مبینہ ٹیکس چور کرکٹرز کی فہرست تیار نوٹسز جاری ہونگے
مصباح، حفیظ، سعید اجمل، شعیب ملک، آفریدی، عبدالرزاق، کامران اکمل کے نام شامل ہیں
مصباح، حفیظ، سعید اجمل، شعیب ملک، آفریدی، عبدالرزاق، کامران اکمل کے نام شامل ہیں۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق اور ٹی 20 ٹیم کے کپتان محمد حفیظ سمیت آمدنی چھُپانے والے اور کروڑوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث کٹرزکی فہرست تیار کرلی ہے اور ان اصل آمدنی چھُپانے والے کرکٹرز کو نوٹس جاری کیے جائیں گے۔
اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ٹیسٹ، ون ڈے اور کائونٹی کھیلنے والے کھلاڑیوں کی بڑی تعداد مطلوبہ صلاحیت سے کم ٹیکس ادا کررہی ہے اور بہت سے کھلاڑی ایسے ہیں جنکی کی طرف سے انکم ٹیکس گوشوارے اور ویلتھ سٹیٹمنٹس بھی جمع نہیں کروائی جارہی ہیں جبکہ بہت سے ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے گوشوارے تو جمع کروائے ہیں مگر ان گوشواروں میں اصل آمدنی ظاہر نہیں کی ہے اور اسی طرح جو ویلتھ سٹیٹمنٹ کروائی ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ کرکٹرز کی تمام تر تفصیلات پر مبنی فہرست مرتب کی گئی ہے ان میں کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق، ٹی 20 ٹیم کے کپتان محمد حفیظ، شعیب ملک، شاہد آفریدی، عبدالرزاق، اظہر علی، عمران فرحت، کامران اکمل، رانا نوید الحسن، سعید اجمل، توفیق الرحمٰن، عمر اکمل، وہاب ریاض، عبدالرحمٰن، اسد شفیق، تنویر احمد، عمر گُل، شعیب اختر، سہیل تنویر، یاسر عرفات شامل ہیں، دستاویز کے مطابق مذکورہ کھلاڑیوں میں سے سہیل تنویر، عمر گُل، یاسر عرفات، تنویر احمد، اسد شفیق، عبدالرحمٰن، وہاب ریاض، عُمر اکمل، توفیق عُمر، سعید اجمل، رانا نوید الحسن، محمد حفیظ، مصباح الحق، کامران اکمل اور عمران فرحت کی طرف سے انکم ٹیکس گوشوارے تک جمع نہیں کروائے گئے ہیں۔
جبکہ عبدالرزاق کی طرف سے ٹیکس ائیر 2010 اور ٹیکس ائیر2011 کیلئے مینوئیل انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروائے گئے ہیں اور عبدالرزاق کی طرف سے جمع کروائے جانیو الے ٹیکس ائیر 2011 کے انکم ٹیکس گوشوارے میں کوئی آمدنی ظاہر نہیں کی گئی ہے اور صرف 17لاکھ 34 ہزار 967 روپے ٹیکس ادائیگی ظاہر کی گئی ہے، دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ عبدالرزاق نے انکم ٹیکس گوشوارے کے ساتھ اپنی ویلتھ سٹیٹمنٹ بھی جمع نہیں کروائی جبکہ عبدالرزاق انگلش کائونٹی کرکٹ، حیدر آباد ہیروز(انڈین پریمیئرلیگ)، آئی سی ایل پاکستان، خان ریسرچ لیبز لاہور، لاہور لائنز اور دیگر مختلف بین الااقوامی کرکٹنگ ونچرز کا حصہ ہے جہاں سے عبدالرزاق نے بھاری آمدنی حاصل کی ہے اور عبدالرزاق نے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کیلئے کھیلنے پر ایک لاکھ ڈالر وصول کئے ہیں۔
