اختر مینگل کی عمران اور نواز شریف سے ملاقات اسکرپٹ کے مطابق تھی الطاف حسین
ایم کیو ایم کا نام اسکرپٹ میں شامل نہیں اس لیے ملاقات کے لیے وقت نہیں دیاگیا،ہمیشہ بلوچستان میں ظلم کیخلاف آواز اٹھائی
کاروکاری کی رسم سے متاثر ہونیوالے لڑکے اور لڑکیاںنکاح کرناچاہتے ہیں توایم کیوایم کے دروازے کھلے ہیں،جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب فوٹو : ایکسپریس
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد تحریک الطاف حسین نے کہا ہے کہ بلوچستان کے رہنمائوں سرداراختر مینگل اور ثناء اللہ بلوچ نے اگرچہ ایم کیوایم کو ملاقات کا وقت نہیں دیا۔
تاہم ایم کیوایم کی خواہش ہے کہ بلوچستان میں ظلم وستم بند اورمسائل سیاسی بنیادوں پرحل ہوں، ایم کیوایم نے ہمیشہ بلوچستان کے حق کیلیے آواز اٹھائی ہے،جلسے جلوس منعقد کیے اور آئندہ بھی بلوچستان کے مظلوم عوام کے حق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے،عمران خان اور نوازشریف سے بلوچستان کے رہنمائوں کی ملاقات اسکرپٹ کے مطابق تھی،ایم کیوایم کا نام اسکرپٹ میں شامل نہیں تھا اس لیے ملاقات نہیں ہوسکی۔ انھوں نے کہاکہ ہم ان رہنمائوں کی مجبوریوں کو سمجھتے ہیں اور اس معاملے میں کوئی شکایت نہیں رکھتے،
کاروکاری کے خلاف ایم کیوایم کی جدوجہد جاری رہے گی۔ان خیالات کااظہارانھوں نے ماما پروڈکشن کی جانب سے سیاسی جدوجہد اورانقلابی فکر پر مبنی ڈرامہ سیریزجہدمسلسل کی دوسری قسط ''نقیب انقلاب''کے اجرا کے موقع پرلال قلعہ گرائونڈ عزیزآباد پر منعقدہ جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،الطاف حسین نے اس موقع پر''نقیب انقلاب'' کے ہدایتکار سمیت فنکاروں اور پروڈکشن ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس ڈرامے میں معاشرے کی ناہمواریوں، ناانصافیوں،عدم مساوات اور بے روزگاری کے خاتمے کیلیے انقلابی فکر،عزم مسلسل،برداشت وصبر اور ڈسپلن کا درس دیا ہے۔
انھوں نے میڈیاکے ذمے داروں سے درخواست کی کہ اس فکرانگیز ڈرامے کو اپنے چینلز پر آن ایئر کرائیں ورنہ سی ڈی دستیاب ہے اور گلی کوچوں پر بڑی اسکرینوں پر اس ڈرامے کو چلانے کا اہتمام کیا جائے تاکہ انقلابی وسیاسی فکرگھرگھر پہنچ سکے،انھوں نے رابطہ کمیٹی کو ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ اگرچہ ''نقیب انقلاب''کی بے لوث وبے غرض ٹیم نے بلامعاوضہ اس ڈرامے میں کام کیا ہے تاہم انھیں ان کی خدمات کے صلے میں20-20ہزار روپے دیے جائیں۔
انھوں نے کہا کہ ایم کیوایم واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ہمیشہ سینئر اداکاروں وفنکاروں کی نہ صرف عزت افزائی کی بلکہ ان کی تیمارداری وخبرگیری بھی رکھی اوران کے فن کی حوصلہ افزائی کی،الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے انقلاب کا سفرچلتارہے گا،یہ اس وقت نہیں رکا جب ایم کیوایم کو فوجی آپریشن اور ریاستی تشدد کا سامنا تھا،ساتھی شہید ہورہے تھے، شہداکیلیے قبرستانوں میں جگہ کم پڑگئی تھی لیکن حق کا علم اٹھانے والوں نے سچ کا پرچم گرنے نہیں دیا۔
بالاخر ایم کیوایم کے انقلابی فکر کی گونج سندھ وپنجاب کے گائوں گوٹھوں، بلوچستان کے ریگزاروں، خیبرپختونخوا، بلتستان وگلگت کے پہاڑوں وکوہساروں میں پہنچ گئی،ایم کیوایم کسی ایک زبان بولنے والوں کی جماعت نہیں بلکہ تمام قومیتوں، مسلکوں، فرقوں اور مذاہب پر یقین رکھنے والوں کی نمائندہ جماعت ہے،انھوں نے کہاکہ صوبہ سندھ سمیت دیگر صوبوں میں خواتین کے ساتھ بڑا ناروا سلوک کیا جاتا ہے، اگر کوئی لڑکا لڑکی اپنی مرضی سے نکاح کرنا چاہے تو اسے عزت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے،ایم کیوایم نے ایسے 8سے 10جوڑوں کو نہ صرف پناہ دی بلکہ ان کا نکاح کراکے انھیں بحفاظت دوسرے ملکوں میں بھجوانے کا بندوبست کیا۔
