گندم کی درآمدی پر 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لگنے کا امکان

فلورملزکا 90 لاکھ ٹن کے سرکاری و غیر سرکاری ذخائر کی دستیابی کے باوجود مقامی پیداوار خریدنے سے گریز

2ماہ میں5لاکھ ٹن درآمد، مزید متوقع، پرانی گندم نہ بکی تو آئندہ سیزن میں حکومت خریداری نہیں کرسکے گی، کاشتکاروں کو بحران سے بچانے کے لیے فیصلہ کیا گیا، ذرائع۔ فوٹو: فائل

SUKKUR:
وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کے مقامی ذخائر کی عدم فروخت کے باعث گندم کی درآمدات پر 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز پر غورشروع کردیا ہے، امکان ہے کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں گندم کی درآمد پرریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاذ کا فیصلہ کرلیا جائے گا۔

فلورانڈسٹری کے باخبر ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایاکہ حکومت کی جانب سے مذکورہ فیصلہ کاشت کاروں کو ممکنہ بحران سے بچانے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے کیا جارہا ہے کیونکہ ملک میں پیدا ہونے والی گندم کے مقابلے میں درآمدی گندم کی قیمت 2.50 روپے فی کلو گرام کم ہے، درآمدی گندم 32 روپے جبکہ مقامی گندم34.50 روپے فی کلوگرام کے حساب سے فروخت کی جارہی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ گندم کی درآمدات پر مجوزہ 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاذ کے نتیجے میں آٹے کی فی کلوگرام قیمت میں بھی مرحلہ وار2 سے ڈھائی روپے کا اضافہ ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہونے کی صورت میں درآمدی گندم کی فی کلوگرام قیمت 5.75 روپے کے اضافے سے37.75 روپے کی سطح تک پہنچ جائے گی۔


فلور ملز مالکان نے اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ درآمدی گندم مقامی گندم کی نسبت کم قیمت ہونے کے باعث فلورملز مالکان مقامی گندم کی خریداری سے گریز کررہے ہیں تاہم ملز مالکان نے کم قیمت درآمدی گندم سے تیار ہونے والے آٹے کی قیمتوں میں کمی کرکے عام صارف کو بھی فائدہ دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ 40 روپے قیمت کے حامل آٹے کی ایکس مل قیمت گھٹ کر37 روپے فی کلو گرام کی سطح پر آگئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ملک میں روس اور یوکرائن سے گزشتہ 2 ماہ کے دوران مجموعی طور پر5 لاکھ ٹن گندم درآمد کی گئی جبکہ مزید 1لاکھ ٹن گندم کے 2 بحری جہاز جلد ہی پاکستان پہنچنے والے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان میں فی الوقت مقامی طور پر پیدا ہونے والے گندم کے 86 تا90 لاکھ ٹن ذخائر موجود ہیں جو ملکی ضروریات کیلیے کافی ہیں لیکن اس کے باوجود نجی شعبہ بیرونی ممالک سے سستے داموں گندم درآمد کرنے کو ترجیح دے رہا ہے جس کے سبب گندم کے سرکاری وغیرسرکاری ذخائر سے فلورملیں گندم نہیں اٹھا رہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ فی الوقت سندھ میں سرکاری سطح پر11 لاکھ ٹن جبکہ پنجاب حکومت اور پاسکو کے پاس55 لاکھ ٹن کے غیرفروخت شدہ ذخائر موجود ہیں، اسی طرح بلوچستان، خیبرپختونخوا اور کھلی منڈی میں 20 تا25 لاکھ ٹن گندم کے غیرفروخت شدہ ذخائر موجود ہیں لیکن فلورملزکی جانب سے مقامی گندم کی خریداری سرگرمیاں رکی ہوئی ہیں جس سے اس خدشہ ہے کہ پرانی گندم کے ذخائر فروخت نہ ہونے کے سبب آنے والے سال میں کاشت کاروں سے سرکاری سطح پر خریداری نہیں ہوسکے گی اور زرعی شعبے میں ایک نیا بحران کھڑا ہوجائے گا۔

یہی وہ عوامل ہیں جس کے سبب وفاقی حکومت نے درآمدی گندم کی حوصلہ شکنی کے لیے گندم کی درآمدات کو ریگولیٹری ڈیوٹی سے مشروط کرنے کی تجویز پر غور شروع کردیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ 20 سرفہرست فلورملوں کی جانب سے براہ راست گندم درآمد کی گئی ہے۔
Load Next Story