فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار سے گریز بحران شدید ہوگیا

متوسط اور غریب آبادی والے علاقوں میں روزانہ ڈیڑھ سے ڈھائی گھنٹے کیلیے 4مرتبہ بجلی کی فراہمی معطل کی جارہی ہے،شہری۔

قدرتی گیس کم ملی،کے ای ایس سی،ایٹمی بجلی گھرکینپ سے بجلی کی فراہمی بحال نہ ہوسکی،میٹرک کے امتحانات کی تیاری کرنیوالے طلبا پریشان۔ فوٹو: فائل

کراچی میں بجلی کی طلب میںکمی کے باوجود کے ای ایس سی نے بجلی کی پیداوار بڑھانے کے بجائے گھریلو اور تجارتی صارفین کیلیے8 سے 10 گھنٹے تک کی بدترین لوڈشیڈنگ شروع کردی ہے۔

طبقاتی بنیادوں پرکی جانے والی لوڈشیڈنگ متوسط اورغریب رہائشی آبادیاں بری طرح متاثر ہورہی ہیں،لوڈشیڈنگ کے شیڈول کے مطابق پوش علاقے لوڈشیڈنگ سے مستثنی ہیں یا وہاں پر دن بھر میں تین دفعہ ایک گھنٹے کیلیے لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے،متوسط اور غریب رہائشی علاقوں میں ڈیڑھ سے ڈھائی گھنٹے کیلیے چار سے زائد مرتبہ بجلی کی فراہمی معطل کی جارہی ہے،کے ای ایس سی کی جانب سے شہرکی تمام کچی آبادیوںکو زیادہ نقصان والے علاقے قرار دیا گیا ہے اور ان علاقوں میں رہنے والے ایسے صارفین جو بجلی کا بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں یا ان سے ملحقہ علاقوںکے صارفین کو بھی ان کی صف میں کھڑا کردیا گیا ہے۔


کے ای ایس سی کی جانب سے طبقاتی تقسیم کی بنیاد پرکی جانے والی لوڈشیڈنگ کو مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے،کے ای ایس سی کا موقف ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے مقررہ کوٹے سے کم قدرتی گیس کی فراہمی کی وجہ سے بجلی گھر پوری استعداد سے نہیں چلائے جارہے ہیں تاہم فرنس آئل کے ذریعے بجلی کی پیداوار بڑھانے کو ادارے کی انتظامیہ یکسر مسترد کرتی رہی ہے، ایٹمی بجلی گھر کینپ سے بجلی کی فراہمی تاحال بحال نہیں کی جا سکی ہے، بجلی کے بحران کی وجہ سے نہ صرف شہری و کاروباری زندگی بری طرح متاثر ہورہی ہے بلکہ جمعرات سے شروع ہونے والے میٹرک کے امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبا بھی شدید پریشان ہیں۔

تقریباً ہر دوگھنٹے بعد کی جانے والی دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے شہری زندگی کو اجیرن بنا کر رکھ دیا ہے،طلبا کا کہنا ہے کہ اگر لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا تو وہ امتحانات میں بہتر کارکردگی دکھانے سے قاصر رہیں گے،دوسری جانب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، امن و امان کی ابتر صورتحال سے ستائے ہوئے تاجروں اور صنعتکاروں پر طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ آسمانی بجلی کی طرح گری ہے، تاجروں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ کے ای ایس سی کے ذمے داروں نے یہ تہیہ کرلیا ہے کہ کراچی کے تاجروں کا ہر صورت میں معاشی قتل کردیا جائے گا۔
Load Next Story