اس کے علاوہ بہت سی نیشنل و ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اشتہاری مہم میں حصہ لینے پر بھی بھاری معاوضہ وصول کیا ہے، دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ کرکٹر اظہر علی نے ٹیکس ائیر2011 کے گوشوارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو سروسز کی فراہمی کے عوض وصول ہونے والے 77 لاکھ 71ہزار چھ روپے آمدنی ظاہر کی ہے جس پر چار لاکھ 66ہزار سات سو 32 روپے ٹیکس دیا گیا ہے لیکن اسکے ساتھ ہی مذکورہ آمدنی میں سے اظہر علی نے اپنے اخراجات 62 لاکھ65ہزار پانچ سو 78 روپے ظاہر کئے ہیں جو کہ بہت زیادہ ہیں جنکو چیک کرنے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ اظہر علی نے گوشوارے کے ساتھ ویلتھ سٹیٹمنٹ جمع نہیں کروائی ہے اور نہ ہی دوسرے ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی ظاہر کی ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ عمران فرحت کی طرف سے گذشتہ دو سال سے نہ ٹیکس گوشوارے جمع کروائے جارہے ہیں اور نہ ہی ویلتھ سٹیٹمنٹ جمع کروائی جارہی ہے جبکہ ایف بی آر نے آئی ٹی ایم ایس کے ذریعے سُراغ لگایا ہے کہ عمران فرحت نے ٹیکس ائیر2011 میں صرف پاکستان کرکٹ بورڈ سے ایک کروڑ چوہتر ہزار سولہ روپے وصول کئے ہیں جس پر چھ لاکھ چار ہزار چار سو چالیس روپے کی ٹیکس کٹوتی ہوئی ہے اس کے علاوہ عمران فرحت نے ٹیکس ائیر2011 میںچودہ لاکھ 73 ہزار روپے مالیت کی کار خریدی ہے اور انجن نمبر 3422798 چیسز نمبر18501 کی حامل اس کار کی انوائس 21 اپریل 2011 کو جاری ہوئی جبکہ اسکی رجسٹریشن 30 اپریل 2011 کو ہوئی۔
اس کے علاوہ ٹیکس ائیر2010 کے دوران عمران فرحت نے 19 لاکھ 28 ہزار روپے کی کار خریدی جسکی رجسٹریشن پندرہ اکتوبر 2011 کو ہوئی، دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ کامران اکمل کی طرف سے بھی گذشتہ دو سال سے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کروائے جارہے ہیں اور نہ ہی ویلتھ سٹیٹمنٹ جمع کروائی جارہی ہے جبکہ ایف بی آر نے جو ابتدائی معلومات حاصل کی ہیں اس کے مطابق کامران اکمل نے ٹیکس ائیر 2011 میں صرف کرکٹ بورڈ سے تین کروڑ چار لاکھ 38 ہزار پانچ سو 44 روپے کی آمدنی حاصل کی ہے جس پر اٹھارہ لاکھ اٹھائیس ہزار ایک سو چودہ روپے کی ٹیکس کٹوتی ہوئی ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ مصباح الحق کی طرف سے ٹیکس ائیر2011 کیلئے انکم ٹیکس گوشوارہ جمع نہیں کروایا گیا ہے اور مصباح الحق کے بارے میں صرف ایمپلائر سٹیٹمنٹ دستیاب ہے جس میں مصباح الحق کی سوئی ناردرن گیس پائپ لائن (ایس این جی پی ایل)سے حاصل کردہ تنخواہ کی مد میں 13 لاکھ 59 ہزار ایک سو 74 روپے کی آمدنی ظاہر کی گئی ہے جس پر ایک لاکھ 55ہزار پانچ سو 54 روپے کی ٹیکس کٹوتی کی گئی ہے جبکہ ایف بی آر نے مصباح الحق کی آمدنی کا سُراغ لگایا ہے جس کے مطابق صرف پاکستان کرکٹ بورڈ سے ٹیکس ائیر 2011کے دوران مصباح الحق نے دو کروڑ چودہ لاکھ 71 ہزار سات سو روپے کی آمدنی حاصل کی ہے جس پر تیرہ لاکھ23 ہزار سات سو 36روپے کی ٹیکس کٹوتی ہوئی ہے۔
