نارتھ ناظم آباد پولیس نے ڈاکو سمجھ کربیگناہ شہری قتل کردیا
نارتھ ناظم آباد میں پولیس نے ڈاکو سمجھ کربے گناہ شہری کوقتل کردیا، مقتول تنخواہ ملنے پرمٹھائی لے کر گھر جارہا تھا۔
مقتول کے اہل خانہ نے نارتھ ناظم آباد 5 اسٹار چورنگی کے قریب میت سڑک پر رکھ کر ٹریفک بلاک کردی اور پولیس کے خلاف شدید احتجاج اور نعرے بازی کی۔ فوٹو : ساجد رؤف / ایکسپریس
نارتھ ناظم آبادمیں پولیس نے ڈاکو سمجھ کربے گناہ شہری کوقتل کردیا، مقابلے کے دوران اہلکار اسدکوبھی ڈاکوسمجھے،مقتول تنخواہ ملنے پرمٹھائی لے کر گھر جارہا تھا، متحدہ کے رہنما بھی جائے وقوعہ پہنچ گئے، مقدمہ درج کرلیاگیا۔
نارتھ ناظم آباد میں پولیس مقابلہ کے بعد3 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کرکے اسلحہ اور موٹر سائیکل برآمد کر لی گئی، فائرنگ کے تبادلے میں ایک شہری بھی جاں بحق ہوگیا جس کے بارے میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ شہری ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوا ہے، شہری کی ہلاکت کے خلاف اہل خانہ نے سڑک پر لاش رکھ کر فائیو اسٹار چورنگی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے فائرنگ میں ملوث پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ نارتھ ناظم آباد تھانے کے علاقے بلاکD یو نائیٹڈ بیکری کے قریب 5مسلح ملزمان شہریوں سے لوٹ مار کر رہے تھے کہ اسی دوران گشت پر مامور پولیس پارٹی موقع پر پہنچ گئی جنھیں دیکھ کر ڈاکوؤں نے فائرنگ کردی۔
پولیس کی جانب سے جوابی فائرنگ کی گئی جس کے بعد 3 ڈاکوؤں کو زخمی حالت میں گرفتار کرکے2 پستول اور ایک موٹر سائیکل برآمد کر لی گئی جبکہ 2 ڈاکو فرار ہوگئے، فائرنگ کے تبادلے میں38 سالہ محمد اسد خان جاں بحق ہوگیا، جاں بحق ہونے والا شہری ناگن چورنگی کے قریب مسلم ٹاؤن کا رہائشی اور نجی ٹیکسٹائل مل میں ایگزیکٹو افسر تھا جبکہ جائے وقوعے پر موجود مشتعل ہجوم نے ایک موٹر سائیکل نذر آتش کردی۔ ایس پی گلبرگ ڈویژن چوہدری اسد کا کہنا تھا کہ مسلح ڈاکو بورڈ آفس کی جانب سے شہریوں سے لوٹ مار کرتے ہوئے آ رہے تھے اور مسلح ڈاکو جیسے ہی نارتھ ناظم آباد بلاکD میں واقع یو نائیٹڈ بیکری کے قریب پہنچے تو موٹر سائیکل سوار اسد خان نامی شخص اچانک ان کے سامنے آگیا اور مسلح ڈاکو اسد سے بھی لوٹ مار کرنے لگے۔
جس پر اسد نے مزاحمت کی تو مسلح ڈاکو نے اس کے سر پر فائرنگ کردی جس کی آواز سن کر قریب موجود پولیس پارٹی موقع پر پہنچ گئی اور فائرنگ کے تبادلے میں3 ڈاکوؤں سلیم، نعیم اور اویس کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا، مقتول اسد خان کے اہل خانہ، اہل محلہ عزیز واقارب اور دوستوں کی بڑی تعداد عباسی شہید اسپتال پہنچ گئی جہاں انھوں نے پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا، بعدازاں مشتعل افراد نے نارتھ ناظم آباد 5 اسٹار چورنگی کے قریب مقتول اسد خان کی میت سڑک پر رکھ ٹریفک بلاک کردی اور پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ اس موقع پر اہلخانہ کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے اسد کو ڈاکو سمجھ کر اس پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں اسد جاں بحق ہو گیا، اہل خانہ نے فائرنگ میں ملوث پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرنے اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ایس پی گلبرگ ڈویژن چوہدری اسد احتجاجی مظاہرین سے بات چیت کرنے کے لیے فائیو اسٹار چورنگی پہنچے تو مشتعل مظاہرین نے انھیں دھکے دے کر پیچھے ہٹا دیا ۔
