انٹر کامرس ریگولر کے نتائج کا اعلان لڑکے بازی لے گئے

ابتدائی5پوزیشنزنجی کالجوں نے حاصل کرکے سرکاری کالجوں کوپیچھے چھوڑ دیا

انٹر کامرس کے امتحانات میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے احسن امین ،دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے کمیل حسین اورتیسری پوزیشن کے حقدار محمد حسین۔ فوٹو : ایکسپریس

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے ناظم امتحانات عمران چشتی نے انٹرسال دوم کامرس گروپ ریگولر۔

ڈپلومہ ان فزیکل ایجوکیشن کے سالانہ امتحانات برائے سال2012 کے نتا ئج جاری کردیے ہیں۔

جاری کردہ نتائج کے مطابق پری میڈیکل کے بعد اب انٹرکامرس میں بھی شہرکے سرکاری کالج پوزیشن کی دوڑسے باہرہوگئے ہیں۔

ابتدائی5 پوزیشنز نجی کالجوں نے حاصل کرکے سرکاری کالجوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جبکہ پہلی چار پوزیشنز لڑکوں نے حاصل کیں، بورڈ کے ناظم امتحانات عمران چشتی کی جانب سے جاری کیے گئے نتائج کے مطابق انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایجوکیشن نے پہلی چار پوزیشنز حاصل کی ہیں۔

جبکہ چوتھی پوزیشن مشترکہ طور پر انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایجوکیشن اورکامکس انسٹیٹیوٹ نے حاصل کی۔

پانچویں پوزیشن ڈی اے ڈگری کالج برائے خواتین نے حاصل کی، نتائج کے مطابق کامرس ریگولرکے امتحانات میں انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایجوکیشن کے امیدوار احسن امین ولد محمد امین سیٹ نمبر 714323 نے کل 1100میں سے922 نمبرز حاصل کرکے 83.81 فیصد کے ساتھ پہلی،کمیل حسین ولد غلام حسین سیٹ نمبر714290 نے 917 نمبر اور 83.36 فیصدکے ساتھ دوسری اورمحمد حسین ولد سجاد حسین سیٹ نمبر 714320 نے 904 نمبرز 82.18 فیصد کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی ،سیٹ نمبر 714297 میثم نقی ولد محمد حسین اور سیٹ نمبر 713278 کامکس انسٹیٹیوٹ کے حیدر حسین ولد سید الطاف نے 901 نمبر اور 81.90 فیصدکے ساتھ مشترکہ طور پر چوتھی پوزیشن لی۔


جبکہ ڈی اے ڈگری کالج برائے خواتین کی سیٹ نمبر 727672 سارہ جہانگیر بنت جہا نگیرگلزار نے899 نمبر اور 81.72 فیصد کے ساتھ پانچویں پوزیشن حاصل کی،اس امتحان میں مجموعی طور پرکل 32423 طلبہ و طالبات نے رجسٹریشن حاصل کر کے 32074 نے شرکت کی۔

جس میں80 امیدواروں نے گریڈ ''اے ون''، 1082 نے گریڈ ''اے''، 3398 نے گریڈ ''بی''، 6353 نے گریڈ ''سی''، 5776 نے گریڈ ''ڈی'' اور 481نے گریڈ ''ای''میںکامیابی حاصل کی،اس طرح شرح تناسب 53.53 فیصد رہا جبکہ ڈپلومہ ان فزیکل ایجوکیشن میں کل22 امیدوار شریک تھے۔

جن میں کوئی بھی امیدوار اے ون گریڈ حاصل نہیںکرسکا، صرف ایک امیدوار نے گریڈ ''اے''حاصل کیا جبکہ 15نے گریڈ ''بی''اور 6 نے گریڈ ''سی''میںکامیابی حاصل کی،دریں اثنا اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین پروفیسر انوار احمد زئی نے کہا ہے کہ کامرس کے مضمون میں طلبا کی غیرمعمولی دلچسپی اوردیگرگروپس کے مقابلے میں اس فیکلٹی میں امیدواروں کی بڑھتی ہوئی تعدادکی وجہ سے کالجوںاور ہائر سیکنڈری اسکولوں میں اسی تناسب سے سہولیات کی فراہمی وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔

وہ ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (بارہویں کلاس) کے کامرس کے سالانہ امتحان برائے سال 2012 کے نتائج کے اعلان کے موقع پر پوزیشن حاصل کرنے والے امیدواروں کیلیے منعقدہ تقریب میں صدارتی خطاب کررہے تھے،اس موقع پر سیکریٹری بورڈ حیدرعلی نوین، ناظم امتحانات عمران چشتی ودیگر بھی موجود تھے۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت دیگرگروپس کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ امیدوار کامرس کے مضمون میں شریک ہوئے ہیں،چیئرمین بورڈ کا کہنا تھا کہ اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کے شعبہ ریسرچ نے مکمل جائزے کے بعد بتایا ہے کہ جس طرح میڈیکل کی فیکلٹی میں صنفی عدم تناسب نے مسئلہ پیدا کیا ہوا ہے اس طرح کامرس کے لیے طلبا کے غیرمعمولی رجحان کے سبب اس مضمون کیلیے ممتحن کی فراہمی مشکل ہوگئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ کامرس کے شعبے میں طلبا کو آگے جانے کے لیے مختلف راہیں میسر ہیں جبکہ میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبوں میں دیگر راستوںکا انتخاب نظر نہیں آتا،پروفیسر انوار احمد زئی نے بتایا کہ بورڈ نے سرکاری یا نجی تعلیمی اداروں کی مجموعی کارکردگی کا گذشتہ تین سال پر مشتمل جائزہ بھی مرتب کرلیا ہے جسے بورڈ کی مجاز اتھارٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔

بہتر نتائج دینے والے تعلیمی اداروں کو شیلڈ دینے اور ان کے سربراہوںکو اسناد جاری کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاہم تمام تعلیمی اداروں میں تعلیمی نگرانی کا خاطر خواہ نظام ہونا ضروری ہے ،کم وقت میں شفاف نتائج کا اجرا ناظم امتحانات عمران چشتی اور انکی ٹیم کی کارکردگی کا بہترین ثبوت ہے۔
Load Next Story