اک خواب سا دیکھا ہے تعبیر نہیں بنتی
ہم نے ایک خواب دیکھا اور بہت ہی خانہ خراب دیکھا بلکہ یوں کہئے کہ بہت بڑا عذاب دیکھا خود کو زیر عتاب دیکھا۔
barq@email.com
کل چودہویں کی رات تو نہیں تھی لیکن کچھ نہ کچھ چودہواں تو تھا اور شب بھر کسی کا چرچا نہیں رہا تھا بلکہ دھرنا رہا تھا، کہ ہم نے ایک خواب دیکھا اور بہت ہی خانہ خراب دیکھا بلکہ یوں کہئے کہ بہت بڑا عذاب دیکھا خود کو زیر عتاب دیکھا، اندھیروں کا گرداب دیکھا اور اجالوں کو بے حساب دیکھا، یہ بھی پتہ نہیں کہ خواب دن کا تھا یا رات کا بلکہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ خواب تھا بھی یا نہیں، لیکن پریشان اتنا تھا کہ ہمیں بھی پریشان کر کے رکھ دیا اپنی سمجھ میں تو اس کی کچھ بھی تعبیر نہیں ہے لیکن چونکہ اپنے ملک میں ایک سے ایک بڑھ کر ''تعبیر گر'' پڑا ہوا ہے ۔
کیوں کہ اس ملک کے باشندوں کا جدی پشتی اور خاندانی پیشہ ہی خواب دیکھنا ہے خواب کھانا خواب پینا خواب اوڑھنا ہے بلکہ یہ خواب میں پیدا ہوتے ہیں خواب میں جیتے ہیں اور خواب ہی میں خواب ہو جاتے ہیں، چنانچہ خوابوں کی تعبیر بنانے والے ماہرین بھی بہت ہیں اتنے زیادہ کہ اکثر خواب کم پڑ جاتے ہیں اور تعبیر بتانے والے بہت ہو جاتے ہیں اس طلب و رسد کو پورا کرنے کے لیے بہت سارے لوگوں نے ''خواب دکھانے'' کا پیشہ اختیار کیا ہوا ہے چنانچہ یہ خواب دکھاتے ہیں لوگ خواب دیکھتے ہیں اور تعبیر گر خواب کی تعبیر بتائے ہوئے مزید خواب بیچتے ہیں چنانچہ ایک بزرگ شاعر نے ایک ترانہ خواب میں لکھا ہے
ایچک خواب بیچک خواب، خواب کے اندر خواب
بولو سارے ''بوڑھے بچو'' کیا ہے اس کا جواب
چنانچہ ہم نے بھی سوچا کہ کیوں نہ اپنا خواب بھی مشتہر کر کے تعبیر گروں کے ساتھ شیئر کریں تا کہ اس کی صحیح تعبیر مل جائے، خواب میں ہم نے دیکھا کہ ہم ایک بس میں بیٹھے ہوئے ہیں یہ معلوم نہیں کہ ہم اس بس میں کیسے اور کہاں سے چڑھے تھے یا بس کہاں جا رہی تھی کہاں سے آ رہی تھی، بس خود کو اچانک بس میں پایا یا یوں کہئے کہ ہماری آنکھ خواب میں کھلی تو بس کے اندر تھے، یہ بھی اندازہ نہیں کہ ہماری آنکھ کھلی یا بند ہوئی تھی یا ہم خواب میں بس دیکھ رہے تھے یا بس میں خواب دیکھ رہے تھے چاروں طرف دیکھا تو اور بھی بہت سارے لوگ محو خواب تھے اور شاید ہماری طرح خواب میں ہی تھے یعنی
ہے غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں
وہ بس جس میں ہم خواب دیکھ رہے تھے چل بھی رہی تھی اور نہیں بھی چل رہی تھی چل اس لیے رہی تھی کہ چل رہی تھی اور ''نہیں چل'' اس لیے رہی تھی کہ نہیں چل رہی تھی، مطلب یہ کہ انجن سے چل رہی تھی لیکن ٹائروں سے نہیں چل رہی تھی، غرا رہی تھی گرج رہی تھی ہل رہی تھی جُل رہی تھی کانپ رہی تھی لرز رہی تھی لیکن وہیں کی وہیں کھڑی تھی، ہارن تو اس کی نہیں بج رہی تھی لیکن باقی سب بج رہا تھا حتیٰ کہ سواریوں کے دانت بھی بج رہے تھے اور کوئی کوئی تو بغلیں اور تالیاں بھی بجا رہا تھا، ہم ہارن کے قریب تھے اس لیے اس سے پوچھ ہی لیا کہ بھائیا جب سب کے سب بج رہے ہیں تو تم کیوں نہیں بجے رہے۔
یہ تو آپ بھی جانتے ہوں گے کیوں کہ آپ بھی جدی پشتی خواب دیکھنے والے ہیں کہ ''خواب'' میں ہر چیز باتیں کرتی ہیں بلکہ زیادہ تر ''چیزیں'' ہی باتیں کرتی ہیں کبھی رنگ بھی باتیں کرتے ہیں چنانچہ ہارن نے ہمیں سرگوشی میں بتایا کہ اس لیے تو ہم نہیں بج رہے ہیں کہ یہ سارے بج رہے ہیں اور جب سارے نقارے بج رہے ہوں تو ہارن ہو یا طوطی ۔۔۔ کون سنتا ہے، خواب ہی میں ہم نے دیکھا کہ دائیں بائیں سے دوسری سواریاں ہارن دے کر پاس ہو جاتی ہیں یعنی زوں یا شوں کر کے نکل جاتی ہیں اور ہماری بس ''محو جرس کارواں'' ہو کر صفر کی انتہائی رفتار سے ''محو سفر'' ہونے کے بجائے ''محو صِفر'' ہے۔
تیز رفتار چینی اور ملائیشی انڈونیشی بسیں تو خیر پھر بھی ''بسیں'' تو تھیں لیکن ہم نے دیکھا کہ گدھا گاڑیاں اور بیل گاڑیاں بھی ''ہارن نہ دے کر'' اوور ٹیک کر رہی ہیں، پیچھے کی سیٹ پر بیٹھی ہوئی ایک سواری چلا کر بولی ڈرائیور استاد ذرا چاری چیونٹیوں اور کچھوؤں کو تو راستہ دے دو لیکن ڈرائیور پرانے بھولے بسرے گانوں میں ایسا مصروف تھا کہ کانوں پر رینگتی ہوئی جوؤں کو بھی ہاتھ مار کر کر جھٹک دیتا گانے کچھ ایسے تھے، ''میرا دادا تھا تلوار، میرا بابا تھا ایک توپ، میرے پہلوان دادا نے، میری مہ جبین دادی کو، ایک دن کہا کہ میں، چاند توڑ لاتا ہوں۔
آسماں کے تاروں کو تیرے، دوپٹے میں لگاتا ہوں'' آخر سواریاں اٹھ اٹھ کر شور مچانے لگے کہ تیرے دادا کی ایسی اور تیری دادی کی تیسی ۔۔۔ پرانے پرکھوں کے گن گانے چھوڑ اور آگے بڑھ، اس پر ڈرائیور نے پرانا کیسٹ نکال کر نیا لگایا جس میں ماضی کے ''ہٹ'' آباد و اجداد کے بجائے مستقبل کے ''گانے'' بھرے ہوئے تھے جو مختلف لیڈی گا گاؤں، مامامے، گے گے اور چاچی ''گی گی'' کے گائے ہوئے تھے مثلاً ''ہم پیار کریں گے وار کریں گے، نثار کریں گے، روز گوشت پکے گا، ہر شام پلاؤ کھائیں، ہر رات حلوہ ٹھونس گے، بحر ظلمات میں گھوڑوں کے بغیر پیدل دوڑیں گے''
ہم پرورش حلق و شکم کرتے رہیں گے
جو کچھ بھی ملے اس کو ہضم کرتے رہیں گے