دستاویز کے مطابق رانا نوید الحسن بھی گذشتہ دو سال سے نہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروارہے ہیں اور نہ ہی ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کروارہے ہیں جبکہ ایف بی آر نے جو ڈیٹا حاصل کیا ہے اس کے مطابق ٹیکس ائیر 2011 میں رانا نوید الحسن کی طرف سے صرف پاکستان کرکٹ بورڈ سے بائیس لاکھ اٹھائیس ہزار تین سو چھیالیس روپے کی آمدنی حاصل کی گئی ہے، اسی طرح سعید اجمل بھی گذشتہ دو سال سے نہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروارہے ہیں اور نہ ہی ویلتھ سٹیٹمنٹ جمع کروائی جارہی ہے تاہم ایف بی آرنے جو ڈیٹا اکٹھا کیا ہے اسکے مطابق سعید اجمل نے ٹیکس ائیر 2011 میں صرف کرکٹ بورڈ سے 22 کروڑ 47 لاکھ 41ہزار پانچ سو اکیس روپے کی آمدنی حاصل کی ہے جس پر چودہ لاکھ 84ہزار چار سو نوے روپے کی ٹیکس کٹوتی ہوئی ہے۔
دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ شعیب ملک کی طرف سے ٹیکس ائیر 2011 کے انکم ٹیکس گوشوارے میں اپنی سالانہ آمدنی میں سے سروسز کی فراہمی کی مد میں 82 لاکھ چھیانوے ہزار ایک سو 54 روپے آمدنی ظاہر کی ہے جس پر چار لاکھ ستانوے ہزار سات سو 69 روپے ٹیکس کٹوتی ہوئی ہے، دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ شعیب ملک کی طرف سے انکم ٹیکس گوشوارے تو جمع کروائے جارہے ہیں مگر گذشتہ دو سال سے ویلتھ سٹیٹمنٹ جمع نہیں کروا جارہی ہے اور نہ ہی کمرشل اشتہارات اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی ظاہر کی گئی ہے دستاویز میں دیگر کرکٹر کے بارے میں بھی تمام تر تفصیلات دی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ انکے بارے میں ایف آئی اے سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے دیگر ریکارڈ بھی حاصل کیا جائے اور ان سے انکی مطلوبہ صلاحیت کے مطابق ٹیکس وصولی کی جائے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق اور ٹی 20 ٹیم کے کپتان محمد حفیظ سمیت آمدنی چھُپانے والے اور کروڑوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث کٹرزکی فہرست تیار کرلی ہے اور ان اصل آمدنی چھُپانے والے کرکٹرز کو نوٹس جاری کیے جائیں گے۔
اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ٹیسٹ، ون ڈے اور کائونٹی کھیلنے والے کھلاڑیوں کی بڑی تعداد مطلوبہ صلاحیت سے کم ٹیکس ادا کررہی ہے اور بہت سے کھلاڑی ایسے ہیں جنکی کی طرف سے انکم ٹیکس گوشوارے اور ویلتھ سٹیٹمنٹس بھی جمع نہیں کروائی جارہی ہیں جبکہ بہت سے ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے گوشوارے تو جمع کروائے ہیں مگر ان گوشواروں میں اصل آمدنی ظاہر نہیں کی ہے اور اسی طرح جو ویلتھ سٹیٹمنٹ کروائی ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ کرکٹرز کی تمام تر تفصیلات پر مبنی فہرست مرتب کی گئی ہے ان میں کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق، ٹی 20 ٹیم کے کپتان محمد حفیظ، شعیب ملک، شاہد آفریدی، عبدالرزاق، اظہر علی، عمران فرحت، کامران اکمل، رانا نوید الحسن، سعید اجمل، توفیق الرحمٰن، عمر اکمل، وہاب ریاض، عبدالرحمٰن، اسد شفیق، تنویر احمد، عمر گُل، شعیب اختر، سہیل تنویر، یاسر عرفات شامل ہیں، دستاویز کے مطابق مذکورہ کھلاڑیوں میں سے سہیل تنویر، عمر گُل، یاسر عرفات، تنویر احمد، اسد شفیق، عبدالرحمٰن، وہاب ریاض، عُمر اکمل، توفیق عُمر، سعید اجمل، رانا نوید الحسن، محمد حفیظ، مصباح الحق، کامران اکمل اور عمران فرحت کی طرف سے انکم ٹیکس گوشوارے تک جمع نہیں کروائے گئے ہیں۔
