پاکستان کی دہشت سے کیویز پر لرزہ طاری
امید ہے کہ ٹاس جیتیں گے اور پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو دبائو میں لانے کی کوشش کریں گے، کپتان برینڈن میک کولم
اگر ہم ٹاس ہار بھی جاتے ہیں تب بھی بیٹسمینوں کو بڑے اسکور کیلیے تیار رہنا ہوگا، مصباح الحق۔ فوٹو: اے ایف پی
KASUR:
پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوسرا ٹیسٹ پیر سے دبئی میں شروع ہورہا ہے۔ گرین کیپس کی دہشت سے کیویز پر لرزہ طاری ہے، اسپنرز کے خوف سے مہمان سائیڈ کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں، مصباح الیون کی نگاہیں سیریز ایک میچ قبل ہی اپنے نام کرنے پر مرکوز ہوچکیں۔
ابوظبی میں مشکوک بولنگ ایکشن رپورٹ ہونے کے بعد حفیظ ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہوگئے، ان کو میدان میں اتارنے کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ آخری لمحات میں کیا جائے گا، اگر وہ نہ کھیلے تو توفیق عمر کے ساتھ شان مسعود اوپننگ ذمہ داریاں انجام دیں گے، باقی فاتح لائن اپ برقرار رہنے کا امکان ہے، کپتان مصباح الحق کا کہناہے کہ بیٹسمینوں کو پہلے بڑا اسکور بنانا ہوگا، وکٹ بعد میں ٹرن لے سکتی ہے، حفیظ کے ایکشن سے زیادہ ان کی فٹنس کے بارے میں فکر ہے، ٹاس ہار بھی گئے تو کوئی پروا نہیں۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ کی جانب سے بھی ٹیم میں کسی تبدیلی کی توقع کم ہی ہے، کپتان برینڈن میک کولم کی سوئی پہلے ٹاس جیتنے پر ہی اٹکی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دوسرے ٹیسٹ میں بھی کنڈیشنز اسپنرز کے ہی موافق ہیں، ہم حریف سائیڈ کو دبائو میں لانے کی کوشش کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے ابوظبی میں248 رنز کی شاندار کامیابی کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کرلی ہے اور اب اس کی نگاہیں دوسرے ٹیسٹ میں کامیابی کے ساتھ سیریز میں حتمی برتری پر مرکوز ہوچکی ہیں۔ کپتان مصباح الحق پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ فی الحال ان کی توجہ دبئی ٹیسٹ پر مرکوز اور ابھی سے کلین سوئپ کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں۔
ابوظبی میں محمد حفیظ اور احمد شہزاد نے 178 رنز کی ابتدائی شراکت فراہم کی تھی مگر اب یہ جوڑی اس سیریز میں ایک ساتھ دکھائی نہیں دے گی،احمد شہزاد پہلے ٹیسٹ میں کھوپڑی میں فریکچر کے بعد گھر واپس لوٹ چکے ہیں جبکہ حفیظ ہیمسٹرنگ انجری سے دوچار ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے ان کی دوسرے ٹیسٹ میں شرکت مشکوک ہے، ابوظبی میں ان کے مشکوک بولنگ ایکشن کی رپورٹ بھی ہوئی تھی۔ مصباح کہتے ہیں کہ میرے لیے ایکشن نہیں حفیظ کی فٹنس زیادہ تشویش کا باعث ہے، ان کے میدان میں اتارنے کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ پیر کی صبح ہی کریں گے۔
واضح رہے کہ اگر حفیظ نہیں کھیلے تو پھر توفیق عمر کے ساتھ شان مسعود اوپننگ کریں گے۔ شان نے گذشتہ برس یو اے ای میں ہی جنوبی افریقہ سے دو ٹیسٹ کھیلے تھے جبکہ توفیق کی بھی ایک بار پھر ٹیم میں واپسی ہوگی۔ مصباح الحق کا مزید کہنا ہے کہ ٹاس پر کسی کا کنٹرول نہیں ہے، دوسری اننگز میں بیٹسمینوں کی کارکردگی بہتر ہونا اچھی علامت ہے اگر ہم ٹاس ہار بھی جاتے ہیں تب بھی بیٹسمینوں کو بڑے اسکور کیلیے تیار رہنا ہوگا، ہم حریف سائیڈکی کمزوری کے بجائے اپنی پرفارمنس بہتر بنانے پر توجہ رکھتے ہیں ہمارے لیے یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ تجربہ کار نہ ہونے کے باوجود بولرز بہترین پرفارمنس پیش کررہے ہیں۔
ادھر نیوزی لینڈ کی جانب سے پلیئنگ الیون میں تبدیلی کا امکان کم دکھائی دے رہا ہے ، کپتان برینڈن میک کولم خود ہی اوپننگ کریں گے اور انھیں ایک بار پھر اسپن کنڈیشنز میں کھیلنے کی توقع ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے پوری توقع ہے کہ ٹاس جیتیں گے اور پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو دبائو میں لانے کی کوشش کریں گے۔
یاد رہے کہ یونس خان رواں برس اب تک 6 ٹیسٹ سنچریاں اسکور کرکے ریکارڈز میں دوسرے نمبر پر موجود رکی پونٹنگ، ویون رچرڈز اور اروندا ڈی سلوا کو جوائن کرلیں گے، ٹاپ پر محمد یوسف ہیں جنھوں نے 2006 میں ایک سال میں 9 سنچریاں اسکور کی تھیں جوکہ اسٹیفن فلیمنگ نے پورے کیریئر کے دوران جڑی تھیں۔ فاسٹ بولر عمران خان اپنا چوتھا ٹیسٹ کھیلنے والے ہیں اور ابھی تک انھوں نے ایک بھی انٹرنیشنل رن اسکور نہیں کیا۔ دبئی میں اب تک کھیلے گئے 7 میں سے صرف ایک ٹیسٹ ڈرا ہوا ہے۔
پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوسرا ٹیسٹ پیر سے دبئی میں شروع ہورہا ہے۔ گرین کیپس کی دہشت سے کیویز پر لرزہ طاری ہے، اسپنرز کے خوف سے مہمان سائیڈ کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں، مصباح الیون کی نگاہیں سیریز ایک میچ قبل ہی اپنے نام کرنے پر مرکوز ہوچکیں۔
ابوظبی میں مشکوک بولنگ ایکشن رپورٹ ہونے کے بعد حفیظ ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہوگئے، ان کو میدان میں اتارنے کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ آخری لمحات میں کیا جائے گا، اگر وہ نہ کھیلے تو توفیق عمر کے ساتھ شان مسعود اوپننگ ذمہ داریاں انجام دیں گے، باقی فاتح لائن اپ برقرار رہنے کا امکان ہے، کپتان مصباح الحق کا کہناہے کہ بیٹسمینوں کو پہلے بڑا اسکور بنانا ہوگا، وکٹ بعد میں ٹرن لے سکتی ہے، حفیظ کے ایکشن سے زیادہ ان کی فٹنس کے بارے میں فکر ہے، ٹاس ہار بھی گئے تو کوئی پروا نہیں۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ کی جانب سے بھی ٹیم میں کسی تبدیلی کی توقع کم ہی ہے، کپتان برینڈن میک کولم کی سوئی پہلے ٹاس جیتنے پر ہی اٹکی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دوسرے ٹیسٹ میں بھی کنڈیشنز اسپنرز کے ہی موافق ہیں، ہم حریف سائیڈ کو دبائو میں لانے کی کوشش کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے ابوظبی میں248 رنز کی شاندار کامیابی کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کرلی ہے اور اب اس کی نگاہیں دوسرے ٹیسٹ میں کامیابی کے ساتھ سیریز میں حتمی برتری پر مرکوز ہوچکی ہیں۔ کپتان مصباح الحق پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ فی الحال ان کی توجہ دبئی ٹیسٹ پر مرکوز اور ابھی سے کلین سوئپ کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں۔
ابوظبی میں محمد حفیظ اور احمد شہزاد نے 178 رنز کی ابتدائی شراکت فراہم کی تھی مگر اب یہ جوڑی اس سیریز میں ایک ساتھ دکھائی نہیں دے گی،احمد شہزاد پہلے ٹیسٹ میں کھوپڑی میں فریکچر کے بعد گھر واپس لوٹ چکے ہیں جبکہ حفیظ ہیمسٹرنگ انجری سے دوچار ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے ان کی دوسرے ٹیسٹ میں شرکت مشکوک ہے، ابوظبی میں ان کے مشکوک بولنگ ایکشن کی رپورٹ بھی ہوئی تھی۔ مصباح کہتے ہیں کہ میرے لیے ایکشن نہیں حفیظ کی فٹنس زیادہ تشویش کا باعث ہے، ان کے میدان میں اتارنے کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ پیر کی صبح ہی کریں گے۔
واضح رہے کہ اگر حفیظ نہیں کھیلے تو پھر توفیق عمر کے ساتھ شان مسعود اوپننگ کریں گے۔ شان نے گذشتہ برس یو اے ای میں ہی جنوبی افریقہ سے دو ٹیسٹ کھیلے تھے جبکہ توفیق کی بھی ایک بار پھر ٹیم میں واپسی ہوگی۔ مصباح الحق کا مزید کہنا ہے کہ ٹاس پر کسی کا کنٹرول نہیں ہے، دوسری اننگز میں بیٹسمینوں کی کارکردگی بہتر ہونا اچھی علامت ہے اگر ہم ٹاس ہار بھی جاتے ہیں تب بھی بیٹسمینوں کو بڑے اسکور کیلیے تیار رہنا ہوگا، ہم حریف سائیڈکی کمزوری کے بجائے اپنی پرفارمنس بہتر بنانے پر توجہ رکھتے ہیں ہمارے لیے یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ تجربہ کار نہ ہونے کے باوجود بولرز بہترین پرفارمنس پیش کررہے ہیں۔
ادھر نیوزی لینڈ کی جانب سے پلیئنگ الیون میں تبدیلی کا امکان کم دکھائی دے رہا ہے ، کپتان برینڈن میک کولم خود ہی اوپننگ کریں گے اور انھیں ایک بار پھر اسپن کنڈیشنز میں کھیلنے کی توقع ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے پوری توقع ہے کہ ٹاس جیتیں گے اور پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو دبائو میں لانے کی کوشش کریں گے۔
یاد رہے کہ یونس خان رواں برس اب تک 6 ٹیسٹ سنچریاں اسکور کرکے ریکارڈز میں دوسرے نمبر پر موجود رکی پونٹنگ، ویون رچرڈز اور اروندا ڈی سلوا کو جوائن کرلیں گے، ٹاپ پر محمد یوسف ہیں جنھوں نے 2006 میں ایک سال میں 9 سنچریاں اسکور کی تھیں جوکہ اسٹیفن فلیمنگ نے پورے کیریئر کے دوران جڑی تھیں۔ فاسٹ بولر عمران خان اپنا چوتھا ٹیسٹ کھیلنے والے ہیں اور ابھی تک انھوں نے ایک بھی انٹرنیشنل رن اسکور نہیں کیا۔ دبئی میں اب تک کھیلے گئے 7 میں سے صرف ایک ٹیسٹ ڈرا ہوا ہے۔