ٹیکس حکام کو اداکاروں کھلاڑیوں کے سارک میں ذرائع آمدن معلوم کرنیکی ہدایت

سارک کثیرفریقی معاہدے کے تحت ٹیکس دہندگان کے رکن ممالک میں کاروباری روابط اورذرائع آمدن کی چھان بین لازمی قرار دیدی

علاقائی ممالک میںدہرے ٹیکسوں سے بچائو اورمحصولات سے متعلق امور میں انتظامی تعاون کیلیے اقدام، سیکریٹری انٹرنیشنل ٹیکس نے سرکلر جاری کر دیا فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے تمام فیلڈ فارمشنز کو

سارک لمیٹڈ کثیرالطرفہ معاہدے(سارک ایل ایم اے) کے آرٹیکل5کے تحت ٹیکس دہندگان کے کیسوں کی تحقیقات کیلیے ٹیکس دہندگان کے سارک ممالک میں کاروباری روابط اور ذرائع آمدنی کے بارے میں متعلقہ سارک ممالک سے معلومات حاصل کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کیلیے سارک لمیٹڈ کثیر الطرفہ معاہدے کے آرٹیکل 5 کو لازمی چیک لسٹ پوائنٹ قرار دیدیا ہے۔ اس ضمن میں ایف بی آر کے سیکریٹری انٹرنیشنل ٹیکس کی طرف سے باضابطہ طور پر سرکلر نمبر 6 جاری کردیا گیا ہے۔

جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت،بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ، نیپال، پاکستان اور سری لنکا پر مشتمل تمام سارک ممالک کے درمیان طے پانے والے سارک لمیٹڈ کثیر فریقی معاہدے پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔


اور اس معاہدے کے تحت بھارت،بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ، نیپال، پاکستان اور سری لنکا کی ٹیکس اتھارٹیز دہرے ٹیکسوں سے بچائو اور ٹیکس سے متعلق معاملات میں باہمی انتظامی تعاون کریں گی اور مذکورہ معاہدے میں اس حوالے سے آرٹیکل 5شامل کیا گیا ہے جس میں ٹیکس کیسوں میں ٹیکس دہندگان کے سارک ممالک میں ٹیکس دہندہ کے ذرائع آمدنی اور کاروباری کنکشن کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کیلیے اس آرٹیکل میں دیے جانے والے پروسیجرز پرعملدرآمد کرنا ہوگا۔

سرکلر کے مطابق سارک لمیٹڈ کثیرالطرفہ معاہدے کے آرٹیکل 6کے تحت کوئی بھی ملک کسی دوسرے سارک ملک میں رہائش پذیر اپنے ٹیکس نادہندہ کے ذمے واجب الادا ٹیکس واجبات کی وصولی کیلیے متعلقہ سارک ملک سے مدد حاصل کرسکتا ہے۔

معاہدے کے آرٹیکل 5 میں دیے جانے والے اختیارات اضافی ریونیو حاصل کرنے میں انتہائی سود مند ثابت ہوسکتے ہیں اور خصوصی طور پر اداکاروں، کھلاڑیوں،آئی ٹی ماہرین، کنسلٹنٹس، مقامی ٹیکسٹائل انڈسٹریز کی سارک ممالک میں قائم کی جانے والی برانچز کے علاوہ بھارتی اسٹاک مارکیٹ سمیت دیگر سارک ممالک کی اسٹاک ایکسچینجز میں سرمایہ کاری کرنے والے پورٹ فولیو انویسٹرز کے بارے میں انتہائی مفید اور معقول معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔

جو اضافی ٹیکس وصولیوں میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہیں۔ سرکلر میں فیلڈ فارمشنز سے کہا گیا ہے کہ سارک ممالک سے قانونی طور پر پاکستانی ٹیکس دہندگان کے بارے میں معلومات سارک کثیرفریقی معاہدے کے نافذ العمل ہونے کی تاریخ کے بعد کے عرصے کیلیے حاصل کی جاسکتی ہیں اور اس سے پہلے کے پیریڈ کے بارے میں معلومات حاصل نہیں کی جاسکتیں۔

سرکلر میں ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کیلیے سارک لمیٹڈ کثیر الطرفہ معاہدے کے آرٹیکل 5کو تمام آڈٹ کے کیسوں میں لازمی چیک لسٹ پوائنٹ قرار دیدیا ہے۔
Load Next Story