کوئٹہ کا افسوسناک واقعہ

محنت کشوں، ہنر مندوں اور مزدوروں کو قتل کرنا جہالت بھی ہے اور یہ ظلم کے زمرے میں بھی آتا ہے۔

بلوچستان میں اکثر ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں بے گناہ لوگوں کو بسوں سے اتار کر قتل کیا گیا ہے، فائل فوٹو

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے عثمان روڈ پر موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے 5 افراد جاں بحق جب کہ 3 زخمی ہوگئے۔واقعات کے مطابق بدھ کی شام کوئٹہ کے گنجان آباد علاقے عثمان روڈ پر نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے باربر شاپ اور ڈرائی کلینر کی 2 دکانوں پر فائرنگ کردی ۔

جس سے دکانوں میں موجود 5 افراد جاں بحق اور تین افرادزخمی ہوگئے، فائرنگ کے بعد حملہ آور موقع سے فرارہوگئے، ہلاک ہونے والے افراد مزدور پیشہ بتائے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اس دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے بتایا جاتا ہے۔ ادھر سبی کی تحصیل لہڑی کے علاقے ماہی میں بھی نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے دو افراد کو قتل کردیا اور فرارہوگئے۔قلات اور وڈھ میں بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے دو افرادکو قتل کردیا۔ ایک عالم دین کے قتل کی اطلاع بھی ہے ۔بلوچستان میں جو حالات ہیں 'وہ سب کے سامنے ہیں ۔اس صوبے میں خاصے عرصے سے دہشت گرد اور امن دشمن عناصر فرقہ وارانہ اور نسلی و لسانی بنیادوں پر بے گناہ افراد کو قتل کر رہے ہیں ۔


کوئٹہ میں جو واقعہ ہوا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ محنت کشوں 'ہنر مندوں اور مزدوروں کو قتل کرنا جہالت بھی ہے اور یہ ظلم کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ ظلم کا ایک پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی بے گناہ کو اس کی قومیت 'رنگ 'نسل یا مسلک کی بنیاد پر قتل کر دیا جائے۔ جن علاقوں میں اس قسم کا کلچر فروغ پا جائے 'وہاں بدامنی اور پسماندگی فروغ پاتی ہے۔ بلوچستان میں اکثر ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں بے گناہ لوگوں کو بسوں سے اتار کر قتل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے خلاف بھی دہشت گردی کی وارداتیں ہوئی ہیں۔

بلوچستان جیسے پرامن صوبے میں اس قسم کے واقعات ہونا قابل افسوس بات ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان اور ان کی ٹیم اپنے طور پر معاملات کو کنٹرول کرنے کے لیے خاصی کوشش کر رہی ہے لیکن یہ واقعات اس وقت تک نہیں رک سکتے جب تک بلوچستان کے انسان دوست رہنما اور سیاسی جماعتیں اور علماء کرام اپنا کردار ادا نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ بلوچستان کی حکومت کو ہر قسم کی مدد فراہم کرے تاکہ وہ صوبے میں شرپسندوں 'دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کر سکے۔اس طریقے سے ہی صوبے میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
Load Next Story