پولیس سے اشتراک کے باعث اطلاعات لیک ہونیکا اندیشہ ہے رینجرز

سندھ ہائیکورٹ کی معاملات طے کرکے16اکتوبرتک رپورٹ پیش کرنیکی ہدایت

سندھ ہائیکورٹ کی معاملات طے کرکے16اکتوبرتک رپورٹ پیش کرنیکی ہدایت

ISLAMABAD:
رینجرز نے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں مقامی پولیس کے اشتراک پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کارروائی لیک ہونے کا اندیشہ ہے۔

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیرعالم اور جسٹس سید فاروق شاہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے رینجرز اور پولیس کے وکلا اور افسران کو باہم مشورے سے معاملات ایک ہفتے میں طے کرکے 16 اکتوبر کورپورٹ طلب کرلی،فاضل بینچ نے لاپتا شہری کے بارے میں نوٹس جاری کیے جانے کے باوجود جواب نہ دینے پر کمانڈنگ آفیسر ملیر کنٹونمنٹ کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا،فاضل بینچ نے تحقیقاتی اداروں کی جانب سے عدم تعاون پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالتی احکامات کو مسلسل نظراندازکیا جارہا ہے،عدالت کااحترام سب کیلیے ضروری ہے۔


رینجرزکی جانب سے حبیب احمد ایڈووکیٹ نے عدالت کوبتایاکہ رینجرزاپنی کارروائی سے قبل متعلقہ پولیس کو اطلاع فراہم دے تومعلومات مخفی نہیں رہتی اور ملزمان کو فرارہونے میں مددمل جاتی ہے، درخواست گزار ضیاء اقبال کے وکیل محمدفاروق ایڈوکیٹ نے عدالت کوبتایا کہ درخواست گزار کا بھائی اظہراقبال2011سے لاپتا ہے اسے بریگیڈئیرہُدیٰ اورکرنل گلستان سمیت دیگرنے گرفتارکیاہے، متعلقہ پولیس افسر نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے ملیر کینٹ میں متعلقہ فوجی افسران سے ملاقات کی ہے، ملنے والی معلومات کے مطابق بریگیڈیئرہُدیٰ مارچ2008میں ریٹائرڈ ہوگئے تھے جبکہ کرنل گلستان کی یہاں کبھی پوسٹنگ نہیں رہی۔

عدالت کے استفسار پر پولیس افسر یہ بتانے سے قاصر رہا کہ کس فوجی افسر سے اسے یہ معلومات ملی ہیں، عدالت نے ہدایت کی اس ضمن میں متعلقہ حکام سے بات چیت کے ذریعے متفقہ حل نکالیں اور مشترکہ اجلاس میں حبیب احمد ایڈووکیٹ،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل میران محمد شاہ اور پراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان بھی شریک ہوں۔ درخواست گزارمسمات امینہ بتول کے وکیل سید عبدالوحید ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزرا کے شوہراجمل وحید اور دیور اسامہ وحید کو یکم جولائی 2011 کو اسلام آباد سے کراچی آمد پر ایئرپورٹ سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔

13مئی2011کو لاپتا ہونیوالے سجادرحیم کے والدفضل رحیم کی درخواست پررینجرزکے وکیل نے درخواست گزار کے بیٹے کو رینجرز نے گرفتار نہیں کیا۔7جنوری2011کو لاپتا ہونے فیض کی والدہ مسمات سمعیہ کی درخواست کی سماعت کے موقع پرعدالت کوبتایاگیاکہ نہ معلوم فردکی جانب سے فراہم کی اطلاع کے مطابق اس کے بیٹے کو قتل کردیاگیا۔
Load Next Story