بلاول بھٹو کے لیے چیلنج

بلاول بھٹو کے سامنے سب سے بڑ ا چیلنج ان کی حکومت کی کارکردگی ہے

tauceeph@gmail.com

بلاول بھٹو زرداری نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر کارکنوں سے معافی مانگی۔ پیپلز پارٹی نے 18 اکتوبر کو کراچی میں بلاول کے پہلے عوامی جلسے کا اعلان کر دیا، اس سے قبل بلاول پنجاب کے سیلاب میں گھرے علاقوں میں گئے اور اپنے نانا کی طرح پانی میں چل کر سیلاب زدگان کے پاس پہنچے۔ بلاول زرداری کو ایک ایسے وقت پیپلز پارٹی کی قیادت ملی ہے جب پیپلز پارٹی پنجاب اور خیبرپختونخوا میں شکست کے بعد اندرون سندھ تک محدود ہو گئی ہے، پیپلز پارٹی کے اثرات بلوچستان میں پہلے ہی بہت کم ہیں، تحریک انصاف نے پنجاب، کے پی اور کراچی کے نوجوانوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔

طالبان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو آزادی سے سیاسی کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ پیپلز پارٹی اس صورتحال میں کیسے پہنچی اس سوال کے جواب ہی میں بلاول بھٹو کی کامیابی کا راز مضمر ہے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو نے 1967ء میں پیپلز پارٹی قائم کی تو طلباء مزدور اور کسان تنظیموں اور ادیبوں، دانشوروں کی انجمنیں فعال تھیں، بائیں بازو کے کارکن نیشنل عوامی پارٹی اور دوسری سیاسی تنظیموں کے ذریعے استحصال کے خاتمے، امریکی سامراج کے پاکستانی معیشت اور سیاست پر اثرات کے خلاف طلباء مزدوروں، کسانوں کے حقوق کے ذریعے جدوجہد کر رہے تھے۔ طلباء کی تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کراچی اور بڑے شہروں میں فعال تھی، اندرون سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور جئے سندھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن متحرک تھیں۔ کراچی، لاہور، فیصل آباد، ملتان میں مزدور تنظیمیں پنجاب اور کے پی میں کسانوں کی تنظیم اور سندھ میں ہاری کمیٹی فعال تھی ۔

1965ء کی جنگ میں بھارت دشمنی کا نعرہ لگا کر اور معاہدہ تاشقند کا راز افشا کرنے کے وعدے پر بھٹو صاحب پنجاب میں مقبولیت پا رہے تھے، پیپلز پارٹی نے اپنے منشور میں اسلامی سوشلزم کے ذریعے استحصال سے پاک معاشرے کی نوید دی تھی۔ پیپلز پارٹی نے 1967ء سے 1971ء تک کسانوں، مزدوروں، صحافیوں، ادیبوں کی ہر جدوجہد کی حمایت کی، پیپلز پارٹی کے کارکن عوامی مسائل کے حل اور پولیس کے ظلم کے خلاف ڈٹے رہے یوں عوامی جدوجہد اور ذوالفقار علی بھٹو کی سحر انگیز شخصیت اور انقلابی نعروں کے ذریعے پیپلز پارٹی پنجاب اور سندھ کی سب سے مقبول جماعت بن گئی۔

جب پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو اس نے زندگی کے تمام شعبوں میں انقلابی اصلاحات نافذ کیں، اگرچہ بیوروکریسی نے مزدور اور کسان تنظیموں کو کچلا، طلباء میں نفاق پیدا کرنے کے لیے نئی طلبہ تنظیمیں قائم کی گئیں، اس طرح پیپلز پارٹی کی اتحادی تنظیمیں کمزور ہوئیں، جب 1977ء میں پی این اے کی تحریک چلی تو پیپلز پارٹی طلباء، مزدور اور کسان تنظیموں سے دور ہونے کی بناء پر اس تحریک کا شہروں میں مقابلہ نہیں کر پائی مگر جب جنرل ضیاء الحق نے پیپلز پارٹی کا تختہ الٹا اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف نواب محمد احمد قصوری کے قتل کا مقدمہ درج ہوا تو پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے تاریخی جدوجہد کی اس جدوجہد میں طلباء، مزدوروں اور کسان تنظیموں کی انجمنیں شامل ہو گئیں، اگرچہ پیپلز پارٹی سے مولانا کوثر نیازی،یاسین وٹو جیسے لوگ علیحدہ ہوئے مگر کارکنوں کی جدوجہد کی بناء پر ان رہنماؤں کی علیحدگی سے کوئی فرق نہیں پڑا، ہزاروں کارکنوں نے کوڑے کھائے کچھ جل کر ہلاک ہوئے کچھ کو پھانسیاں دی گئیں، پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی جدوجہد میں بائیں بازو کی تنظیمیں بھی شریک ہوئیں۔

1986ء میں بے نظیر بھٹو اپنی جلا وطنی ختم کر کے لاہور ایئر پورٹ پر اتریں تو لاکھوں لوگ ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ 1988ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی، بے نظیر بھٹو پہلی دفعہ وزیر اعظم بن گئیں مگر پیپلز پارٹی کی حکومت پر کرپشن کے الزامات لگے، بے نظیر بھٹو نے کچھ بنیادی اصلاحات کی، خاص طور پر خواتین کی حیثیت کو بہتر بنانے کے لیے قانون سازی ہوئی مگر 18 مہینے بعد صدر غلام اسحاق خان نے یہ حکومت بر طرف کر دی یوں پیپلز پارٹی نے پھر جدوجہد شروع کی اس جدوجہد میں دوسری تنظیمیں بھی شریک تھیں۔


