آسٹریلوی بھیڑوں میں بیماریوں کامعائنہ برطانیہ سے کرانیکا فیصلہ

حکومتی رویے سے لگتاہے کہ ملکی معیشت بربادکرنیکی کوشش کی جارہی ہے،جسٹس باقر

حکومتی رویے سے لگتاہے کہ ملکی معیشت بربادکرنیکی کوشش کی جارہی ہے،جسٹس باقر۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقرکی سربراہی میں دورکنی بینچ نے آسٹریلیا سے درآمد شدہ بھیڑوں کے نمونے حتمی ٹیسٹ کے لیے ''ورلڈ ریفرنس لیبارٹری''برطانیہ بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت عالیہ نے بھیڑوں کے فارم پر پولیس تعینات کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست گزار طارق بٹ کو فارم تک مکمل رسائی اور فارم پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کی بھی اجازت دے دی ہے،جسٹس مقبول باقر نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حکومتی رویے سے لگتا ہے کہ ملکی معیشت برباد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،یہ رویہ دنیا بھر میں ملک کی بدنامی کا باعث بنے گا،سب سے زیادہ عدالت اس بارے میں فکر مند ہے کہ ملک کی بدنامی نہ ہو۔


جمعے کو سماعت کے موقع پرانورمنصورخان ایڈوکیٹ نے حکومت سندھ کی جانب سے وکالت نامہ داخل کرتے ہوئے تیاری کیلیے مہلت طلب کی ، لائیواسٹاک وفشریز کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹرغلام سرور نے تجویز پیش کی کہ بھیڑوں میں اینتھریکس کی بیماری کی تصدیق کیلیے نمونے برطانیہ بھیجے جائیں،یہ لیبارٹری نہ صرف عالمی معیار کی ہے بلکہ حکومت پاکستان کا اس سے معاہدہ بھی ہے ،عدالت نے فریقین کی مشاورت سے بھیڑوں کے نمونے برطانیہ بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ بھیڑوں سے حاصل کیے جانے والے نمونے کی تفصیلی جانچ کی جائے اور یہ بھی دیکھا جائے کہ بھیڑوں میں کوئی اور بیماری تو نہیں اور ان بھیڑوں کا گوشت انسانی صحت کیلیے موافق ہے یا نہیں؟اگر بھیڑوں میں کوئی بیماری پائی جائے تو اس کی وجوہات کی تفصیلات بھی بتائی جائیں کہ یہ کیا ہے اور کب سے اس کے جراثیم بھیڑوں میں موجود ہیں ۔

عدالت نے ہدایت کی کہ بھیڑوں کے نمونے درخواست گزار اور ان کے نمائندوں کی موجودگی میں حاصل کیے جائیں،کوشش کی جائے کہ نمونے میڈیکل بورڈ کے تمام ارکان کی موجودگی میں حاصل کیے جائیں،اگرتمام ارکان موجود نہ ہوں تو کم ازکم تین ارکان موجود ہوں،آئندہ سماعت تک بھیڑوں کو کہیں اور منتقل نہ کیا جائے۔عدالت نے ہدایت کی کہ برطانیہ کی لیبارٹری سے ٹیسٹ کے اخراجات درخواست ادا کرے،تمام اخراجات کی واپسی کے حوالے سے بعد میں فیصلہ کیا جائے گا۔

عدالت نے ہدایت کی کہ مذکورہ میڈیکل بورڈ میں ڈائومیڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسرڈاکٹر رفیق خانانی،ڈائریکٹر کرنٹائن ڈاکٹرمقبول اور ڈاکٹرغلام سرور کے نام بھی شامل کئے جائیں۔عدالت نے سیکریٹری لائیو اسٹاک کی سربراہی میں قائم میڈیکل بورڈ کو ہدایت کی کہ بھیڑوں کے نمونوں کے حصول میں تمام حفاظتی تدابیراورمطلوبہ معیارکومدنظررکھاجائے۔ عدالت نے سماعت 19اکتوبرتک ملتوی کرتے ہوئے بھیڑوں کے تلف کرنے کے حکم امتناع میں بھی اسی تاریخ تک توسیع کردی اورہدایت کی کہ ٹیسٹ کاعمل جلد ازجلد مکمل کرلیاجائے۔

Recommended Stories

Load Next Story