جعلی تعلیمی اسنادپرپولیس اہلکارکو5 سال قید ہوگئی

پولیس میں نوکری حاصل کرنے کے الزام میں ملوث ہیڈ کانسٹیبل مراد بخش کو 5 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا۔

مجرم کو جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید 6 ماہ جیل میں رہنا ہوگا ۔ فوٹو: فائل

SYDNEY:
انسداد بدعنوانی کی صوبائی عدالت کی جج گلشن آرا چانڈیو نے جعلی تعلیمی اسناد کے ذریعے پولیس میں نوکری حاصل کرنے کے الزام میں ملوث ہیڈ کانسٹیبل مراد بخش کو 5 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنادی مجرم کو جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید 6 ماہ جیل میں رہنا ہوگا ۔


عدالت نے مجرم کی ضمانت منسوخ کرکے اسے جیل بھیج دیا،مجرم کی سوتیلی بہن نازمین نے جنوری2010 میں تحریری شکایت کی کہ اس کے سوتیلے بھائی مراد بخش نے جعلی اسناد پر پولیس میں نوکری حاصل کی ہے فاضل عدالت نے اینٹی کرپشن پولیس کو تحقیق کا حکم دیا،اینٹی کرپشن پولیس نے مجرم کی تعلیمی اسناد بورڈ آفس سے تصدیق کرائی جو جعلی نکلی جس پر مجرم کے خلاف جعل سازی کا مقدمہ درج کیا گیا، دریں اثنا اسی عدالت نے جعلسازی اور دوران ملازمت غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزام میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد عارف کو عدم ثبوت بری کردیا،وکیل صفائی نے بتایا کہ اس کے موکل کی تعلیمی اسناد کو بورڈ آفس نے درست قرار دیا ہے۔

کئی بار پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی میں موکل کو لاکھوں روپے انعام حاصل ہوا اس موقع پر انعامی پرائز بانڈ بھی پیش کیے گئے، مدعی مقدمہ بلیک میلر ہے وہ سرکاری افسران کے خلاف جھوٹے مقدمے درج کراکر رقم بٹورتا ہے، درخواست گزار عبدالشکور نے نجی استغاثہ میں موقف اختیار کیا کہ پولیس افسر نے جعلی اسناد پر پولیس میں نوکری حاصل کی، جوا خانہ کھولا اور ڈیفنس میں اثاثے بنائے مہنگی ترین گاڑیاں خریدیں۔
Load Next Story