کنٹینرٹرمینلز پرگرائونڈنگ کامسئلہ شدت اختیارکرگیا
کنسائنمنٹس کی کلیئرنس میں تاخیرسے برآمدی عمل میںتعطل پیدا ہو رہا ہے، ذرائع
کنسائنمنٹس کی کلیئرنس میں تاخیرسے برآمدی عمل میںتعطل پیدا ہو رہا ہے، ذرائع. فوٹو سمد صدیقی
پاکستان انٹرنیشنل کنٹینرزٹرمینل اورکراچی انٹرنیشنل کنٹینرزٹرمینل پرکنٹینر زگرائونڈنگ کامسئلہ شدت اختیارکرگیاہے۔
جس کے باعث برآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس میں تاخیرکا رحجان غالب ہوگیا ہے۔ ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ مذکورہ دونوں نجی کنٹینرٹرمینلز میں برآمدی کنسائمنٹس کے کنٹینرزکو گرائونڈ کرنے کے عمل میں 4سے 5 دن لگ رہے ہیں۔
برآمدی کنسائنمنٹس کے کنٹینرزکو گرائونڈکرنے میں ٹرمینلز کے متعلقہ حکام کی جانب سے تاخیری حربوں کا بھی استعمال ہو رہا ہے جس کے باعث برآمدی کنسائنمنٹس کومقررہ مدت کے دوران بیرونی ممالک ترسیل کے عمل میں تعطل پیدا ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق 4سے 5دن میں کنٹینر گرائونڈ ہونے کے بعد ٹرمینل پر تعینات محکمہ کسٹمزکے متعلقہ حکام کی جانب سے کنسائنمنٹس کی ایگزامنیشن کے دوران بھی مختلف اقدامات کے ذریعے تاخیر پیداکی جارہی ہے حالانکہ ایکسپورٹ کنسائنمنٹس کی ایگزامنیشن گرائونڈ ہوتی ہے لیکن اس حقیقت کے باوجودایگزامینشن اسٹاف ان ایکسپورٹ کنسائمنٹس کی ایگزامینشن کرتے ہیں۔
جن کے مالکان متعلقہ کسٹمز افسران کے رابطوں میں ہوتے ہیں، دلچسپ امر یہ ہے کہ کنٹینرز کی گرائونڈنگ کے بعد دہری کسٹم ایگزامنیشن ان برآمدی کنسائنمنٹس کی نہیں کی جاتی جن کے مالکان بااثر ہوں یا ان سے رابطہ مشکل ہوتا ہے۔
اس ضمن میں کراچی کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن کے نومنتخب سیکریٹری جنرل یحییٰ محمد نے ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی وی بوک کسٹم کلیئرنس سسٹم اگرچہ70 فیصد کامیاب ہوگیا ہے لیکن اس سسٹم میں موجود خامیوں کونظراندازنہیں کیاجاسکتا۔
ان خامیوں کے باعث ایسٹ وہارف کی گڈز ڈیکلریشن ویسٹ وہارف جبکہ ویسٹ وہارف کی گڈز ڈیکلریشن ایسٹ وہارف میں تعینات کسٹم افسران کو مارک ہورہی ہیں، سسٹم میں مذکورہ خامی کی وجہ سے متعلقہ تاجر یا کسٹم کلیئرنس ایجنٹ کو MISسے رابطہ کرنے میں 2سے3 یوم لگ جاتے ہیں اوراس دوران برآمدی کنسائنمنٹس کی ترسیل کرنے والا متعلقہ بحری جہازکراچی کی بندرگاہ سے روانہ ہوجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹریڈ سیکٹر سے چارجزسنگاپورپورٹ کے وصول کیے جارہے ہیں جبکہ سروس کا معیار لیاری پورٹ جیسا محسوس ہوتا ہے، وی بوک میں متعلقہ ایس آراوز سمیت دیگر اقدامات اپ ڈیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ٹریڈ سیکٹر کی پریشانیوں میں اضافہ ہورہا ہے اور ساتھ ہی ملکی برآمدات کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایف بی آر اور محکمہ کسٹمز کے اعلیٰ حکام وی بوک سسٹم میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے وی بوک پروجیکٹ ٹیم میں کسٹم ایجنٹوں کو باقاعدہ نمائندگی دیں جو رضاکارانہ بنیادوں پر محکمہ کسٹمز کو خدمات فراہم کرینگے۔
