امراض قلب کے مریضوں کی شرح میں ہولناک اضافہ ہو رہا ہے ماہرین
مہنگائی کےباعث مریض علاج سےقاصرہیں،معالجین فیسوں میںکمی کریں،ڈاکٹرایس ایم رب۔
عالمی یوم قلب پرآرٹس کونسل کے زیر اہتمام سیمینار میں شریک ڈاکٹر پیر زادہ قاسم،احمد شاہ اور دیگر کا گروپ۔ فوٹو: ایکسپریس
سابق صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر ایس ایم رب نے کہا ہے کہ ملک میں امراض قلب کے مریضوں کی شرح میں ہولناک اضافہ ہورہا ہے۔
نوجوان بھی اس مرض کا شکار ہورہے ہیں ، سادہ کھانا او ر ورزش نہ کرنے سے ہزاروں افراد دل کی بیماری میں مبتلا ہورہے ہیں،معالجین اپنی فیسوں میںکمی کریں تاکہ امراض قلب کا شکارمریض یکسوئی سے اپنا علاج کراسکیں یہی اصل انسانیت کی خدمت ہے،کمرتوڑ مہنگائی کی وجہ سے مریض ا پناعلاج کرانے سے قاصر اورمعاشی ناہمواریوںکی وجہ سے طویل علاج سے گریزکررہے ہیں، یہ بات انھوںنے امراض قلب کے عالمی دن کے حوالے سے ہفتہ کوکراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز اسپتال فیڈرل بی ایریا میں منعقدہ آگہی سیمینار سے خطاب میں کہی۔
اس موقع پراسپتال کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سراج الحق، ڈاکٹر منصور سمیت دیگر نے بھی امراض قلب سے بچاؤکے حوالے سے خطاب کیا، پروفیسر ایس ایم رب نے کہاکہ جس طرح ڈاکٹر خدمت کا پیشہ اختیار کرتے ہیں اسی طرح غریب مریضوںکا علاج کریں کیونکہ بیشتر مریض کمر توڑ مہنگائی کی وجہ سے معاشی ناہمواریوں کا شکار ہیں اور ان کا ذریعہ معاش بہتر نہ ہونے کی وجہ سے وہ علاج کرانے سے بھی قاصر ہیں، انھوں نے ڈاکٹروں سے کہاکہ وہ مریضوں کے غیرضروری ٹیسٹ کرانے سے بھی گریز کریں ،انھوں نے کہاکہ ڈاکٹرمریضوں پر خصوصی توجہ دیں تاکہ ان کے صحت کے مسائل حل ہوسکیں۔
دریں اثنا آرٹس کونسل میں امراض قلب پر منعقدہ سیمینار سے خطاب میں طبی ماہرین نے کہاہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھرمیں دل کے مریضوںمیں اضافہ ہورہاہے جس پر قابو پانے کیلیے عوام میں شعور بیدا ر اور بہتر خوراک استعمال کرنے کی ضرورت ہے،قومی دارہ برائے امراض قلب کے پروفیسر خان شاہ زمان،عباسی شہیداسپتال کے پروفیسر عبدالرشید،ڈاکٹر پیر زادہ قاسم رضا سمیت دیگر ماہرین نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں،صاف ستھری غذا استعمال کریں اور ورزش کو روز کا معمول بنائیں تاکہ دل کے مختلف امراض سے بچ سکیں،انھوں نے کہا کہ دل کا علاج پرائیویٹ اسپتالوں میں انتہائی مہنگا ہے۔
نوجوان بھی اس مرض کا شکار ہورہے ہیں ، سادہ کھانا او ر ورزش نہ کرنے سے ہزاروں افراد دل کی بیماری میں مبتلا ہورہے ہیں،معالجین اپنی فیسوں میںکمی کریں تاکہ امراض قلب کا شکارمریض یکسوئی سے اپنا علاج کراسکیں یہی اصل انسانیت کی خدمت ہے،کمرتوڑ مہنگائی کی وجہ سے مریض ا پناعلاج کرانے سے قاصر اورمعاشی ناہمواریوںکی وجہ سے طویل علاج سے گریزکررہے ہیں، یہ بات انھوںنے امراض قلب کے عالمی دن کے حوالے سے ہفتہ کوکراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز اسپتال فیڈرل بی ایریا میں منعقدہ آگہی سیمینار سے خطاب میں کہی۔
اس موقع پراسپتال کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سراج الحق، ڈاکٹر منصور سمیت دیگر نے بھی امراض قلب سے بچاؤکے حوالے سے خطاب کیا، پروفیسر ایس ایم رب نے کہاکہ جس طرح ڈاکٹر خدمت کا پیشہ اختیار کرتے ہیں اسی طرح غریب مریضوںکا علاج کریں کیونکہ بیشتر مریض کمر توڑ مہنگائی کی وجہ سے معاشی ناہمواریوں کا شکار ہیں اور ان کا ذریعہ معاش بہتر نہ ہونے کی وجہ سے وہ علاج کرانے سے بھی قاصر ہیں، انھوں نے ڈاکٹروں سے کہاکہ وہ مریضوں کے غیرضروری ٹیسٹ کرانے سے بھی گریز کریں ،انھوں نے کہاکہ ڈاکٹرمریضوں پر خصوصی توجہ دیں تاکہ ان کے صحت کے مسائل حل ہوسکیں۔
دریں اثنا آرٹس کونسل میں امراض قلب پر منعقدہ سیمینار سے خطاب میں طبی ماہرین نے کہاہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھرمیں دل کے مریضوںمیں اضافہ ہورہاہے جس پر قابو پانے کیلیے عوام میں شعور بیدا ر اور بہتر خوراک استعمال کرنے کی ضرورت ہے،قومی دارہ برائے امراض قلب کے پروفیسر خان شاہ زمان،عباسی شہیداسپتال کے پروفیسر عبدالرشید،ڈاکٹر پیر زادہ قاسم رضا سمیت دیگر ماہرین نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں،صاف ستھری غذا استعمال کریں اور ورزش کو روز کا معمول بنائیں تاکہ دل کے مختلف امراض سے بچ سکیں،انھوں نے کہا کہ دل کا علاج پرائیویٹ اسپتالوں میں انتہائی مہنگا ہے۔