جبکہ عبدالرزاق کی طرف سے ٹیکس ائیر 2010 اور ٹیکس ائیر2011 کیلئے مینوئیل انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروائے گئے ہیں اور عبدالرزاق کی طرف سے جمع کروائے جانیو الے ٹیکس ائیر 2011 کے انکم ٹیکس گوشوارے میں کوئی آمدنی ظاہر نہیں کی گئی ہے اور صرف 17لاکھ 34 ہزار 967 روپے ٹیکس ادائیگی ظاہر کی گئی ہے، دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ عبدالرزاق نے انکم ٹیکس گوشوارے کے ساتھ اپنی ویلتھ سٹیٹمنٹ بھی جمع نہیں کروائی جبکہ عبدالرزاق انگلش کائونٹی کرکٹ، حیدر آباد ہیروز(انڈین پریمیئرلیگ)، آئی سی ایل پاکستان، خان ریسرچ لیبز لاہور، لاہور لائنز اور دیگر مختلف بین الااقوامی کرکٹنگ ونچرز کا حصہ ہے جہاں سے عبدالرزاق نے بھاری آمدنی حاصل کی ہے اور عبدالرزاق نے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کیلئے کھیلنے پر ایک لاکھ ڈالر وصول کئے ہیں۔
اس کے علاوہ بہت سی نیشنل و ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اشتہاری مہم میں حصہ لینے پر بھی بھاری معاوضہ وصول کیا ہے، دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ کرکٹر اظہر علی نے ٹیکس ائیر2011 کے گوشوارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو سروسز کی فراہمی کے عوض وصول ہونے والے 77 لاکھ 71ہزار چھ روپے آمدنی ظاہر کی ہے جس پر چار لاکھ 66ہزار سات سو 32 روپے ٹیکس دیا گیا ہے لیکن اسکے ساتھ ہی مذکورہ آمدنی میں سے اظہر علی نے اپنے اخراجات 62 لاکھ65ہزار پانچ سو 78 روپے ظاہر کئے ہیں جو کہ بہت زیادہ ہیں جنکو چیک کرنے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ اظہر علی نے گوشوارے کے ساتھ ویلتھ سٹیٹمنٹ جمع نہیں کروائی ہے اور نہ ہی دوسرے ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی ظاہر کی ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ عمران فرحت کی طرف سے گذشتہ دو سال سے نہ ٹیکس گوشوارے جمع کروائے جارہے ہیں اور نہ ہی ویلتھ سٹیٹمنٹ جمع کروائی جارہی ہے جبکہ ایف بی آر نے آئی ٹی ایم ایس کے ذریعے سُراغ لگایا ہے کہ عمران فرحت نے ٹیکس ائیر2011 میں صرف پاکستان کرکٹ بورڈ سے ایک کروڑ چوہتر ہزار سولہ روپے وصول کئے ہیں جس پر چھ لاکھ چار ہزار چار سو چالیس روپے کی ٹیکس کٹوتی ہوئی ہے اس کے علاوہ عمران فرحت نے ٹیکس ائیر2011 میںچودہ لاکھ 73 ہزار روپے مالیت کی کار خریدی ہے اور انجن نمبر 3422798 چیسز نمبر18501 کی حامل اس کار کی انوائس 21 اپریل 2011 کو جاری ہوئی جبکہ اسکی رجسٹریشن 30 اپریل 2011 کو ہوئی۔
