چینی کی درآمد پر 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد
شوگر ملز مالکان کو 5لاکھ ٹن اضافی چینی افغانستان اور دیگر ممالک کو برآمد کرنے کی اجازت
گندم کی امدادی قیمت 1300روپے فی من مقرر کرنے کی منظوری، زرعی ٹیوب ویل کیلیے بجلی پرسبسڈی کی سمری موخر، وزیر خزانہ کی زیر صدارت ای سی سی اجلاس میں فیصلے۔ فوٹو: فائل
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے شوگر ملوں کو مشروط طور پر زمینی راستے سے افغانستان سمیت دیگر ممالک کو 5لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی برآمد کرنے کی اجازت جبکہ چینی کی درآمد پر 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے تاہم زرعی ٹیوب ویلوں کیلیے بجلی پر سبسڈی دینے کی سمری موخر کردی گئی ہے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کمیٹی کے اجلاس میں گندم کی اگلی فصل کیلیے 1300روپے فی من امدادی قیمت مقرر کرنے کی بھی باضابطہ منظوری دی گئی۔ چینی برآمد کرنے کی اجازت کے ساتھ شوگر ملوں کو پابند بنایا گیا کہ وہ صوبوں کے تحفظات دور کرکے گنے کے کاشتکاروں کے بقایات جات ادا کرنا ہونگے اور کرشنگ سیزن بروقت شروع کرنا ہوگا۔
ای سی سی نے ماڑی گیس کمپنی کیلیے گیس کی قیمتوں کا فارمولا بھی تبدیل کردیا ہے اور پی پی ایل کی طرح ماڑی گیس کیلیے بھی کاسٹ پلس ایگریمنٹ کو مارکیٹ میں رائج خام تیل کی قیمتوں کے ساتھ منسلک کرنے کے فارمولے سے تبدیل کردیا ہے اور یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ماڑی گیس کا 88 فیصد غیر تقسیم شدہ بیلنس حکومت پاکستان کو منتقل کیا جائیگا جبکہ باقی 12 فیصد عوام کیلیے جاری کیا جائیگا مگر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کمپنی میں ان کے مفادات کو تحفظ فراہم کیا جائیگا۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کمیٹی کے اجلاس میں گندم کی اگلی فصل کیلیے 1300روپے فی من امدادی قیمت مقرر کرنے کی بھی باضابطہ منظوری دی گئی۔ چینی برآمد کرنے کی اجازت کے ساتھ شوگر ملوں کو پابند بنایا گیا کہ وہ صوبوں کے تحفظات دور کرکے گنے کے کاشتکاروں کے بقایات جات ادا کرنا ہونگے اور کرشنگ سیزن بروقت شروع کرنا ہوگا۔
ای سی سی نے ماڑی گیس کمپنی کیلیے گیس کی قیمتوں کا فارمولا بھی تبدیل کردیا ہے اور پی پی ایل کی طرح ماڑی گیس کیلیے بھی کاسٹ پلس ایگریمنٹ کو مارکیٹ میں رائج خام تیل کی قیمتوں کے ساتھ منسلک کرنے کے فارمولے سے تبدیل کردیا ہے اور یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ماڑی گیس کا 88 فیصد غیر تقسیم شدہ بیلنس حکومت پاکستان کو منتقل کیا جائیگا جبکہ باقی 12 فیصد عوام کیلیے جاری کیا جائیگا مگر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کمپنی میں ان کے مفادات کو تحفظ فراہم کیا جائیگا۔