ریڈ زون کی سڑکیں بند بد ترین ٹریفک جام
ریلیوں کو امریکی قونصلیٹ جانے سے روکنے کیلیے اہم اور مصروف شاہراہوں کو کنٹینر لگا کر سیل کر دیا گیا۔
گستاخانہ فلم کیخلاف جمعہ کو احتجاج کے پیش نظر حفاظتی اقدامات کے تحت شاہین کمپلیکس پرکنٹینر کھڑے کرکے ریڈزون کو ٹریفک کے لیے بند کیاجارہا ہے فوٹو : ایکسپریس
پولیس کی جانب سے ریلیوں کو امریکی قونصل خانے جانے سے روکنے کے لیے ریڈ زون میں اہم اور مصروف شاہراہوں کو کنٹینر لگا کر سیل کر دیا گیا۔
جس کی وجہ سے ان علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، پولیس کی جانب سے گورنر ہاؤس ، سی ایم ہاؤس ، مائی کلاچی اور جناح برج ، نیٹی جیٹی پل اور مولوی تمیز الدین روڈ، ڈاکٹر ضیا الدین روڈکے سنگم شاہین کمپلیکس سمیت دیگر شاہراہوں پر کنٹینر لگا کر سیل کر دیا گیا ۔
جس کے باعث ان علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ ایمبولینسیں بھی پھنسی رہیں جس سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔
ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے ایک ٹریفک پولیس افسر نے بتایا کہ گستاخانہ فلم کے خلاف جمعہ کو مذہبی جماعتوں کی جانب سے احتجاجی ریلی کے اعلان کے بعد اعلیٰ حکام کے حکم پر جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب امریکی قونصلیٹ سمیت ریڈ زون جانے والے راستوں کو بند کرنے کے حکم کے بعد کنٹینر ، ٹریلر اور ٹینکر سمیت دیگر رکاوٹیں لگا کر ان راستوں کو بند کر دیا گیا۔
جس کے باعث گل بائی ، ماڑی پور روڈ ، کیماڑی ، آئی آئی چندریگر روڈ ، شاہراہ فیصل ، شاہراہ لیاقت ، ایم اے جناح روڈ اور صدر کی مختلف شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام ہو گیا ، ٹریفک جام ہوتے ہی ٹریفک پولیس بھی سڑکوں سے غائب ہو گئی ، متعدد مقامات پر شہری اپنی مدد آپ کے تحت ٹریفک بحال کراتے ہوئے نظر آئے ، ٹریفک جام میں پھنسی متعدد گاڑیوں کا ایندھن ختم ہو گیا۔
جس کے باعث شہریوں کو دوہری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا متعدد گاڑیاں سڑک کے بیچوں بیچ بند ہوگئیں جنھیں خواتین اور بچوں نے دھکے لگا کر سڑک کے کنارے لگایا، متعدد مقامات پر ٹریفک جام میں پھنسے شہری ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے ، گھنٹوں ٹریفک جام کے باعث ٹیکسیوں ، رکشوں اور مسافر بسوں میں سوار مسافر پیدل ہی اپنی منزل کی طرف چل پڑے ، سڑکوں پر گاڑیاں اور فٹ پاتھوں پر موٹر سائیکلیں ہونے کے باعث پیدل چلنے والوں کے لیے بھی راستے بند ہو گئے ۔
ٹریفک پولیس کی ہیلپ لائن 1915 کے مطابق ہفتہ کی شام 5 بجے ریڈ زون میں لگائے جانے والے کنٹینر اور دیگر رکاوٹیں ہٹانی شروع کر دی گئی تھیں اور 7 بجے تک تمام شاہراہوں سے رکاوٹیں ختم کر دی گئیں تاہم شاہراہوں پرسیکڑوں گاڑیوں کی موجودگی کے باعث رات گئے تک ٹریفک جام رہا ۔
جس کی وجہ سے ان علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، پولیس کی جانب سے گورنر ہاؤس ، سی ایم ہاؤس ، مائی کلاچی اور جناح برج ، نیٹی جیٹی پل اور مولوی تمیز الدین روڈ، ڈاکٹر ضیا الدین روڈکے سنگم شاہین کمپلیکس سمیت دیگر شاہراہوں پر کنٹینر لگا کر سیل کر دیا گیا ۔
جس کے باعث ان علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ ایمبولینسیں بھی پھنسی رہیں جس سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔
ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے ایک ٹریفک پولیس افسر نے بتایا کہ گستاخانہ فلم کے خلاف جمعہ کو مذہبی جماعتوں کی جانب سے احتجاجی ریلی کے اعلان کے بعد اعلیٰ حکام کے حکم پر جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب امریکی قونصلیٹ سمیت ریڈ زون جانے والے راستوں کو بند کرنے کے حکم کے بعد کنٹینر ، ٹریلر اور ٹینکر سمیت دیگر رکاوٹیں لگا کر ان راستوں کو بند کر دیا گیا۔
جس کے باعث گل بائی ، ماڑی پور روڈ ، کیماڑی ، آئی آئی چندریگر روڈ ، شاہراہ فیصل ، شاہراہ لیاقت ، ایم اے جناح روڈ اور صدر کی مختلف شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام ہو گیا ، ٹریفک جام ہوتے ہی ٹریفک پولیس بھی سڑکوں سے غائب ہو گئی ، متعدد مقامات پر شہری اپنی مدد آپ کے تحت ٹریفک بحال کراتے ہوئے نظر آئے ، ٹریفک جام میں پھنسی متعدد گاڑیوں کا ایندھن ختم ہو گیا۔
جس کے باعث شہریوں کو دوہری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا متعدد گاڑیاں سڑک کے بیچوں بیچ بند ہوگئیں جنھیں خواتین اور بچوں نے دھکے لگا کر سڑک کے کنارے لگایا، متعدد مقامات پر ٹریفک جام میں پھنسے شہری ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے ، گھنٹوں ٹریفک جام کے باعث ٹیکسیوں ، رکشوں اور مسافر بسوں میں سوار مسافر پیدل ہی اپنی منزل کی طرف چل پڑے ، سڑکوں پر گاڑیاں اور فٹ پاتھوں پر موٹر سائیکلیں ہونے کے باعث پیدل چلنے والوں کے لیے بھی راستے بند ہو گئے ۔
ٹریفک پولیس کی ہیلپ لائن 1915 کے مطابق ہفتہ کی شام 5 بجے ریڈ زون میں لگائے جانے والے کنٹینر اور دیگر رکاوٹیں ہٹانی شروع کر دی گئی تھیں اور 7 بجے تک تمام شاہراہوں سے رکاوٹیں ختم کر دی گئیں تاہم شاہراہوں پرسیکڑوں گاڑیوں کی موجودگی کے باعث رات گئے تک ٹریفک جام رہا ۔