شام حلب پر کنٹرول کیلئے فوج اور باغیوں میں لڑائی 55افراد ہلاک
ہلاک ہونے والوں میں 18فوجی اور19 شہری بھی شامل، شامی حکومت نےبعض کیمیائی ہتھیاروں کو محفوظ جگہ پر منتقل کردیا: امریکا
ہلاک ہونے والوں میں 18 فوجی اور 19 شہری بھی شامل، شامی حکومت نے بعض کیمیائی ہتھیاروں کو محفوظ جگہ پر منتقل کردیا: امریکا فوٹو: اے ایف پی
لاہور:
شام کے شورش زدہ شہر حلب پر قبضے کیلیے سرکاری فوج اور باغیوں میں تیسرے دن بھی شدید لڑائی جاری رہی جبکہ پورے ملک میں جھڑپوں کے نتیجے میں مزید 55 افراد مارے گئے۔
امریکہ اور برطانیہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر شام کے متاثرہ شہریوں کیلئے مزید55 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے، ذرائع ابلاغ کے مطابق شام کے شورش زدہ شہر حلب پر قبضے کیلیے سرکاری فوج اور باغیوں میں شدید جھڑپیں جاری ہیں، دونوں دھڑے اہم ترین ضلع صلاح الدین پر قبضے کیلیے کوشش کررہے ہیں، دوسری طرف شامی فوج نے دمشق کے مشرق میں باغیوں کے خلاف آپریشن جاری ہے، ہفتے کے روز پورے ملک میں جھڑپوں کے دوران 18 فوجیوں سمیت مزید 55 افراد ہلاک ہوگئے جن میں 19شہری بھی شامل ہیں، جمعہ کے روز بھی پورے شام میں 136 افراد مارے گئے تھے۔
ادھر امریکہ اور برطانیہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر شام کے متاثرہ شہریوں کیلیے مزید 55 ملین ڈالرکی امداد کا اعلان کیاہے، بی بی سی کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا کا کہنا ہے کہ شام کی حکومت نے بعض کیمائی ہتھیاروں کو محفوظ جگہ پر منتقل کیا ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ تو اپنی جگہ پر ہر تاہم محدود پیمانے پر نقل و حرکت کی گئی ہے۔ شام کی حکومت اس بات کا اعتراف کر چکی ہے کہ اس کے پاس بڑی مقدار میں کیمیائی ہتھیار موجود ہیں۔
لیون پنیٹا نے پینٹاگون میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا 'کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں خدشات ابھی تک قائم ہیں۔'تاہم انہوں نے کہا کہ یہ 'شام کی فوج کے پاس تاحال محفوظ ہیں۔ آن لائن کے مطابق ترکی نے عندیہ دیا ہے شام کی سرحدی حدود سے ہمارے ملک میں دو بار مارٹر حملہ کیا گیا تو ہم بھر پور جوابی کارروائی کرینگے۔
شام کے شورش زدہ شہر حلب پر قبضے کیلیے سرکاری فوج اور باغیوں میں تیسرے دن بھی شدید لڑائی جاری رہی جبکہ پورے ملک میں جھڑپوں کے نتیجے میں مزید 55 افراد مارے گئے۔
امریکہ اور برطانیہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر شام کے متاثرہ شہریوں کیلئے مزید55 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے، ذرائع ابلاغ کے مطابق شام کے شورش زدہ شہر حلب پر قبضے کیلیے سرکاری فوج اور باغیوں میں شدید جھڑپیں جاری ہیں، دونوں دھڑے اہم ترین ضلع صلاح الدین پر قبضے کیلیے کوشش کررہے ہیں، دوسری طرف شامی فوج نے دمشق کے مشرق میں باغیوں کے خلاف آپریشن جاری ہے، ہفتے کے روز پورے ملک میں جھڑپوں کے دوران 18 فوجیوں سمیت مزید 55 افراد ہلاک ہوگئے جن میں 19شہری بھی شامل ہیں، جمعہ کے روز بھی پورے شام میں 136 افراد مارے گئے تھے۔
ادھر امریکہ اور برطانیہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر شام کے متاثرہ شہریوں کیلیے مزید 55 ملین ڈالرکی امداد کا اعلان کیاہے، بی بی سی کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا کا کہنا ہے کہ شام کی حکومت نے بعض کیمائی ہتھیاروں کو محفوظ جگہ پر منتقل کیا ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ تو اپنی جگہ پر ہر تاہم محدود پیمانے پر نقل و حرکت کی گئی ہے۔ شام کی حکومت اس بات کا اعتراف کر چکی ہے کہ اس کے پاس بڑی مقدار میں کیمیائی ہتھیار موجود ہیں۔
لیون پنیٹا نے پینٹاگون میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا 'کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں خدشات ابھی تک قائم ہیں۔'تاہم انہوں نے کہا کہ یہ 'شام کی فوج کے پاس تاحال محفوظ ہیں۔ آن لائن کے مطابق ترکی نے عندیہ دیا ہے شام کی سرحدی حدود سے ہمارے ملک میں دو بار مارٹر حملہ کیا گیا تو ہم بھر پور جوابی کارروائی کرینگے۔