سیاسی غیر یقینی جولائی تا ستمبر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 26 فیصد کمی
رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 26.65فیصد کم رہی۔
پہلی سہ ماہی کے دوران مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری 8.2فیصد کمی سے 31کروڑ 10لاکھ ڈالر رہی، فوٹو: اے ایف پی/فائل
ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور حکومت مخالف تحریک اور سیاسی بے یقینی کے سبب بیرونی سرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے محتاط طرز عمل اختیار کیا جارہا ہے جس کے نتیجے میں رواں مالی سال کے دوران اب تک غیرملکی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 26.65فیصد کم رہی۔ معاشی ماہرین کے مطابق ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور حکومت مخالف تحریک معیشت پر اثر انداز ہورہی ہے جس کا نمایاں اثر بیرونی سرمایہ کاری پر مرتب ہورہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال پہلی سہ ماہی میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 16کروڑ 95لاکھ ڈالر رہی جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کی جانے والی 23کروڑ 11لاکھ ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری سے 6کروڑ 16لاکھ ڈالر( 26.65فیصد) کم ہے۔
پہلی سہ ماہی کے دوران مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری 8.2فیصد کمی سے 31کروڑ 10لاکھ ڈالر رہی، گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 33کروڑ 87لاکھ ڈالر کی مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ رواں سال 31کروڑ 10لاکھ ڈالر کی مجموعی سرمایہ کاری میں غیرملکی نجی سرمایہ کاری 29فیصد اضافے سے 34کروڑ 81لاکھ ڈالر رہی جس میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 26.6فیصد کمی سے 16کروڑ 95لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ پورٹ فولیو سرمایہ کاری 3کروڑ 87لاکھ ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 17کروڑ 85لاکھ ڈالر رہی۔ اگست کے مقابلے میں ستمبر 2014کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 30.5فیصد اضافے سے 8کروڑ 24لاکھ ڈالر رہی۔
پہلی سہ ماہی کے دوران ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹر سے ایف ڈی آئی کا انخلا 3کروڑ 27لاکھ ڈالر رہا گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں اس شعبے سے 5کروڑ 84لاکھ ڈالر کی ایف ڈی آئی کا انخلا ریکارڈ کیا گیا تھا، ستمبر کے مہینے میں ٹیلی کام سیکٹر میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری منفی ایک کروڑ 10لاکھ ڈالر رہی۔ پہلی سہ ماہی کے دوران سب سے زیادہ 8کروڑ 62لاکھ ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری تیل و گیس کی تلاش کے شعبے میں گئی تاہم یہ سرمایہ کاری گزشتہ سال کے اسی عرصے میں کی جانے والی 10کروڑ 39لاکھ ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری سے 17فیصد کم رہی۔
فنانشل بزنس میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 3کروڑ 68لاکھ ڈالر رہی جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 9.13فیصد کم رہی۔ ٹوبیکو اینڈ سگریٹ کے شعبے میں 3کروڑ ڈالر، کیمکلز کے شعبے میں 2کروڑ 30لاکھ ڈالر، فوڈ سیکٹر میں ایک کروڑ 34لاکھ ڈالر، ٹریڈ سیکٹر میں ایک کروڑ 5لاکھ ڈالر، پرسنل سروسز میں ایک کروڑ 21لاکھ ڈالر، ٹیکسٹائل کے شعبے میں 78لاکھ ڈالر، پاور سیکٹر میں ایک کروڑ 87 لاکھ ڈالر اور آٹو سیکٹر میں 70لاکھ ڈالر کی ایف ڈی آئی ریکارڈ کی گئی۔
ایف ڈی آئی کے انخلا کے لحاظ سے فارما اور سیمنٹ سیکٹر سرفہرست رہے جن سے بالترتیب 4کروڑ 77لاکھ اور 60لاکھ ڈالر کا انخلا ریکارڈ کیا گیا۔ پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کے لحاظ سے امریکا 4کروڑ 15لاکھ ڈالر کے ساتھ سرفہرست رہا دیگر نمایاں ملکوں میں ہانگ کانگ 4کروڑ 34لاکھ ڈالر، برطانیہ 3کروڑ 66لاکھ ڈالر، فرانس ایک کروڑ 77لاکھ ڈالر، ناروے ایک کروڑ 70لاکھ ڈالر، جاپان ایک کروڑ 8لاکھ ڈالر، اٹلی ایک کروڑ 98لاکھ ڈالر، مصر 69لاکھ ڈالر اور آسٹریا 92لاکھ ڈالر کے ساتھ نمایاں رہے۔