جس کے باعث انھیں واپس جانا پڑا ، احتجاجی مظاہرین گو زرداری گو کے نعرے بھی لگاتے رہے۔ علاوہ ازیں فائیواسٹارچورنگی پرمتحدہ قومی موومنٹ کے رہنما بابر غوری اور خواجہ اظہار الحسن سمیت دیگر اہم عہدے داران بھی پہنچ گئے۔ احتجاج کے باعث فائیو اسٹار چورنگی پر بدترین ٹریفک جام ہو گیا اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔دوسری جانب ایس ایس پی سینٹرل نعمان صدیقی نے ایس ایچ او نارتھ ناظم آباد نواز گوندل کو معطل کردیا ، ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والے نوجوان کے اہلخانہ کو ہر ممکن انصاف فراہم کیا جائے گا اور ان کی مرضی کے مطابق واقعے کی ایف آئی آر درج کی جائے گی، واقعے کی صاف اور شفاف تحقیقات کی ہدایت کردی گئی ہے اور جو بھی پولیس اہلکار ملوث پایا گیا اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
علاوہ ازیں نارتھ ناظم آباد میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے اسد کے ورثا سے ڈی آئی جی ویسٹ کیپٹن رٹائرڈ طاہر نوید نے دیگر پولیس حکام اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں کے ہمراہ مذاکرات کیے جس کے بعد قتل کا مقدمہ پیر کی شب نارتھ ناظم آباد تھانے میں درج کرلیا گیا ، ایف آئی آر کے تحت پولیس اہلکاروں کے خلاف مقتول کے رشتے دار جنید کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا، مقدمہ درج کیے جانے کے بعد ورثا اور رشتے داروں نے فائیو اسٹار چورنگی پر لاش کے ہمراہ دیا جانے والا دھرنا بھی ختم کردیا، دھرنا ختم کیے جانے کے بعد پولیس نے ٹریفک معمول کے مطابق بحال کرادیا۔مقتول اسد کو آج ہی پہلی تنخواہ ملی تھی جس کی خوشی میں وہ گھر مٹھائی لے کر جارہا تھا۔
نارتھ ناظم آباد میں پولیس مقابلہ کے بعد3 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کرکے اسلحہ اور موٹر سائیکل برآمد کر لی گئی، فائرنگ کے تبادلے میں ایک شہری بھی جاں بحق ہوگیا جس کے بارے میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ شہری ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوا ہے، شہری کی ہلاکت کے خلاف اہل خانہ نے سڑک پر لاش رکھ کر فائیو اسٹار چورنگی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے فائرنگ میں ملوث پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ نارتھ ناظم آباد تھانے کے علاقے بلاکD یو نائیٹڈ بیکری کے قریب 5مسلح ملزمان شہریوں سے لوٹ مار کر رہے تھے کہ اسی دوران گشت پر مامور پولیس پارٹی موقع پر پہنچ گئی جنھیں دیکھ کر ڈاکوؤں نے فائرنگ کردی۔
پولیس کی جانب سے جوابی فائرنگ کی گئی جس کے بعد 3 ڈاکوؤں کو زخمی حالت میں گرفتار کرکے2 پستول اور ایک موٹر سائیکل برآمد کر لی گئی جبکہ 2 ڈاکو فرار ہوگئے، فائرنگ کے تبادلے میں38 سالہ محمد اسد خان جاں بحق ہوگیا، جاں بحق ہونے والا شہری ناگن چورنگی کے قریب مسلم ٹاؤن کا رہائشی اور نجی ٹیکسٹائل مل میں ایگزیکٹو افسر تھا جبکہ جائے وقوعے پر موجود مشتعل ہجوم نے ایک موٹر سائیکل نذر آتش کردی۔ ایس پی گلبرگ ڈویژن چوہدری اسد کا کہنا تھا کہ مسلح ڈاکو بورڈ آفس کی جانب سے شہریوں سے لوٹ مار کرتے ہوئے آ رہے تھے اور مسلح ڈاکو جیسے ہی نارتھ ناظم آباد بلاکD میں واقع یو نائیٹڈ بیکری کے قریب پہنچے تو موٹر سائیکل سوار اسد خان نامی شخص اچانک ان کے سامنے آگیا اور مسلح ڈاکو اسد سے بھی لوٹ مار کرنے لگے۔
