یورپی یونین کی طرف سے فلسطینی ریاست کی حمایت
چند چھوٹے یورپی ملک بھی فلسطین کوتسلیم کر چکے ہیں لیکن یورپی یونین کی طرف سےفلسطین کو تسلیم کرنےکا اشارہ ملنے لگا ہے۔
اب اسرائیل کی حکومت کو بھی بدلتے ہوئے حالات کا ادراک کر لینا چاہیے اور فلسطینیوں کو ان کا حق دے دینا چاہیے،فوٹو فائل
TAXILA:
یورپی یونین کی خارجہ امور کی نئی خاتون سربراہ فیدیریکا موگیرینی نے ہفتے کو غزہ کے دورے کے دوران خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ حال ہی میں اپنا عہدہ سنبھالنے والی فیدیریکا موگیرینی اپنے پہلے دورے پر مشرق وسطیٰ پہنچی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی ایک خود مختار ریاست جلد از جلد قائم ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ دنیا غزہ پٹی کے علاقے میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین کسی نئی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
واضح رہے کہ سویڈن کی طرف سے خودمختار فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے جب کہ دیگر چند چھوٹے یورپی ملک بھی فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں لیکن یورپی یونین کی طرف سے فلسطین کو تسلیم کرنے کا اشارہ ملنے لگا ہے۔ اگر یورپی یونین کی طرف سے فلسطین کے تسلیم کرنے کا باقاعدہ اعلان ہو گیا تو کوئی بعید نہیں امریکا کو بھی عدل و انصاف کا خیال آ جائے اور وہ اسرائیل کی ناجائز حمایت سے باز آ جائے۔
دوسری طرف فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کی پٹی میں عوامی فوج تشکیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم اسرائیل کے ساتھ مسجد اقصی جیسے فلیش پوائنٹ سمیت کسی بھی تنازع کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔بہر حال اب اسرائیل کی حکومت کو بھی بدلتے ہوئے حالات کا ادراک کر لینا چاہیے اور فلسطینیوں کو ان کا حق دے دینا چاہیے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی نئی خاتون سربراہ فیدیریکا موگیرینی نے ہفتے کو غزہ کے دورے کے دوران خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ حال ہی میں اپنا عہدہ سنبھالنے والی فیدیریکا موگیرینی اپنے پہلے دورے پر مشرق وسطیٰ پہنچی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی ایک خود مختار ریاست جلد از جلد قائم ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ دنیا غزہ پٹی کے علاقے میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین کسی نئی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
واضح رہے کہ سویڈن کی طرف سے خودمختار فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے جب کہ دیگر چند چھوٹے یورپی ملک بھی فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں لیکن یورپی یونین کی طرف سے فلسطین کو تسلیم کرنے کا اشارہ ملنے لگا ہے۔ اگر یورپی یونین کی طرف سے فلسطین کے تسلیم کرنے کا باقاعدہ اعلان ہو گیا تو کوئی بعید نہیں امریکا کو بھی عدل و انصاف کا خیال آ جائے اور وہ اسرائیل کی ناجائز حمایت سے باز آ جائے۔
دوسری طرف فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کی پٹی میں عوامی فوج تشکیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم اسرائیل کے ساتھ مسجد اقصی جیسے فلیش پوائنٹ سمیت کسی بھی تنازع کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔بہر حال اب اسرائیل کی حکومت کو بھی بدلتے ہوئے حالات کا ادراک کر لینا چاہیے اور فلسطینیوں کو ان کا حق دے دینا چاہیے۔