ن لیگ پی پی میں باری باری حکومت کا کوئی معاہدہ نہیں راجا ظفرالحق
بلوچوں کا غصہ و ناراضی ختم کیے بغیر بلوچستان کے مسئلے کا حل نہیں نکل سکتا
حکومت سند ھ کو بلدیاتی نظام کے نفاذ کیلیے عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے،پریس کانفرنس
مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجا ظفرالحق نے کہا ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیں۔
جس میں پانچ ۔ پانچ سال حکومت کرنے کی باریاں مقرر کی گئی ہوں بلکہ یہ مخالفین کا ن لیگ کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ ہے، وفاقی وصوبائی حکومتوں کی عدم سنجیدگی کی وجہ سے کراچی کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں، بلوچوں کا غصہ و ناراضی جائز ہے جسے رفع کیے بغیر بلوچستان کے مسئلے کا حل نہیں نکل سکتا۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے مسلم لیگ (ن) سندھ کے جنرل سیکریٹری سلیم ضیا، ڈویژنل صدر خالد عزیز آرائیں، ضلعی صدر افضل گجر و دیگر رہنماؤں کے ہمراہ حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ راجا ظفرالحق نے کہا کہ میاں نوازشریف اور بے نظیر بھٹو شہید کے درمیان باہمی احترام اور اعتماد کا جو رشتہ قائم ہوا وہ بی بی کی شہادت کے بعد تیزی سے ختم ہوا۔
ن لیگ نے آصف علی زرداری کے اصرار پر حکومت میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن ججز بحال کرنے، کرپشن کی روک تھام نہ کرنے اور اسٹیل ملز، پی آئی اے، اوجی ڈی سی ایل اوردیگر سرکاری اداروں کی بحالی کے لیے تجاویز پر عمل نہ کرنے پر حکومت سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ناقص اقدامات کے نتیجے میں پورا پاکستان دہشت گردی اور بدنامی کا شکار ہے، دوسری طرف سندھ میں خوف اور پریشانی ہے جس کی وجہ سے کئی ہندو خاندان پڑوسی ملک جاکر بیٹھ گئے ہیں اوروہ اب واپس نہ آنے کا بیان دے رہے ہیں۔
جوکہ لمحہ فکریہ ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اختر مینگل کی باتیں دکھی انسان کی آواز ہے، اگر حکومت بلوچوں کو لاپتہ کرنے اور انہیں قتل کرنے کے اقدامات کی روک تھام نہیں کرسکی تو ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ یہ سلسلہ بند کرانے میں ضرور کامیاب ہوگی ۔ کراچی میں ہونے والی قتل وغارت گری کاایسا سیاسی حل چاہتے ہیں جوکہ آئین وقانون کے دائرے میں ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں نافذ کیے گئے نئے بلدیاتی نظام میں شہری اور دیہی کی تفریق پیدا کی گئی ہے جس پر حکومت سند ھ کو غور کرنا چاہیے اور عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
جس میں پانچ ۔ پانچ سال حکومت کرنے کی باریاں مقرر کی گئی ہوں بلکہ یہ مخالفین کا ن لیگ کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ ہے، وفاقی وصوبائی حکومتوں کی عدم سنجیدگی کی وجہ سے کراچی کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں، بلوچوں کا غصہ و ناراضی جائز ہے جسے رفع کیے بغیر بلوچستان کے مسئلے کا حل نہیں نکل سکتا۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے مسلم لیگ (ن) سندھ کے جنرل سیکریٹری سلیم ضیا، ڈویژنل صدر خالد عزیز آرائیں، ضلعی صدر افضل گجر و دیگر رہنماؤں کے ہمراہ حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ راجا ظفرالحق نے کہا کہ میاں نوازشریف اور بے نظیر بھٹو شہید کے درمیان باہمی احترام اور اعتماد کا جو رشتہ قائم ہوا وہ بی بی کی شہادت کے بعد تیزی سے ختم ہوا۔
ن لیگ نے آصف علی زرداری کے اصرار پر حکومت میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن ججز بحال کرنے، کرپشن کی روک تھام نہ کرنے اور اسٹیل ملز، پی آئی اے، اوجی ڈی سی ایل اوردیگر سرکاری اداروں کی بحالی کے لیے تجاویز پر عمل نہ کرنے پر حکومت سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ناقص اقدامات کے نتیجے میں پورا پاکستان دہشت گردی اور بدنامی کا شکار ہے، دوسری طرف سندھ میں خوف اور پریشانی ہے جس کی وجہ سے کئی ہندو خاندان پڑوسی ملک جاکر بیٹھ گئے ہیں اوروہ اب واپس نہ آنے کا بیان دے رہے ہیں۔
جوکہ لمحہ فکریہ ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اختر مینگل کی باتیں دکھی انسان کی آواز ہے، اگر حکومت بلوچوں کو لاپتہ کرنے اور انہیں قتل کرنے کے اقدامات کی روک تھام نہیں کرسکی تو ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ یہ سلسلہ بند کرانے میں ضرور کامیاب ہوگی ۔ کراچی میں ہونے والی قتل وغارت گری کاایسا سیاسی حل چاہتے ہیں جوکہ آئین وقانون کے دائرے میں ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں نافذ کیے گئے نئے بلدیاتی نظام میں شہری اور دیہی کی تفریق پیدا کی گئی ہے جس پر حکومت سند ھ کو غور کرنا چاہیے اور عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے۔