اس موقع پر ایم کیوایم کے قائد نے ملک کے تمام صوبوں میں بسنے والی بہنوں، بیٹیوں اور بھائیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اپنی مرضی سے شرعی طریقے سے نکاح کے خواہش مند ہیں تو الطاف حسین کے دروازے ان کیلیے کھلے ہیں،ایم کیوایم مکمل طورپران کی حفاظت کرے گی،کسی ملک،چوہدری،وڈیرے اورخان میں جرات نہیں کہ وہ ان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے،الطاف حسین نے کہاکہ بلوچستان کے معتبر رہنمائوں سرداراخترمینگل وثناء اللہ بلوچ کی پاکستان آمد پرانھیں خوش آمدید کہتاہوں۔
ہمیں ان کے پاکستان آنے پر بڑی خوشی ہوئی،میری ہدایت پر ایم کیوایم کے رہنمائوں بابرغوری ، حیدر عباس رضوی اور دیگر ساتھیوں نے ان سے رابطہ کرکے خیرسگالی کے طور پر ملاقات کا وقت مانگا تاہم انھوں نے جواب دیا کہ ہم ضرور ملتے تاہم 29ستمبر کی صبح اسلام آباد سے دبئی جارہے ہیں اگر ایم کیوایم کے رہنماچاہیں تو دبئی میں ملاقات ممکن ہے تاہم ہفتے کی صبح ہم دیکھتے ہیں کہ عمران خان ونوازشریف بلوچ رہنمائوں سے ملاقات کررہے ہیں، الطاف حسین نے کہاکہ میں نے ایم کیوایم کے ساتھیوں سے کہاکہ اگر ہمیں ملاقات کاوقت نہیں دیاگیا توناراض ہونے کی ضرورت نہیں۔
بلوچ رہنمائوں کی مجبوریوں کوسمجھا جائے کیونکہ جو ان سے ملاقات کررہے ہیں وہ اسکرپٹ کے مطابق ہے اوراسی اسکرپٹ میں ایم کیوایم کانام شامل نہیں ہے،الطاف حسین نے کہاکہ اختر مینگل کے اس طرز عمل کے باوجود ایم کیو ایم مظلوم بلوچ عوام کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھے گی،ایم کیوایم نے ہمیشہ بلوچستان میں ظلم کے خلاف آواز اٹھائی،ابھی بھی دعاگوہیں کہ بلوچستان ملک کا صوبہ رہے اوراس کے مسائل فوری طورپرحل ہوں۔
تاہم ایم کیوایم کی خواہش ہے کہ بلوچستان میں ظلم وستم بند اورمسائل سیاسی بنیادوں پرحل ہوں، ایم کیوایم نے ہمیشہ بلوچستان کے حق کیلیے آواز اٹھائی ہے،جلسے جلوس منعقد کیے اور آئندہ بھی بلوچستان کے مظلوم عوام کے حق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے،عمران خان اور نوازشریف سے بلوچستان کے رہنمائوں کی ملاقات اسکرپٹ کے مطابق تھی،ایم کیوایم کا نام اسکرپٹ میں شامل نہیں تھا اس لیے ملاقات نہیں ہوسکی۔ انھوں نے کہاکہ ہم ان رہنمائوں کی مجبوریوں کو سمجھتے ہیں اور اس معاملے میں کوئی شکایت نہیں رکھتے،
کاروکاری کے خلاف ایم کیوایم کی جدوجہد جاری رہے گی۔ان خیالات کااظہارانھوں نے ماما پروڈکشن کی جانب سے سیاسی جدوجہد اورانقلابی فکر پر مبنی ڈرامہ سیریزجہدمسلسل کی دوسری قسط ''نقیب انقلاب''کے اجرا کے موقع پرلال قلعہ گرائونڈ عزیزآباد پر منعقدہ جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،الطاف حسین نے اس موقع پر''نقیب انقلاب'' کے ہدایتکار سمیت فنکاروں اور پروڈکشن ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس ڈرامے میں معاشرے کی ناہمواریوں، ناانصافیوں،عدم مساوات اور بے روزگاری کے خاتمے کیلیے انقلابی فکر،عزم مسلسل،برداشت وصبر اور ڈسپلن کا درس دیا ہے۔
