ٹارگٹ کلنگ بڑھ گئی مؤثر طریقے سے نمٹا جائے قائم علی شاہ

فورسز کا مورال بلند کیا جائے، اسنیپ چیکنگ اور چھاپے مارے جائیں، اجلاس میں ہدایات

کراچی:وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ امن وامان کی صورتحال پر اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔ فوٹو: پی پی آئی

وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ کراچی کچھ دنوں سے ٹارگٹ کلنگ بڑھ گئی ہے جس سے نمٹنے کیلیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے مزید ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ افسران فورسز کا مورال بلند کریں، اچانک چھاپے مارے جائیں، اسنیپ چیکنگ کی جائے اور ریلوے اسٹیشنز، بس اسٹینڈز اور کراچی کے داخلی و خارجی راستوں پر کڑی چیکنگ کی جائے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن، چیف سیکریٹری سندھ راجا محمد عباس، ڈائریکٹر جنرل رینجرز، سندھ میجر جنرل رضوان اختر، ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم وسیم احمد زئی، آئی جی پولیس سندھ فیاض لغاری، کمشنر کراچی روشن علی شیخ، غربی جنوبی شرقی کے ڈی آئی جیز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے سربراہان شریک تھے۔


وزیراعلیٰ نے جمعہ21 ستمبر کو صورتحال پر قابو پانے کے عمل کو سراہا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سیاستدانوں اور عام لوگوں کے توسط سے امن امان کو بحال کیا جائے گا۔ آئی جی سندھ پولیس فیاض لغاری نے اپنی تفصیلی بریفنگ میں بتایا کہ رواں سال 2012 کے دوران 3116 جرائم رجسٹرڈ ہوئے جن میں 2665 قتل، 244 اغوا برائے تاوان، 98 ڈکیتی،18بینک ڈکیتی اور ہائی وے پر 89 ڈکیتی کی وارداتیں ہوئیں۔ ستمبر 2012 کے دوران ہلاکتوں سے متعلق آئی جی نے بتایا کہ 27 ستمبر 2012 ء تک کے عرصے میں 114ہلاکتیں ہوئیں جن میں 16ٹارگٹ کلنگ اور 98 دوسری ہلاکتیں ہوئیں۔

آئی جی پولیس سندھ نے مزید بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 72جوان ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے جن میں پولیس کے 65، آئی بی کے 4، ریننجرز کے دو جبکہ ایکسائز پولیس کا ایک اہلکار شامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ رواں سال 2012ء کے دوران پولیس نے 7143 چھاپے مارے اور 2462 مجرموں کو گرفتار کیا جن میں 151 ٹارگٹ کلرز بھی شامل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 2012ء کے دوران صوبے میں 263 افراد اغوا ہوئے جن میں سے 245 کو بازیاب کرایا گیا جبکہ 21 ابھی تک بازیاب نہیں ہوئے۔

Recommended Stories

Load Next Story