عدالتی حکم پر آسٹریلوی بھیڑوں کی سیمپلنگ آج ہوگی

حاصل کیے جانیوالے نمونے آج ہی برطانیہ کی سرفہرست لیبارٹری کو بھجوائے جائینگے

حقائق سامنے آجائینگے، طارق ، بھیڑیں بیمار ہوتیں تو مسقط اور قطر قبول نہ کرتے، آسٹریلین کمپنی فوٹو: فائل

آسٹریلیا سے درآمد کی جانے والی بھیڑوں کی عدالتی حکم پرآج (اتوار کو)مقررہ پانچ رکنی ٹیم سیمپلنگ کرے گی۔

بھیڑوں سے حاصل کیے جانے والے نمونوں کو معائنے کے لیے آج ہی برطانیہ کی سرفہرست لیبارٹری کو ارسال کردیا جائے گا۔ عدالت عالیہ کی جانب سے مقررہ سیمپلنگ ٹیم میں ڈائو میڈیکل یونیورسٹی کے ڈاکٹر رفیق خانانی کے علاوہ ہسبنڈری کمشنر، سندھ لائیو اسٹاک کے حکام اورایک سابق ڈی جی لائیو اسٹاک شامل ہیں، عدالت کے حکم کے مطابق بھیڑوں کی سیمپلنگ اوربرطانیہ کے سرفہرست لیبارٹری سے ٹیسٹنگ کے فیصلے پر آسٹریلین اور مقامی درآمدکنندہ کمپنی نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

اس ضمن میں آسٹریلین کمپنی ''ویلارڈ لائیو اسٹاک'' کے منیجنگ ڈائریکٹر اسٹیف میروال نے ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلین بھیڑوں کے حالیہ تنازع سے پاک آسٹریلیا تجارتی تعلقات کو نہ صرف دھچکا لگا ہے بلکہ پاکستان سے مختلف ممالک کے لیے حلال گوشت کی برآمدات کی راہ میں بھی مشکلات حائل ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسلام آباد نیشنل وٹرنری لیبارٹری کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد یہ ثابت ہوگیا ہے کہ آسٹریلین بھیڑیں کسی بھی مہلک بیماری سے پاک ہیں۔


انھوں نے بتایا کہ آسٹریلیاکا شمار دنیا بھر میں لائیواسٹاک کی فراہمی کے حوالے سے ایک مستند ملک کے طور پر ہوتا ہے اور ویلارڈ لائیواسٹاک نے گزشتہ32 سال کے دوران دنیا کے بیشتر ممالک میں مجموعی طور پر3 کروڑ بھیڑیں برآمد کی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ بحرین میں بھیڑوں کا تنازع ان کی صحت سے متعلق نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی نوعیت کا تھا اگر بحرین کو برآمدکی جانے والی بھیڑیں بیمار ہوتیں تو قطر کو46 ہزاراور مسقط کوبرآمد کی جانے والی 7 ہزار بھیڑیں بھی بیمار ہوتیں اور انھیں بھی وہاں کی حکومتیں قبول نہ کرتیں۔

انھوں نے بتایا کہ قطر اور مسقط کو برآمد کی جانے والی تمام آسٹریلین بھیڑوں کی پروسیسنگ بھی کرلی گئی ہے۔ بھیڑیں درآمد کرنے والی کمپنی پی کے لائیواسٹاک کے سربراہ طارق بٹ نے ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اب حقائق کے مطابق رپورٹس اور سچ سامنے آئے گاجس کے بعد تنازع پیدا کرنے والوں کو عدالت عالیہ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہونا پڑے گا، انھوں نے امید ظاہر کی کہ برطانوی لیبارٹری کی رپورٹ بھی اسلام آباد کی نیشنل وٹرنری لیبارٹری کی جاری کردہ رپورٹ کے عین مطابق ہوگی۔

طارق بٹ نے بتایا کہ مذکورہ تنازعے کی وجہ سے رواں سال پاکستان سے ایک ارب ڈالرمالیت کے حلال گوشت کابرآمدی ہدف حاصل نہ ہوسکے گا، بین الاقوامی حلال فوڈ کی تجارت میں حلال گوشت کی برآمدات کو فروغ دیکر پاکستان اپنا حصہ بڑھاسکتا ہے اور پاکستان آسٹریلین بھیڑیں درآمد کرکے مختلف ممالک کوسالانہ ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کا حلال گوشت برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم قیمتی زرمبادلہ کمانے والے اس شعبے کوحکومتی تحفظ کی ضرورت ہے۔

Recommended Stories

Load Next Story