جس پر اسد نے مزاحمت کی تو مسلح ڈاکو نے اس کے سر پر فائرنگ کردی جس کی آواز سن کر قریب موجود پولیس پارٹی موقع پر پہنچ گئی اور فائرنگ کے تبادلے میں3 ڈاکوؤں سلیم، نعیم اور اویس کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا، مقتول اسد خان کے اہل خانہ، اہل محلہ عزیز واقارب اور دوستوں کی بڑی تعداد عباسی شہید اسپتال پہنچ گئی جہاں انھوں نے پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا، بعدازاں مشتعل افراد نے نارتھ ناظم آباد 5 اسٹار چورنگی کے قریب مقتول اسد خان کی میت سڑک پر رکھ ٹریفک بلاک کردی اور پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ اس موقع پر اہلخانہ کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے اسد کو ڈاکو سمجھ کر اس پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں اسد جاں بحق ہو گیا، اہل خانہ نے فائرنگ میں ملوث پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرنے اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ایس پی گلبرگ ڈویژن چوہدری اسد احتجاجی مظاہرین سے بات چیت کرنے کے لیے فائیو اسٹار چورنگی پہنچے تو مشتعل مظاہرین نے انھیں دھکے دے کر پیچھے ہٹا دیا ۔
جس کے باعث انھیں واپس جانا پڑا ، احتجاجی مظاہرین گو زرداری گو کے نعرے بھی لگاتے رہے۔ علاوہ ازیں فائیواسٹارچورنگی پرمتحدہ قومی موومنٹ کے رہنما بابر غوری اور خواجہ اظہار الحسن سمیت دیگر اہم عہدے داران بھی پہنچ گئے۔ احتجاج کے باعث فائیو اسٹار چورنگی پر بدترین ٹریفک جام ہو گیا اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔دوسری جانب ایس ایس پی سینٹرل نعمان صدیقی نے ایس ایچ او نارتھ ناظم آباد نواز گوندل کو معطل کردیا ، ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والے نوجوان کے اہلخانہ کو ہر ممکن انصاف فراہم کیا جائے گا اور ان کی مرضی کے مطابق واقعے کی ایف آئی آر درج کی جائے گی، واقعے کی صاف اور شفاف تحقیقات کی ہدایت کردی گئی ہے اور جو بھی پولیس اہلکار ملوث پایا گیا اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
علاوہ ازیں نارتھ ناظم آباد میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے اسد کے ورثا سے ڈی آئی جی ویسٹ کیپٹن رٹائرڈ طاہر نوید نے دیگر پولیس حکام اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں کے ہمراہ مذاکرات کیے جس کے بعد قتل کا مقدمہ پیر کی شب نارتھ ناظم آباد تھانے میں درج کرلیا گیا ، ایف آئی آر کے تحت پولیس اہلکاروں کے خلاف مقتول کے رشتے دار جنید کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا، مقدمہ درج کیے جانے کے بعد ورثا اور رشتے داروں نے فائیو اسٹار چورنگی پر لاش کے ہمراہ دیا جانے والا دھرنا بھی ختم کردیا، دھرنا ختم کیے جانے کے بعد پولیس نے ٹریفک معمول کے مطابق بحال کرادیا۔مقتول اسد کو آج ہی پہلی تنخواہ ملی تھی جس کی خوشی میں وہ گھر مٹھائی لے کر جارہا تھا۔