سواریاں اور تنگ آگئیں اور ڈرائیور اور کلینروں کو اتار دیا ایک اور ڈرائیور ، نے بیٹھے ہی اعلان کیا کہ بس میں تیل کا ایک قطرہ بھی نہیں، تیل نکالو بس چلالو، پھر اس کے ساتھ مختلف قسم کے برتن بھانڈوںمیں سواریوں کا تیل نچوڑنے لگے، اپنے ڈبے برتن بھرنے کے بعد وہ ڈرائیور کے پاس گئے کچھ کھسر پسر کی اور تیل کو بس میں ڈالنے کے بجائے آپس میں بانٹنے لگے، سواریوں نے پھر غلغلہ مچایا، ڈرائیور اور اس کے ساتھیوں کو دھکے دے کر بس سے باہر دھکیل دیا بس میں پھر شور مچ گیا، چنانچہ ایک اور شخص کو اسٹیئرنگ پر بٹھا دیا گیا لیکن یہ لوگ پہلے سے بھی زیادہ چالاک نکلے نہ صرف بہت سارا تیل سواریوں کو نچوڑ کر لے اڑے بلکہ بس کے ٹول بکس سے سارے اوزار بھی لے گئے ۔۔۔ پھر تو یہ سلسلہ ہی چل نکلا، نئے نئے ڈرائیور بٹھائے جانے لگے اور بس کا بیڑا مزید غرق ہوتا چلا گیا
مریض عشق پر رحمت خدا کی
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
ہر ڈرائیور کے ساتھ بس میں کچھ نہ کچھ ٹوٹ پھوٹ بھی چل رہی تھی آخر نوبت یہاں تک پہنچی سواریوں میں پھر نقارے بجنے لگے پھر ہم نے خواب میں ایک سالخوردہ بوڑھے کو دیکھا جو سب سے آخری نشست پر کبھی رو رہا تھا اور کبھی ہنس رہا تھا ہم نے اس ہنسنے اور رونے کا سبب پوچھا تو وہ بولا ۔۔۔۔ رو میں اس لیے رہا ہوں کہ بس رو رہی ہے اور ہنس اس لیے رہا ہوں کہ کیا ڈرائیور بدلنے سے گاڑی نئی ہو جائے گی، اچانک بس کو ایک زور کا جھٹکا لگا اور ہماری آنکھ دھیرے سے کھل گئی، اب اپنا خواب اپنے پڑھنے والوں سے شیئر کر رہے ہیں شاید ان میں سے کوئی ہمیں اس کی تعبیر بتا ہی دے اگر جب پوری سرزمین ہی خواب گروں اور تعبیر گروں کی ہے تو کوئی نہ کوئی تو ہمارے اس خواب کی تعبیر بھی بتا ہی دے گا لیکن ساتھ ہی ایک خطرہ بھی ہے کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ ہمارے اس خواب کی اتنی تعبیریں ہو جائیں کہ
شد پریشاں خواب من از کثرت تعبیر ہا
کیوں کہ اس ملک کے باشندوں کا جدی پشتی اور خاندانی پیشہ ہی خواب دیکھنا ہے خواب کھانا خواب پینا خواب اوڑھنا ہے بلکہ یہ خواب میں پیدا ہوتے ہیں خواب میں جیتے ہیں اور خواب ہی میں خواب ہو جاتے ہیں، چنانچہ خوابوں کی تعبیر بنانے والے ماہرین بھی بہت ہیں اتنے زیادہ کہ اکثر خواب کم پڑ جاتے ہیں اور تعبیر بتانے والے بہت ہو جاتے ہیں اس طلب و رسد کو پورا کرنے کے لیے بہت سارے لوگوں نے ''خواب دکھانے'' کا پیشہ اختیار کیا ہوا ہے چنانچہ یہ خواب دکھاتے ہیں لوگ خواب دیکھتے ہیں اور تعبیر گر خواب کی تعبیر بتائے ہوئے مزید خواب بیچتے ہیں چنانچہ ایک بزرگ شاعر نے ایک ترانہ خواب میں لکھا ہے
ایچک خواب بیچک خواب، خواب کے اندر خواب
بولو سارے ''بوڑھے بچو'' کیا ہے اس کا جواب
