آسٹریلیاکی بھیڑوں کی ایکسپورٹ کے معاملے کی تحقیقات شروع
ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بھیڑوں کوتلف کیے جانے کی تصاویراوروڈیو فراہم کرنیکی اپیل
ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بھیڑوں کوتلف کیے جانے کی تصاویراوروڈیو فراہم کرنیکی اپیل۔ فوٹو: پی پی آئی/فائل
آسٹریلوی ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچر نے بھیڑوں کو بہیمانہ طریقے سے تلف کیے جانے کی اطلاعات کے بعد بھیڑوں کی ایکسپورٹ کے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
آسٹریلیا سمیت مغربی ممالک کے میڈیا نے بھی پاکستانی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے رابطہ کرکے بھیڑوں کو بے رحمی سے تلف کیے جانے کی تصاویر اور ویڈیو فوٹیج فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔آسٹریلوی ریڈیو چینل اے بی سی نے ایکسپریس میڈیا گروپ کے انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے نمائندے کاظم عالم سے رابطہ کرکے تفصیلات معلوم کی ہیں جو آسٹریلوی ریڈیو کی رپورٹ کا حصہ بنائی گئی ہے۔
اسی طرح دیگر آسٹریلوی اداروں بالخصوص اینمل رائٹس کی تنظیموں کی جانب سے بھی اس ایشو کی رپورٹنگ کرنے والے نمائندوں سے رابطہ کرکے بھیڑوں کو تلف کیے جانے کی تصاویر اور فوٹیج فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ آسٹریلیوی میڈیا اور متعلقہ ادارے بھیڑوں کی ایکسپورٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں اور انھیں بیمار قرار دینے سے متعلق متضاد رپورٹس سب سے بڑھ کر بہیمانہ طریقے سے تلف کیے جانے کے معاملے کو وسیع تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور صورتحال کو درست طور پر سمجھنے کے لیے پاکستان میں آسٹریلوی سفارتخانے کی مدد لی جارہی ہے۔
آسٹریلوی ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچر کے مطابق نئے قوانین کے مطابق جانوروں کے حقوق کا تحفظ کو یقینی بنانا بھیڑ ایکسپورٹ کرنے والی کمپنی کی ذمے داری ہے آسٹریلیوی ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچر کے قائم مقام سربراہ Paul Morris نے آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی کو بتایا کہ جانوروں کے تحفظ سے متعلق نئے قوانین کارگر ہیں جس کے تحت آسٹریلیا سے باہر بھی مویشیوں پر نظر رکھی جاسکتی ہے اور کسی گڑبڑ یا خلاف ورزی کی صورت میں ایکشن بھی لیا جاسکتا ہے انھوں نے مزید کہا کہ آسٹریلوی حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ ہر جگہ جانوروں کی صحت اور دیکھ بھال کے حوالے سے فکر مند رہتی ہے اور اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔
انھوں نے کہا کہ آسٹریلوی حکام پاکستان میں بھیڑوں کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں اور آسٹریلوی سفارتخانے کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹر سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں اور اس مسئلے کے جلد اور اچھے حل کی کوششوں میں مصروف ہیں، بھیڑوں کو بے رحمی سے تلف کیے جانے کی رپورٹس درست ثابت ہونے کی صورت میں ایکسپورٹر کے خلاف تادیبی کارروائی کے بارے میں ایک سوال پر پائول مورس نے کہا کہ ایکسپورٹ سپلائی چین ایشورنس سسٹم کے مطابق بھیڑوں کی دیکھ بھال اور عالمی معیار کے تقاضوں کو پورا کرنے کی ذمہ داری ایکسپورٹر پر عائد ہوتی ہے اور اگر ایکسپورٹ کی جانے والی بھیڑوں کے ساتھ بدسلوکی اور بے رحمانہ طریقے سے تلف کیے جانے کی رپورٹس سچ ثابت ہوئیں تو ایکسپورٹر کمپنی کو اس کا قصور وار ٹھہرایا جائے گا تاہم یہ بات بھی مدنظر رکھی جائے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والی صورتحال میں بھیڑوں پر ایکسپورٹر کمپنی کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔
آسٹریلیا سمیت مغربی ممالک کے میڈیا نے بھی پاکستانی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے رابطہ کرکے بھیڑوں کو بے رحمی سے تلف کیے جانے کی تصاویر اور ویڈیو فوٹیج فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔آسٹریلوی ریڈیو چینل اے بی سی نے ایکسپریس میڈیا گروپ کے انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے نمائندے کاظم عالم سے رابطہ کرکے تفصیلات معلوم کی ہیں جو آسٹریلوی ریڈیو کی رپورٹ کا حصہ بنائی گئی ہے۔
اسی طرح دیگر آسٹریلوی اداروں بالخصوص اینمل رائٹس کی تنظیموں کی جانب سے بھی اس ایشو کی رپورٹنگ کرنے والے نمائندوں سے رابطہ کرکے بھیڑوں کو تلف کیے جانے کی تصاویر اور فوٹیج فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ آسٹریلیوی میڈیا اور متعلقہ ادارے بھیڑوں کی ایکسپورٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں اور انھیں بیمار قرار دینے سے متعلق متضاد رپورٹس سب سے بڑھ کر بہیمانہ طریقے سے تلف کیے جانے کے معاملے کو وسیع تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور صورتحال کو درست طور پر سمجھنے کے لیے پاکستان میں آسٹریلوی سفارتخانے کی مدد لی جارہی ہے۔
آسٹریلوی ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچر کے مطابق نئے قوانین کے مطابق جانوروں کے حقوق کا تحفظ کو یقینی بنانا بھیڑ ایکسپورٹ کرنے والی کمپنی کی ذمے داری ہے آسٹریلیوی ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچر کے قائم مقام سربراہ Paul Morris نے آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی کو بتایا کہ جانوروں کے تحفظ سے متعلق نئے قوانین کارگر ہیں جس کے تحت آسٹریلیا سے باہر بھی مویشیوں پر نظر رکھی جاسکتی ہے اور کسی گڑبڑ یا خلاف ورزی کی صورت میں ایکشن بھی لیا جاسکتا ہے انھوں نے مزید کہا کہ آسٹریلوی حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ ہر جگہ جانوروں کی صحت اور دیکھ بھال کے حوالے سے فکر مند رہتی ہے اور اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔
انھوں نے کہا کہ آسٹریلوی حکام پاکستان میں بھیڑوں کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں اور آسٹریلوی سفارتخانے کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹر سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں اور اس مسئلے کے جلد اور اچھے حل کی کوششوں میں مصروف ہیں، بھیڑوں کو بے رحمی سے تلف کیے جانے کی رپورٹس درست ثابت ہونے کی صورت میں ایکسپورٹر کے خلاف تادیبی کارروائی کے بارے میں ایک سوال پر پائول مورس نے کہا کہ ایکسپورٹ سپلائی چین ایشورنس سسٹم کے مطابق بھیڑوں کی دیکھ بھال اور عالمی معیار کے تقاضوں کو پورا کرنے کی ذمہ داری ایکسپورٹر پر عائد ہوتی ہے اور اگر ایکسپورٹ کی جانے والی بھیڑوں کے ساتھ بدسلوکی اور بے رحمانہ طریقے سے تلف کیے جانے کی رپورٹس سچ ثابت ہوئیں تو ایکسپورٹر کمپنی کو اس کا قصور وار ٹھہرایا جائے گا تاہم یہ بات بھی مدنظر رکھی جائے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والی صورتحال میں بھیڑوں پر ایکسپورٹر کمپنی کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