نیب کا بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے دفتر پرچھاپہ2 افسرگرفتار
چیئرمین پر3بیٹیوں اوربیوی کوگریڈ17 میں تعینات کرنیکا الزام،ریکارڈ قبضے میں لے لیا
چیئرمین پر3بیٹیوں اوربیوی کوگریڈ17 میں تعینات کرنیکا الزام،ریکارڈ قبضے میں لے لیا۔ فوٹو: فائل
OSLO:
نیب نے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے دفتر میں چھاپہ مار کر دو ڈپٹی ڈائریکٹرز کو حراست میں لے کر ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے۔
قومی احتساب بیورو کے ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز ضیااللہ کا کہنا ہے کہ مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن میرٹ کے خلاف مختلف محکموں میں تعنیاتیاں کر رہا ہے جس پر کارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر امتحانات عبدالوحید سمیت دو افسران کو گرفتار کرکے دو سال کے ٹیسٹ اورتعیناتیوں کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹرز کو تفتیش کے لیے نیب کوئٹہ کے دفتر لے جایا گیا ہے، انھوں نے کہا کہ تحقیقات کا عمل شروع کردیا گیا ہے اس حوالے سے اگر کسی کے پاس کوئی شواہد موجود ہیں توہم سے رابطہ کریں،تحقیقاتی عمل کو شفاف انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جائیگا۔
ایک ٹی وی کے مطابق قرۃ العین مگسی بھی کمیشن کے چیئرمین کی قریبی عزیز ہیں، بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اشرف مگسی پر اپنی تین بیٹیوں ،عذرہ مگسی،عابدہ زمان، سائرہ مگسی اور بیوی شفیقہ اکبر مگسی کو گریڈ 17میں تعینات کرنے کا الزام ہے، مصباح فاطمہ بھی کمیشن کے ایک رکن کی عزیزہ ہیں ، کمیشن نے سینئر ٹیچرز کی اسامیاں بھی اپنے قریبی رشتہ داروں میں بانٹ دیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر امتحانات عبدالوحید پر بیٹے کو سیکشن افسر تعینات کرنے کا الزام ہے۔
واضح ر ہے کہ گزشتہ دنوں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کی جانب سے سیکشن آفیسرز کی پوسٹوں کے نتائج کا اعلان کیا گیا جس میں کمیشن کے چیئرمین اوردیگر بااثر افراد کے بیٹوں اور رشتہ داروں کو مبینہ طور پر کامیاب قرار دیا گیاتھا جس پر ان امتحانات میں حصہ لینے والے امیدواروں نے مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیاتھا،آئی این پی کے مطابق فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین جسٹس (ر) رانا بھگوان داس نے بھی بلوچستان پبلک سروس کمیشن میں ہونے والی بھرتیوں میں مبینہ طورپر بے قاعدگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔
نیب نے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے دفتر میں چھاپہ مار کر دو ڈپٹی ڈائریکٹرز کو حراست میں لے کر ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے۔
قومی احتساب بیورو کے ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز ضیااللہ کا کہنا ہے کہ مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن میرٹ کے خلاف مختلف محکموں میں تعنیاتیاں کر رہا ہے جس پر کارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر امتحانات عبدالوحید سمیت دو افسران کو گرفتار کرکے دو سال کے ٹیسٹ اورتعیناتیوں کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹرز کو تفتیش کے لیے نیب کوئٹہ کے دفتر لے جایا گیا ہے، انھوں نے کہا کہ تحقیقات کا عمل شروع کردیا گیا ہے اس حوالے سے اگر کسی کے پاس کوئی شواہد موجود ہیں توہم سے رابطہ کریں،تحقیقاتی عمل کو شفاف انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جائیگا۔
ایک ٹی وی کے مطابق قرۃ العین مگسی بھی کمیشن کے چیئرمین کی قریبی عزیز ہیں، بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اشرف مگسی پر اپنی تین بیٹیوں ،عذرہ مگسی،عابدہ زمان، سائرہ مگسی اور بیوی شفیقہ اکبر مگسی کو گریڈ 17میں تعینات کرنے کا الزام ہے، مصباح فاطمہ بھی کمیشن کے ایک رکن کی عزیزہ ہیں ، کمیشن نے سینئر ٹیچرز کی اسامیاں بھی اپنے قریبی رشتہ داروں میں بانٹ دیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر امتحانات عبدالوحید پر بیٹے کو سیکشن افسر تعینات کرنے کا الزام ہے۔
واضح ر ہے کہ گزشتہ دنوں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کی جانب سے سیکشن آفیسرز کی پوسٹوں کے نتائج کا اعلان کیا گیا جس میں کمیشن کے چیئرمین اوردیگر بااثر افراد کے بیٹوں اور رشتہ داروں کو مبینہ طور پر کامیاب قرار دیا گیاتھا جس پر ان امتحانات میں حصہ لینے والے امیدواروں نے مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیاتھا،آئی این پی کے مطابق فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین جسٹس (ر) رانا بھگوان داس نے بھی بلوچستان پبلک سروس کمیشن میں ہونے والی بھرتیوں میں مبینہ طورپر بے قاعدگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