آسٹریلوی بھیڑوں میں انتھریکس تھا محکمہ لائیو اسٹاک کی قلابازی

سینٹرل ویٹنری لیبارٹری ٹنڈوجام کی رپورٹ میں وائرس کی تصدیق،ٹمپریچر کے ذریعے انتھریکس کومسترد نہیں کیا جاسکتا

سینٹرل ویٹنری لیبارٹری ٹنڈوجام کی رپورٹ میں وائرس کی تصدیق،ٹمپریچر کے ذریعے انتھریکس کومسترد نہیں کیا جاسکتا ،ڈائریکٹرلائیواسٹاک۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

سندھ ہائی کورٹ نے آسٹریلیا سے درآمد کی گئی بھیڑوں کو تلف کرنے کے خلاف حکم امتناع میں (آج)جمعے تک توسیع کرتے ہوئے معاونت کے لیے وائس چانسلر آغاخان یونیورسٹی، ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحفظ ماحولیات، پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ اور مائیکرو بایالوجسٹ کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

جسٹس مقبول باقر اور جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو پر مشتمل بینچ نے حکومت سندھ کی جانب سے موقف تبدیل کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کومعاملے کی سنجیدگی کا احساس ہی نہیں،جمعرات کو سماعت کے موقع پر محکمہ لائیواسٹاک کی جانب سے سینٹرل ویٹنری لیبارٹری ٹنڈوجام کی رپورٹ پیش کی گئی،رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھیڑوں میں اینتھریکس تھا۔ڈائریکٹر لائیو اسٹاک نذیر کلہوڑو نے عدالت میں اپنے بیان میں کہاکہ ٹمپریچر کے ذریعے اینتھریکس کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ، بینچ کے سربراہ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ آپ پہلے عدالت میں کہہ چکے ہیںکہ مردہ بھیڑوں کے کوئی نمونے نہیں لیے تو اینتھریکس کیسے ثابت ہوگیا۔


آپ غلط بیانی کررہے ہیں ، آپ کو اندازہ نہیں کتنا سنجیدہ معاملہ ہے اگر نمونے لیے ہیں تو ثابت کرنا پڑے گا،وفاقی لیبارٹری کی رپورٹ آپ کی رپورٹ کو جھوٹا کہہ رہی ہے اور آپ اب تک اپنی رپورٹ کو ثابت نہیں کرسکے،قابلیت ہوتی توہمارا یہ حشر نہیں ہوتا، آسٹریلیا میں پاکستانی سفیر نے ایک خط کے ذریعے عدالت کو بتایا کہ بحرین میں اسکوبی ماوتھ کی بنیاد پر بھیڑوں کو مسترد کیا بعد میں صحت مند بھیڑوں کو اتارنے کی اجازت دے دی۔

تاہم بحرین میں بھیڑیں اتارنے سے پہلے جہاز کی برتھ کی مدت ختم ہوگئی اس لیے اسے واپس جانا پڑا، آسٹریلیا میں پاکستانی سفیر نے کہا کہ انھوں نے بتایا ہے کہ پاکستان میں اسلام آباد ، فیصل آباد اور لاہور کی لیبارٹریز بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہیں جن لیبارٹری کی رپورٹ کی بنیاد پر بھیڑیں تلف کی جارہی ہیں وہ تسلیم شدہ نہیں ہیں،جسٹس مقبول باقر نے ڈائو میڈیکل یونیورسٹی آف ہیلتھ کے ڈاکٹر رفیق خانانی کے بارے میں سیکریٹری لائیو اسٹاک کے میڈیا پر آنے والے بیانات پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہ ان کے بارے میں تبصرے مناسب نہیں وہ عدالت کی درخواست پر اس معاملے میں معاونت کررہے ہیں،جس کے بعد عدالت نے بھیڑیں تلف کرنے کے خلاف حکم امتناع برقرار رکھتے ہوئے سماعت (آج) جمعے کی صبح تک ملتوی کردی۔

Recommended Stories

Load Next Story