پیپلز پارٹی 1993ء میں دوسری دفعہ برسراقتدار آئی، اب پیپلز پارٹی کی حکومت کی شکل بدلی ہوئی تھی، حکومت نے طلبہ تنظیموں کی بحالی مزدوروں کے حقوق اور زرعی اصلاحات کے بارے میں خاموشی اختیار کر لی۔ پیپلز پارٹی کے ہر وزیر کے ساتھ کرپشن کے علیحدہ داستان عام تھی، بے نظیر بھٹو شہید نواز شریف کے دوسرے دور میں ملک سے چلی گئیں، پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے سیاسی جدوجہد پر توجہ دینا کم کر دی، یہ ان رہنماؤں نے کارکنوں سے بھی فاصلے بڑھائیں مگر پیپلز پارٹی اب بھی مظلوم طبقات کی آرزو کا محور تھی۔

یہ ہی وجہ تھی کہ 2002ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت سے ابھری اور جب 2007ء میں بے نظیر بھٹو کراچی ایئرپورٹ پر اتریں تو لاکھوں لوگ استقبال کے لیے موجود تھے۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد 2008ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے وفاق سندھ اور پنجاب میں حکومتیں بنائیں، پیپلز پارٹی نے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی مہم میں اپنے کارکنوں کا خون دیا تھا مگر جب زرداری صاحب صدر بن گئے تو انھوں نے افتخار چوہدری کو بحال کرنے سے انکار کیا اور پیپلز پارٹی دو حصوں میں بٹ گئی۔ بیرسٹر اعتزاز احسن وکلاء تحریک کے قائد تھے اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئر پرسن اس تحریک کے مخالف، وکلاء تحریک نے پنجاب میں خاص طور پر سیاسی فضا بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا۔

آصف زرداری نے 5 سال اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کر کے گزارے، ان کی میاں نواز شریف سے بھی مفاہمت رہی، پیپلز پارٹی کے دور میں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بہترین قانون سازی ہوئی۔ اٹھارویں اور بیسویں ترامیم کے تحت صوبائی خود مختاری اور شفاف انتخابات کے لیے خود مختار الیکشن کمیشن کے مسائل حل ہوئے۔ پیپلز پارٹی نے پنجاب میں اپوزیشن کا کردار ادا نہیں کیا پھر لوڈ شیڈنگ، مہنگائی، بے روز گاری کی بڑھتی ہوئی شرح وزراء کے اسکینڈل کے فیصلوں نے پارٹی کی ساکھ کو ختم کر کے رکھ دیا۔ یہ بات عام ہو گئی کہ پیپلز پارٹی کرپشن پر یقین رکھتی ہے اور اچھی طرز حکومت اس کا ایجنڈا نہیں ہے۔

بلاول بھٹو کے سامنے سب سے بڑ ا چیلنج ان کی حکومت کی کارکردگی ہے، کسی صورت سندھ میں پیپلز پارٹی کے اقتدار کے 6 سالوں میں پنجاب اور کے پی سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ کی حکومت اب بھی سندھ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کے لیے تیار نہیں، پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے ہزاروں ہیلتھ ورکرز کو مستقل کرنے کا کریڈٹ بلاول بھٹو کو دیا مگر یہ رہنما اس حقیقت کو فراموش کر بیٹھے کہ گزشتہ سال کراچی پریس کلب کے سامنے پولیس نے ان ہیلتھ ورکرز پر لاٹھی چارج کیا اور واٹر کینن استعمال کر کے خواتین کے لباس تار تار کر دیے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی بناء پر یہ ہیلتھ ورکرز چاروں صوبوں میں بحال ہوئے۔ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کہتے ہیں کہ سندھ کے بجٹ کا 60 فیصد کراچی پر خرچ ہوتا ہے، کراچی اس وقت کوڑے کا ڈھیر بن گیا ہے، پانی نایاب ہے، پبلک ٹرانسپورٹ ختم ہو گئی سابقہ سٹی گورنمنٹ کی خریدی گئی کچھ بسوں کو مرمت کر کے سڑکوں پر چلانے کو قائم علی شاہ کا کارنامہ قرار دیا جاتا ہے۔

یہ صورتحال سندھ کے دوسرے شہروں اور دیہات کی ہے۔ بلاول بھٹو اگر پیپلز پارٹی کو دوبارہ منظم کرنا چاہتے ہیں تو انھیں سندھ کو ماڈل صوبہ بنانے کے لیے تمام صلاحیتیں وقف کرنی چاہیئں پھر انھیں لاہور کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنانا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کی جدوجہد کو منظم بنا کر طلباء مزدوروں کسانوں اور اقلیتوں کے حقوق کی جدوجہد کو محور بنانا چاہیے۔ اس وقت مسلم لیگ امراء اور متوسط طبقے کی ترجمان ہے۔ تحریک انصاف امراء اور متوسط طبقے کے نوجوان لڑکے، لڑکیوں میں مقبول ہے، مظلوم طبقات جو اکثریت میں ہیں ان کی کوئی نمایندہ تنظیم نہیں ہے، اقلیتوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے مظلوم طبقات کے حقوق کی آواز اٹھا کر جماعت کو مقبول بنایا تھا۔ بلاول بھٹو جدوجہد کا راستہ اختیار کر کے پیپلز پارٹی کو دوبارہ متحرک کر سکتے ہیں۔
Load Next Story