی گرفتاری پر حالت مرگ میں ہے، جب کہ علاقہ مکینوں نے پنجاب چورنگی کو 5 گھنٹے بلاک کردیا ، کلفٹن اور ڈیفنس جانے والے راستے بند رہے ۔بلاشبہ شہر میں ایم کیو ایم سمیت دیگر متاثرہ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے لاپتا کیے جانے سے شہر میں داخلی اضطراب اور بدامنی کا شدید خطرہ ہے ۔ یہ درست ہے کہ کرمنل عناصر کے خلاف آپریشن جاری ہے ،اس کے جزوی نتائج بھی پولیس اور رینجرز حکام کو مل رہے ہیں ، مگر سوال یہ ہے کہ معصوم اور بیگناہ بچوں اور کمسن لڑکوں کو کس جرم کی پاداش میں گھر سے اور راہ چلتے اٹھا کر غائب کیا جاتا ہے،اس ضمن میں متحدہ اور دیگر سیاسی و سماجی تنظیموں کی دردمندانہ اپیلوں پر حکام کو فوری توجہ دینی چاہیے ۔
Load Next Story