ڈاکوئوں کو گرفتار کر کے ہلاک کرنا قانون نہیںثنااﷲ

اگر کسی پولیس مقابلے سے متعلق شک ہو تو اس کی جوڈیشل انکوائری ہوتی ہے،وزیر قانون

اگر کسی پولیس مقابلے سے متعلق شک ہو تو اس کی جوڈیشل انکوائری ہوتی ہے،وزیر قانون . فوٹو: فائل

صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کی پالیسی ہے کہ اشتہاریوں ،قاتلوں اور ڈاکوئوں کو پکڑا جائے لیکن کسی کو گرفتار کر کے ہلاک کرنا قانون کے زمرے میں نہیں آتا۔


پروگرام ایکسپریس میں اینکر پرسن عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ جب پولیس مجرموں کے پیچھے جاتی ہے تو جب یہ آگے سے مزاحمت کرتے ہیں تو پھر پولیس اپنے دفاع میں کارروائی کرتی ہے لیکن اگر کسی پولیس مقابلے کے بارے میں کوئی شک ہوتا ہے تو اس کی جوڈیشل انکوائری ہوتی ہے۔ اینکر پرسن عمران خان نے لاہور کے قریب شفیق آباد نمبر دو کے رہائشی ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد کی مختلف پولیس مقابلوں میں ہلاکت کے واقعے کے مختلف پہلوئوں کا جائزہ لینے کے بعد رپورٹ مرتب کی ۔

رپورٹ کے مطابق مرنیوالے آٹھ افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا جو ردی کا کاروبار کرتے تھے ۔سلیمہ بی بی نے پروگرام میں بتایا کہ میرے پانچ بیٹوں کو پولیس نے مختلف مقامات سے اٹھا یا اور ان کو مختلف مقامات پر پولیس مقابلوں میں ہلاک کردیا ۔میرے دوبیٹے عمران اور ماجد کارچوری کی کارروائیوں میں ملوث تھے لیکن ماجد سدھر چکا تھا ۔سلیمہ بی بی کا کہناتھا کہ میرا ایک بیٹا عدنان بھی لاپتہ ہے اور ہمیں کہاگیا ہے کہ چالیس لاکھ دے دو ہم عدنان دے دیں گے ۔
Load Next Story