انٹر بورڈ مسلح گروپ کی فائرنگ اور گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے
بورڈ میں محض کھانے سے روکنے اوراسے چھیننے کی کوشش میں ناکامی کے بعد ایک مسلح گروپ نے انتظامی عمارت پردھاوابول دیا
فائرنگ سے انتظامی عمارت کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کونقصان پہنچا. فوٹو: فائل
SRINAGAR:
سندھ کے تعلیمی بورڈزکی کنٹرولنگ اتھارٹی حکومت سندھ کی جانب سے انٹربورڈ میں کئی سال سے جرائم پیشہ افراد کی جانب سے جاری وارداتوں کانوٹس نہ لیے جانے کے سبب بورڈ کی صورتحال ابترہوگئی ہے۔
جمعرات کوبورڈ میں محض کھانے سے روکنے اوراسے چھیننے کی کوشش میں ناکامی کے بعد ایک مسلح گروپ نے انتظامی عمارت پردھاوابول دیا۔
بورڈ کی انتظامی عمارت اور اس کے قریب کھڑی گاڑیوں پر اندھادھندفائرنگ کی ،فائرنگ سے انتظامی عمارت کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کونقصان پہنچا ،فائرنگ سے بورڈکے نتائج کی کوریج کیلیے وہاں پہنچنے والے ایک سینئرصحافی کی گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچااورگاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ ملازمین میں شدید خوف وہراس پھیل گیا۔
جمعرات کواعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں انٹرکامرس ریگولرکے نتائج کے اجرا کے موقع پر پوزیشن ہولڈرزطلبا کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کی کوریج کیلیے ذرائع ابلاغ سے وابستہ صحافی ،پرنسپلزاور اساتذہ سمیت بڑی تعداد میں لوگ وہاں موجود تھے ۔
تقریب ختم ہونے کے بعد ظہرانے کے موقع پربورڈمیں مافیا کی صورت میں موجود ایک گروپ کی جانب سے کھانا لے جانیوالے ایک ملازم سے اسے چھیننے کی کوشش کی گئی جس پر ملازمین اورمتعلقہ افراد کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی بعد ازاں ان افراد نے بورڈ کی سماعت گاہ سے نکل کرانتظامی عمارت کے باہر فائرنگ کردی فائرنگ کاسلسلہ 5 منٹ تک جاری رہا۔
فائرنگ کے نتیجے میں ملازمین ،افسران اورتقریب میں شرکت کے لیے آئے ہوئے افراد میں خوف وہراس پھیل گیا،ملازمین نے فائرنگ سے بچنے کیلیے زمین پرلیٹ کر جان بچائی ، ملازمین اور افسران اپنے دفاترمیں محصورہوگئے جبکہ فائرنگ کرنے والے افرادباآسانی وہاں سے فرارہوگئے۔
بعدازاں پولیس اوررینجرز نے جائے وقوع پرپہنچ کرواقعے کی تفتیش شروع کردی تھی تاہم شاہراہ نورجہاں تھانے کے ڈیوٹی افسرسب انسپکٹرعبدالحمید کے مطابق مذکورہ واقعے کیخلاف کسی گروپ کی جانب سے کوئی درخواست جمع نہیںکرائی گئی ہے۔
سندھ کے تعلیمی بورڈزکی کنٹرولنگ اتھارٹی حکومت سندھ کی جانب سے انٹربورڈ میں کئی سال سے جرائم پیشہ افراد کی جانب سے جاری وارداتوں کانوٹس نہ لیے جانے کے سبب بورڈ کی صورتحال ابترہوگئی ہے۔
جمعرات کوبورڈ میں محض کھانے سے روکنے اوراسے چھیننے کی کوشش میں ناکامی کے بعد ایک مسلح گروپ نے انتظامی عمارت پردھاوابول دیا۔
بورڈ کی انتظامی عمارت اور اس کے قریب کھڑی گاڑیوں پر اندھادھندفائرنگ کی ،فائرنگ سے انتظامی عمارت کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کونقصان پہنچا ،فائرنگ سے بورڈکے نتائج کی کوریج کیلیے وہاں پہنچنے والے ایک سینئرصحافی کی گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچااورگاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ ملازمین میں شدید خوف وہراس پھیل گیا۔
جمعرات کواعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں انٹرکامرس ریگولرکے نتائج کے اجرا کے موقع پر پوزیشن ہولڈرزطلبا کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کی کوریج کیلیے ذرائع ابلاغ سے وابستہ صحافی ،پرنسپلزاور اساتذہ سمیت بڑی تعداد میں لوگ وہاں موجود تھے ۔
تقریب ختم ہونے کے بعد ظہرانے کے موقع پربورڈمیں مافیا کی صورت میں موجود ایک گروپ کی جانب سے کھانا لے جانیوالے ایک ملازم سے اسے چھیننے کی کوشش کی گئی جس پر ملازمین اورمتعلقہ افراد کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی بعد ازاں ان افراد نے بورڈ کی سماعت گاہ سے نکل کرانتظامی عمارت کے باہر فائرنگ کردی فائرنگ کاسلسلہ 5 منٹ تک جاری رہا۔
فائرنگ کے نتیجے میں ملازمین ،افسران اورتقریب میں شرکت کے لیے آئے ہوئے افراد میں خوف وہراس پھیل گیا،ملازمین نے فائرنگ سے بچنے کیلیے زمین پرلیٹ کر جان بچائی ، ملازمین اور افسران اپنے دفاترمیں محصورہوگئے جبکہ فائرنگ کرنے والے افرادباآسانی وہاں سے فرارہوگئے۔
بعدازاں پولیس اوررینجرز نے جائے وقوع پرپہنچ کرواقعے کی تفتیش شروع کردی تھی تاہم شاہراہ نورجہاں تھانے کے ڈیوٹی افسرسب انسپکٹرعبدالحمید کے مطابق مذکورہ واقعے کیخلاف کسی گروپ کی جانب سے کوئی درخواست جمع نہیںکرائی گئی ہے۔