انھوں نے میڈیاکے ذمے داروں سے درخواست کی کہ اس فکرانگیز ڈرامے کو اپنے چینلز پر آن ایئر کرائیں ورنہ سی ڈی دستیاب ہے اور گلی کوچوں پر بڑی اسکرینوں پر اس ڈرامے کو چلانے کا اہتمام کیا جائے تاکہ انقلابی وسیاسی فکرگھرگھر پہنچ سکے،انھوں نے رابطہ کمیٹی کو ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ اگرچہ ''نقیب انقلاب''کی بے لوث وبے غرض ٹیم نے بلامعاوضہ اس ڈرامے میں کام کیا ہے تاہم انھیں ان کی خدمات کے صلے میں20-20ہزار روپے دیے جائیں۔
انھوں نے کہا کہ ایم کیوایم واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ہمیشہ سینئر اداکاروں وفنکاروں کی نہ صرف عزت افزائی کی بلکہ ان کی تیمارداری وخبرگیری بھی رکھی اوران کے فن کی حوصلہ افزائی کی،الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے انقلاب کا سفرچلتارہے گا،یہ اس وقت نہیں رکا جب ایم کیوایم کو فوجی آپریشن اور ریاستی تشدد کا سامنا تھا،ساتھی شہید ہورہے تھے، شہداکیلیے قبرستانوں میں جگہ کم پڑگئی تھی لیکن حق کا علم اٹھانے والوں نے سچ کا پرچم گرنے نہیں دیا۔
بالاخر ایم کیوایم کے انقلابی فکر کی گونج سندھ وپنجاب کے گائوں گوٹھوں، بلوچستان کے ریگزاروں، خیبرپختونخوا، بلتستان وگلگت کے پہاڑوں وکوہساروں میں پہنچ گئی،ایم کیوایم کسی ایک زبان بولنے والوں کی جماعت نہیں بلکہ تمام قومیتوں، مسلکوں، فرقوں اور مذاہب پر یقین رکھنے والوں کی نمائندہ جماعت ہے،انھوں نے کہاکہ صوبہ سندھ سمیت دیگر صوبوں میں خواتین کے ساتھ بڑا ناروا سلوک کیا جاتا ہے، اگر کوئی لڑکا لڑکی اپنی مرضی سے نکاح کرنا چاہے تو اسے عزت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے،ایم کیوایم نے ایسے 8سے 10جوڑوں کو نہ صرف پناہ دی بلکہ ان کا نکاح کراکے انھیں بحفاظت دوسرے ملکوں میں بھجوانے کا بندوبست کیا۔
اس موقع پر ایم کیوایم کے قائد نے ملک کے تمام صوبوں میں بسنے والی بہنوں، بیٹیوں اور بھائیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اپنی مرضی سے شرعی طریقے سے نکاح کے خواہش مند ہیں تو الطاف حسین کے دروازے ان کیلیے کھلے ہیں،ایم کیوایم مکمل طورپران کی حفاظت کرے گی،کسی ملک،چوہدری،وڈیرے اورخان میں جرات نہیں کہ وہ ان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے،الطاف حسین نے کہاکہ بلوچستان کے معتبر رہنمائوں سرداراخترمینگل وثناء اللہ بلوچ کی پاکستان آمد پرانھیں خوش آمدید کہتاہوں۔
ہمیں ان کے پاکستان آنے پر بڑی خوشی ہوئی،میری ہدایت پر ایم کیوایم کے رہنمائوں بابرغوری ، حیدر عباس رضوی اور دیگر ساتھیوں نے ان سے رابطہ کرکے خیرسگالی کے طور پر ملاقات کا وقت مانگا تاہم انھوں نے جواب دیا کہ ہم ضرور ملتے تاہم 29ستمبر کی صبح اسلام آباد سے دبئی جارہے ہیں اگر ایم کیوایم کے رہنماچاہیں تو دبئی میں ملاقات ممکن ہے تاہم ہفتے کی صبح ہم دیکھتے ہیں کہ عمران خان ونوازشریف بلوچ رہنمائوں سے ملاقات کررہے ہیں، الطاف حسین نے کہاکہ میں نے ایم کیوایم کے ساتھیوں سے کہاکہ اگر ہمیں ملاقات کاوقت نہیں دیاگیا توناراض ہونے کی ضرورت نہیں۔
بلوچ رہنمائوں کی مجبوریوں کوسمجھا جائے کیونکہ جو ان سے ملاقات کررہے ہیں وہ اسکرپٹ کے مطابق ہے اوراسی اسکرپٹ میں ایم کیوایم کانام شامل نہیں ہے،الطاف حسین نے کہاکہ اختر مینگل کے اس طرز عمل کے باوجود ایم کیو ایم مظلوم بلوچ عوام کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھے گی،ایم کیوایم نے ہمیشہ بلوچستان میں ظلم کے خلاف آواز اٹھائی،ابھی بھی دعاگوہیں کہ بلوچستان ملک کا صوبہ رہے اوراس کے مسائل فوری طورپرحل ہوں۔