ٹرین حادثے میں ملوث ڈرائیور و اسسٹنٹ کو جیل بھیج دیا گیا
ڈرائیور مقبول واسسٹنٹ نے غفلت برتی اور ریل گاڑی ٹکرادی تھی،گارڈ اصغر اور مسافر ہلاک ہوگئے تھے،ملزمان مفرور تھے.
اقدام قتل کے الزام میں محافظ فورس کے اہلکار محمد ابراہیم کو 5 برس قید، مقتولہ کی موت کینسر سے ہوئی ہے، وکیل۔ فوٹو: رائٹرز
جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر احمد علی میمن نے قتل خطا غفلت لاپروائی و دیگر الزامات میں گرفتار۔
شالیمار ایکسپریس کے ڈرائیور مقبول احمد اور اس کے اسسٹنٹ ڈرائیور کامران کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے استغاثہ کے مطابق 17ستمبرکو لاہور سے آنے والی شالیمار ایکسپریس کے ڈرائیور نے غفلت لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرخ سگنل ہونے کے باوجود ٹرین نہیں روکی تھی۔
گھگھر پھاٹک کے قریب کھڑی ملت ایکسپریس سے ٹکرادی تھی جس کے نتیجے میں ٹرین کا گارڈ اصغر اور ایک مسافر ہلاک 5 زخمی ہوگئے تھے جبکہ ملزمان موقع سے فرار ہوگئے تھے۔
تاہم گذشتہ روز اسٹیل ٹائون پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرکے جمعہ کو ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کیلیے فاضل عدالت میں پیش کیا تھا تاہم فاضل عدالت نے دونوں ملزمان کو جیل بھیج دیا اور تفتیشی افسر کو ملزمان کے خلاف چالان جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
دریں اثنا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جوڈیشل کمپلیکس منٹھار جتوئی نے قتل اور اقدام قتل کے الزام میں ملوث محافظ فورس کے اہلکارمحمد ابراہیم کو اقدام قتل کے جرم میں 5 برس قید کی سزا سنائی ہے جبکہ قتل کا الزام ثابت نہ ہوسکا استغاثہ کے مطابق ملزم نے قریبی رشتہ دار خاتون حلیمہ کو کاروکاری کے الزام میںقتل کرنے کی نیت سے فائرنگ کرکے زخمی کردیا تھا۔
تاہم اسپتال میں اس کی جان بچ گئی تھی دوران علاج پولیس نے متاثرہ خاتون کے بیان پر ملزم ابراہیم کے خلاف تھانہ کورنگی نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو 31اکتوبر2007کو گرفتار کرلیا تھا بعدازاں متاثرہ خاتون کواسپتال سے فارغ کردیا گیا تھا لیکن چند روز بعد اسکا انتقال ہوگیا تھا۔
ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقتولہ کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق موت کی وجہ خون میں کینسر بتائی گئی ہے اور ایم ایل او نے بھی زخمی ہونے پر علاج کیا اور صحت مند ہونے کے بعد اسے اسپتال سے فارغ کردیا تھا جبکہ گواہوں نے بھی زخمی ہونے سے متعلق فاضل عدالت کو بتایا ہے، عدالت نے اقدام قتل کے الزام میں مجرم قرار دیا اور پانچ برس قید کی سزا سنائی ہے۔
شالیمار ایکسپریس کے ڈرائیور مقبول احمد اور اس کے اسسٹنٹ ڈرائیور کامران کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے استغاثہ کے مطابق 17ستمبرکو لاہور سے آنے والی شالیمار ایکسپریس کے ڈرائیور نے غفلت لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرخ سگنل ہونے کے باوجود ٹرین نہیں روکی تھی۔
گھگھر پھاٹک کے قریب کھڑی ملت ایکسپریس سے ٹکرادی تھی جس کے نتیجے میں ٹرین کا گارڈ اصغر اور ایک مسافر ہلاک 5 زخمی ہوگئے تھے جبکہ ملزمان موقع سے فرار ہوگئے تھے۔
تاہم گذشتہ روز اسٹیل ٹائون پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرکے جمعہ کو ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کیلیے فاضل عدالت میں پیش کیا تھا تاہم فاضل عدالت نے دونوں ملزمان کو جیل بھیج دیا اور تفتیشی افسر کو ملزمان کے خلاف چالان جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
دریں اثنا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جوڈیشل کمپلیکس منٹھار جتوئی نے قتل اور اقدام قتل کے الزام میں ملوث محافظ فورس کے اہلکارمحمد ابراہیم کو اقدام قتل کے جرم میں 5 برس قید کی سزا سنائی ہے جبکہ قتل کا الزام ثابت نہ ہوسکا استغاثہ کے مطابق ملزم نے قریبی رشتہ دار خاتون حلیمہ کو کاروکاری کے الزام میںقتل کرنے کی نیت سے فائرنگ کرکے زخمی کردیا تھا۔
تاہم اسپتال میں اس کی جان بچ گئی تھی دوران علاج پولیس نے متاثرہ خاتون کے بیان پر ملزم ابراہیم کے خلاف تھانہ کورنگی نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو 31اکتوبر2007کو گرفتار کرلیا تھا بعدازاں متاثرہ خاتون کواسپتال سے فارغ کردیا گیا تھا لیکن چند روز بعد اسکا انتقال ہوگیا تھا۔
ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقتولہ کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق موت کی وجہ خون میں کینسر بتائی گئی ہے اور ایم ایل او نے بھی زخمی ہونے پر علاج کیا اور صحت مند ہونے کے بعد اسے اسپتال سے فارغ کردیا تھا جبکہ گواہوں نے بھی زخمی ہونے سے متعلق فاضل عدالت کو بتایا ہے، عدالت نے اقدام قتل کے الزام میں مجرم قرار دیا اور پانچ برس قید کی سزا سنائی ہے۔