اس کے علاوہ ٹیکس ائیر2010 کے دوران عمران فرحت نے 19 لاکھ 28 ہزار روپے کی کار خریدی جسکی رجسٹریشن پندرہ اکتوبر 2011 کو ہوئی، دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ کامران اکمل کی طرف سے بھی گذشتہ دو سال سے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کروائے جارہے ہیں اور نہ ہی ویلتھ سٹیٹمنٹ جمع کروائی جارہی ہے جبکہ ایف بی آر نے جو ابتدائی معلومات حاصل کی ہیں اس کے مطابق کامران اکمل نے ٹیکس ائیر 2011 میں صرف کرکٹ بورڈ سے تین کروڑ چار لاکھ 38 ہزار پانچ سو 44 روپے کی آمدنی حاصل کی ہے جس پر اٹھارہ لاکھ اٹھائیس ہزار ایک سو چودہ روپے کی ٹیکس کٹوتی ہوئی ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ مصباح الحق کی طرف سے ٹیکس ائیر2011 کیلئے انکم ٹیکس گوشوارہ جمع نہیں کروایا گیا ہے اور مصباح الحق کے بارے میں صرف ایمپلائر سٹیٹمنٹ دستیاب ہے جس میں مصباح الحق کی سوئی ناردرن گیس پائپ لائن (ایس این جی پی ایل)سے حاصل کردہ تنخواہ کی مد میں 13 لاکھ 59 ہزار ایک سو 74 روپے کی آمدنی ظاہر کی گئی ہے جس پر ایک لاکھ 55ہزار پانچ سو 54 روپے کی ٹیکس کٹوتی کی گئی ہے جبکہ ایف بی آر نے مصباح الحق کی آمدنی کا سُراغ لگایا ہے جس کے مطابق صرف پاکستان کرکٹ بورڈ سے ٹیکس ائیر 2011کے دوران مصباح الحق نے دو کروڑ چودہ لاکھ 71 ہزار سات سو روپے کی آمدنی حاصل کی ہے جس پر تیرہ لاکھ23 ہزار سات سو 36روپے کی ٹیکس کٹوتی ہوئی ہے۔
دستاویز کے مطابق رانا نوید الحسن بھی گذشتہ دو سال سے نہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروارہے ہیں اور نہ ہی ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کروارہے ہیں جبکہ ایف بی آر نے جو ڈیٹا حاصل کیا ہے اس کے مطابق ٹیکس ائیر 2011 میں رانا نوید الحسن کی طرف سے صرف پاکستان کرکٹ بورڈ سے بائیس لاکھ اٹھائیس ہزار تین سو چھیالیس روپے کی آمدنی حاصل کی گئی ہے، اسی طرح سعید اجمل بھی گذشتہ دو سال سے نہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروارہے ہیں اور نہ ہی ویلتھ سٹیٹمنٹ جمع کروائی جارہی ہے تاہم ایف بی آرنے جو ڈیٹا اکٹھا کیا ہے اسکے مطابق سعید اجمل نے ٹیکس ائیر 2011 میں صرف کرکٹ بورڈ سے 22 کروڑ 47 لاکھ 41ہزار پانچ سو اکیس روپے کی آمدنی حاصل کی ہے جس پر چودہ لاکھ 84ہزار چار سو نوے روپے کی ٹیکس کٹوتی ہوئی ہے۔
دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ شعیب ملک کی طرف سے ٹیکس ائیر 2011 کے انکم ٹیکس گوشوارے میں اپنی سالانہ آمدنی میں سے سروسز کی فراہمی کی مد میں 82 لاکھ چھیانوے ہزار ایک سو 54 روپے آمدنی ظاہر کی ہے جس پر چار لاکھ ستانوے ہزار سات سو 69 روپے ٹیکس کٹوتی ہوئی ہے، دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ شعیب ملک کی طرف سے انکم ٹیکس گوشوارے تو جمع کروائے جارہے ہیں مگر گذشتہ دو سال سے ویلتھ سٹیٹمنٹ جمع نہیں کروا جارہی ہے اور نہ ہی کمرشل اشتہارات اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی ظاہر کی گئی ہے دستاویز میں دیگر کرکٹر کے بارے میں بھی تمام تر تفصیلات دی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ انکے بارے میں ایف آئی اے سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے دیگر ریکارڈ بھی حاصل کیا جائے اور ان سے انکی مطلوبہ صلاحیت کے مطابق ٹیکس وصولی کی جائے۔