چنانچہ ہم نے بھی سوچا کہ کیوں نہ اپنا خواب بھی مشتہر کر کے تعبیر گروں کے ساتھ شیئر کریں تا کہ اس کی صحیح تعبیر مل جائے، خواب میں ہم نے دیکھا کہ ہم ایک بس میں بیٹھے ہوئے ہیں یہ معلوم نہیں کہ ہم اس بس میں کیسے اور کہاں سے چڑھے تھے یا بس کہاں جا رہی تھی کہاں سے آ رہی تھی، بس خود کو اچانک بس میں پایا یا یوں کہئے کہ ہماری آنکھ خواب میں کھلی تو بس کے اندر تھے، یہ بھی اندازہ نہیں کہ ہماری آنکھ کھلی یا بند ہوئی تھی یا ہم خواب میں بس دیکھ رہے تھے یا بس میں خواب دیکھ رہے تھے چاروں طرف دیکھا تو اور بھی بہت سارے لوگ محو خواب تھے اور شاید ہماری طرح خواب میں ہی تھے یعنی
ہے غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں
وہ بس جس میں ہم خواب دیکھ رہے تھے چل بھی رہی تھی اور نہیں بھی چل رہی تھی چل اس لیے رہی تھی کہ چل رہی تھی اور ''نہیں چل'' اس لیے رہی تھی کہ نہیں چل رہی تھی، مطلب یہ کہ انجن سے چل رہی تھی لیکن ٹائروں سے نہیں چل رہی تھی، غرا رہی تھی گرج رہی تھی ہل رہی تھی جُل رہی تھی کانپ رہی تھی لرز رہی تھی لیکن وہیں کی وہیں کھڑی تھی، ہارن تو اس کی نہیں بج رہی تھی لیکن باقی سب بج رہا تھا حتیٰ کہ سواریوں کے دانت بھی بج رہے تھے اور کوئی کوئی تو بغلیں اور تالیاں بھی بجا رہا تھا، ہم ہارن کے قریب تھے اس لیے اس سے پوچھ ہی لیا کہ بھائیا جب سب کے سب بج رہے ہیں تو تم کیوں نہیں بجے رہے۔
یہ تو آپ بھی جانتے ہوں گے کیوں کہ آپ بھی جدی پشتی خواب دیکھنے والے ہیں کہ ''خواب'' میں ہر چیز باتیں کرتی ہیں بلکہ زیادہ تر ''چیزیں'' ہی باتیں کرتی ہیں کبھی رنگ بھی باتیں کرتے ہیں چنانچہ ہارن نے ہمیں سرگوشی میں بتایا کہ اس لیے تو ہم نہیں بج رہے ہیں کہ یہ سارے بج رہے ہیں اور جب سارے نقارے بج رہے ہوں تو ہارن ہو یا طوطی ۔۔۔ کون سنتا ہے، خواب ہی میں ہم نے دیکھا کہ دائیں بائیں سے دوسری سواریاں ہارن دے کر پاس ہو جاتی ہیں یعنی زوں یا شوں کر کے نکل جاتی ہیں اور ہماری بس ''محو جرس کارواں'' ہو کر صفر کی انتہائی رفتار سے ''محو سفر'' ہونے کے بجائے ''محو صِفر'' ہے۔
تیز رفتار چینی اور ملائیشی انڈونیشی بسیں تو خیر پھر بھی ''بسیں'' تو تھیں لیکن ہم نے دیکھا کہ گدھا گاڑیاں اور بیل گاڑیاں بھی ''ہارن نہ دے کر'' اوور ٹیک کر رہی ہیں، پیچھے کی سیٹ پر بیٹھی ہوئی ایک سواری چلا کر بولی ڈرائیور استاد ذرا چاری چیونٹیوں اور کچھوؤں کو تو راستہ دے دو لیکن ڈرائیور پرانے بھولے بسرے گانوں میں ایسا مصروف تھا کہ کانوں پر رینگتی ہوئی جوؤں کو بھی ہاتھ مار کر کر جھٹک دیتا گانے کچھ ایسے تھے، ''میرا دادا تھا تلوار، میرا بابا تھا ایک توپ، میرے پہلوان دادا نے، میری مہ جبین دادی کو، ایک دن کہا کہ میں، چاند توڑ لاتا ہوں۔
