سانحہ ملتان…مستقبل میں احتیاط کی ضرورت

تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بھگدڑ کی ذمے داری پولیس اور انتظامیہ پر عاید کی ہے۔

عوام کے رش اور بھگدڑ کی وجہ سے ایمبولینسز کے داخلے میں بھی سخت مشکلات پیش آئیں, فوٹو فائل

ملتان میں تحریک انصاف کے انتہائی پرہجوم جلسے کے بعد بھگدڑ مچ جانے سے بیسیوں افراد کچلے گئے اور اس افسوسناک سانحہ میں کم از کم سات افراد جاں بحق جب کہ پچپن سے زائد زخمی ہو گئے۔ اخباری اطلاع کے مطابق جلسہ ختم ہوتے ہی لوگوں نے قاسم باغ اسٹیڈیم کے بیرونی دروازوں کا رخ کیا جس سے دروازوں پر شدید دباؤ پڑ گیا' دھکم پیل بڑھتے بڑھتے بھگدڑ میں تبدیل ہو گئی اور لوگ کچلے گئے۔ عوام کے رش اور بھگدڑ کی وجہ سے ایمبولینسز کے داخلے میں بھی سخت مشکلات پیش آئیں اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث کئی لوگوں کی حالت خراب ہو گئی۔

اس سانحہ پرسب لوگ دکھی ہیں۔ بعض عینی شاہدین اور زخمیوں کے حوالے سے اخبارات میں خبریں شائع ہوئی ہیں کہ سانحہ قاسم باغ اسٹیڈیم کے تمام بیرونی دروازے نہ کھولنے کے باعث پیش آیا جب کہ اسٹریٹ لائٹس بھی بند کر دی گئیں' اندھیرے کے باعث بھگدڑ زیادہ شدید ہوئی۔ بعض اطلاعات کے مطابق جب جلسہ ختم ہوا تو صرف دو بیرونی گیٹ کھلے تھے جس کی وجہ سے سارے لوگوں نے ان دو دروازوں کا رخ کیا اور بے پناہ ہجوم میں بھگدڑ مچ گئی۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بھگدڑ کی ذمے داری پولیس اور انتظامیہ پر عاید کی ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سانحے میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈپٹی کمشنر ملتان اور پولیس نے تعاون نہیں کیا۔ تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے اس واقعہ کی ذمے داری وزیر اعلیٰ اور ڈی سی او ملتان پر عاید کی۔

ادھر ڈی سی او ملتان کا موقف تھا کہ جلسہ کی سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے، حادثہ لوگوں کے بھاگنے کی وجہ سے پیش آیا۔بہرحال فریقین کے بیانات سے معاملہ خاصا الجھ گیا ہے' یہ سانحہ کیسے رونما ہوا' اس کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے' یہ تحقیقات ایسی نہیں ہونی چاہیے جیسا کہ ماضی کی روایت ہے' اب تک ملک میں جتنے بھی سانحے رونما ہوئے ہیں' ان کی تحقیقات تو ہوئی' مگر حقائق سامنے نہیں لائے گئے اور نہ ذمے داروں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ سانحہ قاسم باغ میں مرنے والوں کا کوئی قصور نہیں تھا اور وہ صرف جلسے میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ اس وقت ملک کا جو سیاسی منظر نامہ ہے' اس میں تحریک انصاف حکومت کے خلاف مختلف شہروں میں جلسے کر رہی ہے جن میں عوام کی بھاری اکثریت شریک ہو رہی ہے۔


ملتان میں تحریک انصاف کے جلسے میں بہت زیادہ لوگوں نے شرکت کی جو توقع سے بھی زیادہ تھے' ایسے حالات میں معمولی نوعیت کی شرارت یا بدانتظامی کسی بڑے سانحہ کو جنم دے سکتی ہے اور ایسا ہی ہوا۔ ملتان میں قاسم باغ اسٹیڈیم میں جو جلسہ ہوا'ممکن ہے یہاں بھی کوئی نہ کوئی کوتاہی ہوئی ہو' حکومت اس سانحے کو اتفاقی قرار دے رہی جب کہ تحریک انصاف ملتان انتظامیہ پر الزام عائد کر رہی ہے' اب اصل معاملہ تو تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گا تاہم سانحہ ملتان سے ایک سبق ضرور ملتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی قوت کے مظاہرے کے لیے جو بڑے جلسے کر رہی ہیں' اس حوالے سے جگہ کے انتخاب اور انتظامات پر خصوصی توجہ دیں۔ تحریک انصاف نے مختلف شہروں میں مزید جلسے کرنے کا اعلان کر رکھا ہے' ادھر ڈاکٹر طاہر القادری بھی جلسوں کا پروگرام بنا رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی بھی کراچی میں بڑے جلسہ عام کی تیاری کر رہی ہے۔ ملک میں دہشت گردی کی فضا بھی ہے اور بڑے جلسوں میں بھگدڑ مچنے کی مثال بھی سامنے آ چکی ہے لہٰذا اس کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ فول پروف انتظامات کی سخت ضرورت ہے ۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے جلسوں کو بڑی احتیاط اور ذمے داری سے ترتیب دیں' جلسے کے لیے جگہ ایسی ہونی چاہیے جو خاصی وسیع ہو کیونکہ پی ٹی آئی کے جلسوں میں عوام بڑی بھاری تعداد میں شریک ہو رہے ہیں لہٰذا جلسے کے انتظامات میں داخلی اور خارجی راستوں کی کشادگی پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔

اگرچہ قاسم باغ اسٹیڈیم بہت وسیع و عریض ہے مگر اس کے باوجود بہتر یہ ہے کہ جلسوں کا انتظام بالکل کھلی جگہ پر کیا جائے تا کہ حاضرین کے واپس جانے میں کوئی رکاوٹ آڑے نہ آئے۔ لاہور کے جلسہ میں بھی ایک سانحہ پیش آیا تھا جب خود عمران خان اسٹیج سے سے نیچے گر پڑے تھے اور انھیں سخت چوٹیں آئی تھیں۔ اس کے بعد اسٹیج کے لیے تو مضبوط آہنی کنٹینروں کا بندوبست کر لیا گیا لیکن ملتان کے اس سانحے کے بعد اب انھیں جلسہ گاہ کے انتخاب کے لیے بھی زیادہ دور اندیشی سے فیصلے کرنے چاہئیں۔
Load Next Story