قومی ٹیم کو بیٹنگ میں بہتری کی ضرورت ہے سابق اسٹارز

فتح سے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہو گئے، اقبال قاسم

عمر گل اور عمر اکمل نے اچھا کھیل پیش کر کے ٹاپ آرڈرکی ناکامی کا داغ دھودیا، ظہیرعباس فوٹو : فائل

سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے پاکستانی ٹیم کی جنوبی افریقہ کیخلاف فتح پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بیٹنگ میں بہتری لانے کی ہدایت دی ہے۔

سابق کپتان ظہیر عباس نے نمائندہ ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم 2 وکٹ سے جیت ضرور گئی تاہم کم ٹوٹل کے حصول میں بھی سخت جدوجہد کرنا پڑی، پاکستان نے بولنگ اچھی کی تاہم فاسٹ بولرز زیادہ کامیاب نہیں رہے،اسی طرح مستند بیٹسمینوں نے ذمہ داری سے بیٹنگ نہیں کی اور اپنی وکٹیں گنوائیں۔

البتہ عمر گل اور عمر اکمل نے اچھی بیٹنگ کرتے ہوئے ان کی ناکامی کا داغ دھودیا۔ ایشین بریڈمین نے کہا کہ بیٹسمینوں کی ناکامی سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ بھارت اور آسٹریلیا کے خلاف اگلے میچز میں ایسی صورتحال پیدا نہ ہو، انھوں نے کہا کہ پاکستانی بولرز نے محنت سے بولنگ کی جس کے نتیجے میں جنوبی افریقہ کی اننگز 133 رنز پر محدود ہوگئی۔

ابتدائی بیٹسمینوں خصوصاً ہاشم آملا کے جلد آئوٹ ہونے کے بعد پاکستان کی میچ پر گرفت مضبوط نظر آرہی تھی لیکن جب بیٹنگ آئی تو صورتحال اس سے زیادہ خراب نظر آئی،76 پر 7 وکٹیں گنوانے کے بعد میچ جنوبی افریقہ کے ہاتھوں میں آگیا تاہم عمر گل نے دلیری سے بیٹنگ کی جبکہ عمر اکمل نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ اگلے میچز میں بیٹسمینوں کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

چیف سلیکٹر اقبال قاسم نے فاسٹ بولر عمر گل اور بیٹسمین عمر اکمل کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں کی کوششوں سے پاکستان نے جنوبی افریقہ کو شکست دی۔ اقبال قاسم نے نمائندہ ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی افریقہ کی طرح پاکستانی ٹاپ آرڈر بیٹنگ بھی ڈھیر اور آسان ہدف بھی مشکل ہوگیا۔


ایسے میں عمر گل اور عمر اکمل نے ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے دبائو برداشت کیا اور ٹیم کو منزل تک پہنچایا۔ عمر گل نے فتح میں کلیدی کردار ادا کیا جس کے لیے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں،انھوں نے ایسے وقت میں ذمہ دارانہ بیٹنگ کی جب پاکستان کی7 وکٹیں 76 رنز پر گرگئی تھیں، بھارت اور آسٹریلیا کے خلاف میچز کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ٹوئنٹی 20 کرکٹ میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

تاہم جنوبی افریقہ کو شکست دینے کے بعد کھلاڑیوں کے حوصلے ضرور بلند ہوگئے ہیں۔ سابق اسپنر عبدالقادر نے کہا کہ عمر اکمل اور گل نے کمال کر دکھایا اور ہارا ہوا میچ پاکستان کو جتوا دیا،اکمل نے اپنی کلاس دکھا دی، اس کا بھر پور فارم میں آنا خوش آئند ہے، تجربہ کار عمر گل نے بولنگ میں کامیاب نہ ہونے کا غصہ بیٹنگ میں نکالا۔

انھوں نے کہا کہ شکست میں جنوبی افریقی کپتان ڈی ویلیئرز کی غلطیوں کا زیادہ عمل دخل تھا،گیند اسپن ہو رہی تھی اور پیٹرسن کا سامنا کرنا بیٹسمینوں کیلیے مشکل تھا، اس کے باوجود ابتدا میں ہی اوورز ختم کرا دیے،اسی طرح کیلس سے بولنگ کرانا بھی دانشمندانہ فیصلہ نہ تھا۔

سابق چیف سلیکٹر محسن خان نے کہاکہ جنوبی افریقہ کیخلاف پاکستان کی کامیابی شیر کے منہ سے نوالا چھیننے کے مترادف ہے،میچ کے ہیروز عمر گل اور عمراکمل ہیں جنھوں نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے کامیابی میں اہم کردار ادا کیا، بہترین حکمت عملی سپر ایٹ مرحلے کے ابتدائی میچ میں کامیابی کی وجہ بنی،سابق اوپنر نے کہا کہ یہ میچ بہت پہلے ختم ہو جانا چاہیے تھا۔

لیکن پاکستانی بیٹسمینوں محمد حفیظ، ناصر جمشید، کامران اکمل، شعیب ملک اور شاہد آفریدی نے غلط شاٹس کھیل کر وکٹیں گنوائیں اور مقابلے کو سنسنی خیز بنا دیا، ٹیم نے متواتر غلطیاں کیں پھر بھی جیت گئی جس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ محسن خان نے کہا کہ پاکستان کوغلطیوں سے سبق سیکھ کر دیگر میچز میں حصہ لینا ہوگا۔
Load Next Story