آسماں کے تاروں کو تیرے، دوپٹے میں لگاتا ہوں'' آخر سواریاں اٹھ اٹھ کر شور مچانے لگے کہ تیرے دادا کی ایسی اور تیری دادی کی تیسی ۔۔۔ پرانے پرکھوں کے گن گانے چھوڑ اور آگے بڑھ، اس پر ڈرائیور نے پرانا کیسٹ نکال کر نیا لگایا جس میں ماضی کے ''ہٹ'' آباد و اجداد کے بجائے مستقبل کے ''گانے'' بھرے ہوئے تھے جو مختلف لیڈی گا گاؤں، مامامے، گے گے اور چاچی ''گی گی'' کے گائے ہوئے تھے مثلاً ''ہم پیار کریں گے وار کریں گے، نثار کریں گے، روز گوشت پکے گا، ہر شام پلاؤ کھائیں، ہر رات حلوہ ٹھونس گے، بحر ظلمات میں گھوڑوں کے بغیر پیدل دوڑیں گے''
ہم پرورش حلق و شکم کرتے رہیں گے
جو کچھ بھی ملے اس کو ہضم کرتے رہیں گے
سواریاں اور تنگ آگئیں اور ڈرائیور اور کلینروں کو اتار دیا ایک اور ڈرائیور ، نے بیٹھے ہی اعلان کیا کہ بس میں تیل کا ایک قطرہ بھی نہیں، تیل نکالو بس چلالو، پھر اس کے ساتھ مختلف قسم کے برتن بھانڈوںمیں سواریوں کا تیل نچوڑنے لگے، اپنے ڈبے برتن بھرنے کے بعد وہ ڈرائیور کے پاس گئے کچھ کھسر پسر کی اور تیل کو بس میں ڈالنے کے بجائے آپس میں بانٹنے لگے، سواریوں نے پھر غلغلہ مچایا، ڈرائیور اور اس کے ساتھیوں کو دھکے دے کر بس سے باہر دھکیل دیا بس میں پھر شور مچ گیا، چنانچہ ایک اور شخص کو اسٹیئرنگ پر بٹھا دیا گیا لیکن یہ لوگ پہلے سے بھی زیادہ چالاک نکلے نہ صرف بہت سارا تیل سواریوں کو نچوڑ کر لے اڑے بلکہ بس کے ٹول بکس سے سارے اوزار بھی لے گئے ۔۔۔ پھر تو یہ سلسلہ ہی چل نکلا، نئے نئے ڈرائیور بٹھائے جانے لگے اور بس کا بیڑا مزید غرق ہوتا چلا گیا
مریض عشق پر رحمت خدا کی
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
ہر ڈرائیور کے ساتھ بس میں کچھ نہ کچھ ٹوٹ پھوٹ بھی چل رہی تھی آخر نوبت یہاں تک پہنچی سواریوں میں پھر نقارے بجنے لگے پھر ہم نے خواب میں ایک سالخوردہ بوڑھے کو دیکھا جو سب سے آخری نشست پر کبھی رو رہا تھا اور کبھی ہنس رہا تھا ہم نے اس ہنسنے اور رونے کا سبب پوچھا تو وہ بولا ۔۔۔۔ رو میں اس لیے رہا ہوں کہ بس رو رہی ہے اور ہنس اس لیے رہا ہوں کہ کیا ڈرائیور بدلنے سے گاڑی نئی ہو جائے گی، اچانک بس کو ایک زور کا جھٹکا لگا اور ہماری آنکھ دھیرے سے کھل گئی، اب اپنا خواب اپنے پڑھنے والوں سے شیئر کر رہے ہیں شاید ان میں سے کوئی ہمیں اس کی تعبیر بتا ہی دے اگر جب پوری سرزمین ہی خواب گروں اور تعبیر گروں کی ہے تو کوئی نہ کوئی تو ہمارے اس خواب کی تعبیر بھی بتا ہی دے گا لیکن ساتھ ہی ایک خطرہ بھی ہے کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ ہمارے اس خواب کی اتنی تعبیریں ہو جائیں کہ
شد پریشاں خواب من از کثرت تعبیر ہا