پاکستان سے ایف ڈی آئی نکالنے والے ملکوں میں قطر ایک کروڑ 48لاکھ ڈالر کے ساتھ سرفہرست رہا دیگر ملکوں میں سعودی عرب ایک کروڑ 46لاکھ ڈالر، متحدہ عرب امارات 87لاکھ ڈالر، سنگاپور ایک کروڑ 13لاکھ ڈالر، ملائیشیا 66لاکھ ڈالر، چین 39لاکھ ڈالر، کینیڈا 62 لاکھ ڈالر فن لینڈ 64لاکھ ڈالر، لگژمبرگ 67لاکھ ڈالر اور سوئیٹزرلینڈ نے 2کروڑ 25لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان سے نکال لی۔
رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 26.65فیصد کم رہی۔ معاشی ماہرین کے مطابق ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور حکومت مخالف تحریک معیشت پر اثر انداز ہورہی ہے جس کا نمایاں اثر بیرونی سرمایہ کاری پر مرتب ہورہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال پہلی سہ ماہی میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 16کروڑ 95لاکھ ڈالر رہی جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کی جانے والی 23کروڑ 11لاکھ ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری سے 6کروڑ 16لاکھ ڈالر( 26.65فیصد) کم ہے۔
پہلی سہ ماہی کے دوران مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری 8.2فیصد کمی سے 31کروڑ 10لاکھ ڈالر رہی، گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 33کروڑ 87لاکھ ڈالر کی مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ رواں سال 31کروڑ 10لاکھ ڈالر کی مجموعی سرمایہ کاری میں غیرملکی نجی سرمایہ کاری 29فیصد اضافے سے 34کروڑ 81لاکھ ڈالر رہی جس میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 26.6فیصد کمی سے 16کروڑ 95لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ پورٹ فولیو سرمایہ کاری 3کروڑ 87لاکھ ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 17کروڑ 85لاکھ ڈالر رہی۔ اگست کے مقابلے میں ستمبر 2014کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 30.5فیصد اضافے سے 8کروڑ 24لاکھ ڈالر رہی۔
پہلی سہ ماہی کے دوران ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹر سے ایف ڈی آئی کا انخلا 3کروڑ 27لاکھ ڈالر رہا گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں اس شعبے سے 5کروڑ 84لاکھ ڈالر کی ایف ڈی آئی کا انخلا ریکارڈ کیا گیا تھا، ستمبر کے مہینے میں ٹیلی کام سیکٹر میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری منفی ایک کروڑ 10لاکھ ڈالر رہی۔ پہلی سہ ماہی کے دوران سب سے زیادہ 8کروڑ 62لاکھ ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری تیل و گیس کی تلاش کے شعبے میں گئی تاہم یہ سرمایہ کاری گزشتہ سال کے اسی عرصے میں کی جانے والی 10کروڑ 39لاکھ ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری سے 17فیصد کم رہی۔
فنانشل بزنس میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 3کروڑ 68لاکھ ڈالر رہی جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 9.13فیصد کم رہی۔ ٹوبیکو اینڈ سگریٹ کے شعبے میں 3کروڑ ڈالر، کیمکلز کے شعبے میں 2کروڑ 30لاکھ ڈالر، فوڈ سیکٹر میں ایک کروڑ 34لاکھ ڈالر، ٹریڈ سیکٹر میں ایک کروڑ 5لاکھ ڈالر، پرسنل سروسز میں ایک کروڑ 21لاکھ ڈالر، ٹیکسٹائل کے شعبے میں 78لاکھ ڈالر، پاور سیکٹر میں ایک کروڑ 87 لاکھ ڈالر اور آٹو سیکٹر میں 70لاکھ ڈالر کی ایف ڈی آئی ریکارڈ کی گئی۔
ایف ڈی آئی کے انخلا کے لحاظ سے فارما اور سیمنٹ سیکٹر سرفہرست رہے جن سے بالترتیب 4کروڑ 77لاکھ اور 60لاکھ ڈالر کا انخلا ریکارڈ کیا گیا۔ پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کے لحاظ سے امریکا 4کروڑ 15لاکھ ڈالر کے ساتھ سرفہرست رہا دیگر نمایاں ملکوں میں ہانگ کانگ 4کروڑ 34لاکھ ڈالر، برطانیہ 3کروڑ 66لاکھ ڈالر، فرانس ایک کروڑ 77لاکھ ڈالر، ناروے ایک کروڑ 70لاکھ ڈالر، جاپان ایک کروڑ 8لاکھ ڈالر، اٹلی ایک کروڑ 98لاکھ ڈالر، مصر 69لاکھ ڈالر اور آسٹریا 92لاکھ ڈالر کے ساتھ نمایاں رہے۔
پاکستان سے ایف ڈی آئی نکالنے والے ملکوں میں قطر ایک کروڑ 48لاکھ ڈالر کے ساتھ سرفہرست رہا دیگر ملکوں میں سعودی عرب ایک کروڑ 46لاکھ ڈالر، متحدہ عرب امارات 87لاکھ ڈالر، سنگاپور ایک کروڑ 13لاکھ ڈالر، ملائیشیا 66لاکھ ڈالر، چین 39لاکھ ڈالر، کینیڈا 62 لاکھ ڈالر فن لینڈ 64لاکھ ڈالر، لگژمبرگ 67لاکھ ڈالر اور سوئیٹزرلینڈ نے 2کروڑ 25لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان سے نکال لی۔