جس کے باعث برآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس میں تاخیرکا رحجان غالب ہوگیا ہے۔ ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ مذکورہ دونوں نجی کنٹینرٹرمینلز میں برآمدی کنسائمنٹس کے کنٹینرزکو گرائونڈ کرنے کے عمل میں 4سے 5 دن لگ رہے ہیں۔
برآمدی کنسائنمنٹس کے کنٹینرزکو گرائونڈکرنے میں ٹرمینلز کے متعلقہ حکام کی جانب سے تاخیری حربوں کا بھی استعمال ہو رہا ہے جس کے باعث برآمدی کنسائنمنٹس کومقررہ مدت کے دوران بیرونی ممالک ترسیل کے عمل میں تعطل پیدا ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق 4سے 5دن میں کنٹینر گرائونڈ ہونے کے بعد ٹرمینل پر تعینات محکمہ کسٹمزکے متعلقہ حکام کی جانب سے کنسائنمنٹس کی ایگزامنیشن کے دوران بھی مختلف اقدامات کے ذریعے تاخیر پیداکی جارہی ہے حالانکہ ایکسپورٹ کنسائنمنٹس کی ایگزامنیشن گرائونڈ ہوتی ہے لیکن اس حقیقت کے باوجودایگزامینشن اسٹاف ان ایکسپورٹ کنسائمنٹس کی ایگزامینشن کرتے ہیں۔
جن کے مالکان متعلقہ کسٹمز افسران کے رابطوں میں ہوتے ہیں، دلچسپ امر یہ ہے کہ کنٹینرز کی گرائونڈنگ کے بعد دہری کسٹم ایگزامنیشن ان برآمدی کنسائنمنٹس کی نہیں کی جاتی جن کے مالکان بااثر ہوں یا ان سے رابطہ مشکل ہوتا ہے۔
اس ضمن میں کراچی کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن کے نومنتخب سیکریٹری جنرل یحییٰ محمد نے ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی وی بوک کسٹم کلیئرنس سسٹم اگرچہ70 فیصد کامیاب ہوگیا ہے لیکن اس سسٹم میں موجود خامیوں کونظراندازنہیں کیاجاسکتا۔
ان خامیوں کے باعث ایسٹ وہارف کی گڈز ڈیکلریشن ویسٹ وہارف جبکہ ویسٹ وہارف کی گڈز ڈیکلریشن ایسٹ وہارف میں تعینات کسٹم افسران کو مارک ہورہی ہیں، سسٹم میں مذکورہ خامی کی وجہ سے متعلقہ تاجر یا کسٹم کلیئرنس ایجنٹ کو MISسے رابطہ کرنے میں 2سے3 یوم لگ جاتے ہیں اوراس دوران برآمدی کنسائنمنٹس کی ترسیل کرنے والا متعلقہ بحری جہازکراچی کی بندرگاہ سے روانہ ہوجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹریڈ سیکٹر سے چارجزسنگاپورپورٹ کے وصول کیے جارہے ہیں جبکہ سروس کا معیار لیاری پورٹ جیسا محسوس ہوتا ہے، وی بوک میں متعلقہ ایس آراوز سمیت دیگر اقدامات اپ ڈیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ٹریڈ سیکٹر کی پریشانیوں میں اضافہ ہورہا ہے اور ساتھ ہی ملکی برآمدات کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایف بی آر اور محکمہ کسٹمز کے اعلیٰ حکام وی بوک سسٹم میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے وی بوک پروجیکٹ ٹیم میں کسٹم ایجنٹوں کو باقاعدہ نمائندگی دیں جو رضاکارانہ بنیادوں پر محکمہ کسٹمز کو خدمات فراہم کرینگے۔