کینیڈا میں دہشت گردی کا واقعہ

کینیڈا ایک پرامن اورترقی یافتہ ملک ہے ایسا ملک جہاں جرائم کی شرح بہت ہی کم ہووہاں دہشت گردی کاواقعہ ہوناحیرت انگیز ہے۔

پاکستان دہشت گردی کا شکار ملک ہے اور وہاں امن و امان کی صورت حال بہت خراب ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوہ میں دہشت گردی کے واقعے میں پارلیمنٹ پر حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ حملہ آور شخص نے اوٹاوہ وار میموریل کی حفاظت پر مامور ایک فوجی کو فائرنگ کر کے ہلاک اور دو کو زخمی کر دیا پھر قریب موجود پارلیمنٹ کی عمارت میں گھس گیا جہاں پولیس نے تعاقب کرتے ہوئے اسے ہلاک کر دیا۔

فائرنگ کے وقت کینیڈین وزیراعظم اسٹیفن ہارپر پارلیمنٹ کے اندر موجود تھے' فائرنگ کی آواز سے افراتفری مچ گئی اور پارلیمنٹ ہاؤس کو سیکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے کر عمارت بند کر دی۔ امریکی سفارتخانہ بند' امریکی اور کینیڈین ایئر ڈیفنس کو الرٹ کر دیا گیا' شہر میں لائبریریوں اور اسکولز سمیت عوامی عمارتوں اور فوجی اڈوں کو بند کر دیا گیا اور لوگوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ کھڑکیوں اور چھتوں سے دور رہیں۔

کینیڈین پارلیمنٹ پر حملہ آور شخص کون تھا اس نے فائرنگ کیوں کی اور وہ کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا' اس کے پیچھے کون سے گروہ کارفرما ہیں اور کس کے کہنے پر ایسا کیا گیا۔ اس کی تفصیلات تو ابھی معلوم نہیں ہو سکیں البتہ تحقیقات کے بعد ہی اصل صورت حال سامنے آئے گی لیکن جو کچھ بھی ہوا وہ تشویشناک ہے۔ کینیڈین پولیس چیف کے مطابق دیگر حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔کینیڈا ایک پرامن اور ترقی یافتہ ملک ہے' ایسا ملک جہاں جرائم کی شرح بہت ہی کم ہو وہاں دہشت گردی کا واقعہ ہونا حیرت انگیز ہے۔

اگر دہشت گرد بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے یا پارلیمنٹ میں موجود وزیراعظم پر حملہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو یہ بہت بڑا واقعہ ہوتا لیکن اس سے پہلے کہ حملہ آور مزید افراد پر فائرنگ کرتا پولیس نے اسے مقابلہ کر کے ہلاک کر دیا۔ اس سے ایک روز قبل بھی ایک ڈرائیور نے ایک فوجی کو ہلاک کر دیا تھا جسے پولیس نے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا تھا۔ کینیڈین پارلیمنٹ پر حملہ امریکا اور یورپ کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے انھیں اس صورت حال کو مدنظر رکھنا ہو گا کہ جب کینیڈا جیسے پرامن اور محفوظ ملک میں دہشت گردی کا واقعہ رونما ہو سکتا ہے تو پاکستان جو ایک عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے وہاں ایسے کسی بھی واقعہ کا رونما ہونا اچھنبے کی بات نہیں۔


پاکستان میں دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ رونما ہو جائے تو امریکی اور یورپی میڈیا آسمان سر پر اٹھا لیتا ، پروپیگنڈا مہم شرو ع کر دیتا ہے اور اپنے شہریوں کو متنبہ کرتا ہے کہ پاکستان کا سفر کرتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں' اس پروپیگنڈا مہم کا مقصد پوری دنیا کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار ملک ہے اور وہاں امن و امان کی صورت حال بہت خراب ہے۔ کسی بھی واقعہ کے بعد پاکستانی حکومت یہ وضاحت کرتی ہے کہ اس کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہیں لیکن یہ ایک پیچیدہ اور گمبھیر مسئلہ ہے جس پر قابو پانے میں ایک عرصہ درکار ہے۔ امریکی اور یورپی حکام اس وضاحت پر کان دھرنے کے بجائے مختلف حربے استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔

شام' عراق' یمن اور لیبیا کی صورت حال سب کے سامنے ہے،جو خانہ جنگی کا شکار ہو کر ٹوٹ پھوٹ چکے ہیں۔ وہاں مختلف مسلح گروہ وجود میں آ چکے ہیں جو نہ صرف سرکاری افواج کے خلاف بلکہ آپس میں بھی برسرپیکار ہیں۔اب واضح دکھائی دے رہا ہے کہ دہشت گردی کا سلسلہ امریکا' یورپ اور کینیڈا میں بھی پھیل کر عالمی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں بڑی قوتوں کو دہشت گردی کا مسئلہ پاکستان یا کسی بھی مسلم ملک سے نتھی کرنے کے بجائے عالمی سطح پر اسے دیکھنا اور اس سے نمٹنے کے لیے مناسب حکمت عملی طے کرنی چاہیے۔

امریکی یورپی ممالک تو جدید ٹیکنالوجی' جدید ہتھیاروں اور بھرپور وسائل سے مالا مال ہیں وہ اپنے طور پر دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے کوشاں تو ہیں مگر اس کے باوجود یہ عفریت کم ہونے کے بجائے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے شکار ترقی پذیر مسلم ممالک کے پاس جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کی بھی کمی ہے لہٰذا ان کے لیے اس عذاب پر قابو پانا کس قدر مشکل امر ہے بڑی طاقتوں کو اس کا ادراک ہونا چاہیے' مسلم ممالک کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے دہشت گردی کو عالمی مسئلہ قرار دے کر اس کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جانی چاہئیں۔

چند مخصوص گروہوں کی کارروائیوں کو بنیاد بنا کر مسلم ممالک کے خلاف پروپیگنڈا مہم چلانا یا ان پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیاں دینا قطعی طور پر بھی درست عمل نہیں ہے۔ کینیڈین پارلیمنٹ پر ہونے والا حملہ شدت کے لحاظ سے کوئی بہت بڑا واقعہ نہیں تھا جس میں درجنوں افراد مارے گئے ہوں اس میں صرف ایک فوجی ہلاک ہوا ہے جس کے بعد پورے ملک میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ کیا اس واقعے کے بعد کینیڈا کو غیر محفوظ اور دہشت گردی کا شکار ملک قرار دے کر اس کے خلاف پروپیگنڈا مہم چلا دی جائے' بڑی قوتوں کو اس پر سوچنا ہو گا اور دہشت گردی کے شکار مسلم ممالک کے خلاف بیان بازی کے بجائے اس کو مشترکہ مسئلہ قرار دے کر اس کے خاتمے کے لیے پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔
Load Next Story