افغانستان کو قانونی وغیر قانونی برآمدات 5 ارب ڈالر سے زائد ہیں ذرائع
کپڑے، سیمنٹ سمیت پاکستانی مصنوعات وسیع پیمانے پر افغانستان میں دستیاب ہیں
تاجروں نے افغان صدر کو ملاقات میں ٹرانزٹ ٹریڈ وکنٹینر اسکینڈل سے متعلق مسائل بتائے۔ فوٹو فائل
KABUL:
افغانستان کے لیے پاکستان سے قانونی وغیرقانونی برآمدات کا حجم 5 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے جس میں قانونی برآمدات کی مالیت 2 ارب 6 کروڑ ڈالرہے۔
ذرائع نے بتایا کہ افغان صدرڈاکٹراشرف غنی کے حالیہ دورہ پاکستان کے موقع پر پاک افغان تجارت میں حائل رکاوٹیں ختم کرتے ہوئے قانونی چینلز کے ذریعے باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کا میکنزم ترتیب دیا گیا ہے جس میں چیک پوسٹوں کو ہفتے کے 7 دن کھلی رکھنے کے علاوہ دیگر سہولتیں بھی شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان سے افغانستان کے لیے سیمنٹ، گندم، سبزیوں، ریفائنڈ شوگر، ادویہ، بجلی کے پنکھے، کیمیکلزو الیکٹریکل مشینری کی قانونی برآمدات کا حصہ 70 فیصد ہے جبکہ افغان مارکیٹ میں پاکستانی کپڑے، اسپورٹس گڈز، مختلف ورائٹیز کے چاول، پلاسٹک میٹریلز ودیگر پروڈکٹس وسیع پیمانے پر دستیاب ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے شریک صدر زبیر موتی والا نے افغان صدر کو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی راہ میں حائل مشکلات کے حل،نیٹو ایساف کنٹینرزاسکینڈل میں پاکستانی ایجنٹس کو بلاجواز ملوث کرنے، پاکستان ریلوے کی افغانستان تک رسائی اور باہمی تجارت کے فروغ کے لیے پاک افغان جوائنٹ چیمبر کے پلیٹ فارم سے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی تاجروں نے افغان صدرپرزور دیا کہ دونوں ممالک کی حکومتیں باہمی قانونی تجارت کے فروغ کے لیے ایک دوسرے کے ملکوں کے تاجرنمائندوں اور شعبہ جاتی بنیادوں پرتاجروں و صنعت کاروں کے درمیان روابط کو فروغ دیں۔
پاک افغان جوائنٹ چیمبر کے ڈائریکٹرضیاء الحق سرحدی نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کو پاکستان کی تاجربرادری کو افغانستان کے ساتھ تجارتی معاہدوںمیں درپیش مسائل سے تفصیلی آگاہ کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ افغان صدرنے جوائنٹ چیمبر کی جانب سے نشاندہی شدہ مسائل سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کی اقتصادی ترقی کے لیے ٹھوس حکمت عملی اختیار کررہے ہیں اور دورہ پاکستان بھی اسی حکمت عملی کی ایک کڑی ہے، 2 سال کے دوران پاک افغان قانونی تجارت کے حجم کو 5 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے گا۔
افغانستان کے لیے پاکستان سے قانونی وغیرقانونی برآمدات کا حجم 5 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے جس میں قانونی برآمدات کی مالیت 2 ارب 6 کروڑ ڈالرہے۔
ذرائع نے بتایا کہ افغان صدرڈاکٹراشرف غنی کے حالیہ دورہ پاکستان کے موقع پر پاک افغان تجارت میں حائل رکاوٹیں ختم کرتے ہوئے قانونی چینلز کے ذریعے باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کا میکنزم ترتیب دیا گیا ہے جس میں چیک پوسٹوں کو ہفتے کے 7 دن کھلی رکھنے کے علاوہ دیگر سہولتیں بھی شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان سے افغانستان کے لیے سیمنٹ، گندم، سبزیوں، ریفائنڈ شوگر، ادویہ، بجلی کے پنکھے، کیمیکلزو الیکٹریکل مشینری کی قانونی برآمدات کا حصہ 70 فیصد ہے جبکہ افغان مارکیٹ میں پاکستانی کپڑے، اسپورٹس گڈز، مختلف ورائٹیز کے چاول، پلاسٹک میٹریلز ودیگر پروڈکٹس وسیع پیمانے پر دستیاب ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے شریک صدر زبیر موتی والا نے افغان صدر کو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی راہ میں حائل مشکلات کے حل،نیٹو ایساف کنٹینرزاسکینڈل میں پاکستانی ایجنٹس کو بلاجواز ملوث کرنے، پاکستان ریلوے کی افغانستان تک رسائی اور باہمی تجارت کے فروغ کے لیے پاک افغان جوائنٹ چیمبر کے پلیٹ فارم سے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی تاجروں نے افغان صدرپرزور دیا کہ دونوں ممالک کی حکومتیں باہمی قانونی تجارت کے فروغ کے لیے ایک دوسرے کے ملکوں کے تاجرنمائندوں اور شعبہ جاتی بنیادوں پرتاجروں و صنعت کاروں کے درمیان روابط کو فروغ دیں۔
پاک افغان جوائنٹ چیمبر کے ڈائریکٹرضیاء الحق سرحدی نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کو پاکستان کی تاجربرادری کو افغانستان کے ساتھ تجارتی معاہدوںمیں درپیش مسائل سے تفصیلی آگاہ کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ افغان صدرنے جوائنٹ چیمبر کی جانب سے نشاندہی شدہ مسائل سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کی اقتصادی ترقی کے لیے ٹھوس حکمت عملی اختیار کررہے ہیں اور دورہ پاکستان بھی اسی حکمت عملی کی ایک کڑی ہے، 2 سال کے دوران پاک افغان قانونی تجارت کے حجم کو 5 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے گا۔