آسٹریلیا میں جی 20 ممالک کا اجلاس
اقتصادی ماہرین عالمی معیشت کا جو جائزہ پیش کرتے ہیں اس کے مطابق ترقی یافتہ ممالک پوری دنیا کی دولت سمیٹ رہے ہیں۔
جی 20 ممالک نے ایبولا وائرس کی روک تھام کے لیے عالمی ماحولیاتی فنڈ کی طرف سے 30 کروڑ ڈالر جاری کرنے کا بھی خیر مقدم کیا، فائل فوٹو
عالمی معاشی ترقی اور دیگر مسائل کے حوالے سے آسٹریلیا کے شہر برسبین (Brisbane) میں دو روزہ جی 20 کے سربراہی اجلاس میں رکن ممالک کے رہنماؤں نے معیشت میں ترقی کا عہد کیا۔ آسٹریلوی وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے کہا کہ اس عہد کی پابندی کی گئی تو عالمی معیشت میں آیندہ پانچ برس میں 2.1 فیصد ترقی ہو گی جو ہدف سے زیادہ ہے۔ اجلاس میں عالمی اقتصادی ترقی کے لیے 2 کھرب ڈالر کا منصوبہ پیش کیا گیا جو 2018ء تک کے لیے ہوگا۔
جی 20 میں آسٹریلیا' برازیل' کینیڈا' چین' فرانس' جرمنی' بھارت' انڈونیشیا' اٹلی' روس' جاپان' اٹلی' سعودی عرب' جنوبی افریقہ' برطانیہ' امریکا' میکسیکو' کوریا' ارجنٹائن اور یورپین یونین شامل ہیں۔ اقتصادی ماہرین عالمی معیشت کا جو جائزہ پیش کرتے ہیں اس کے مطابق ترقی یافتہ ممالک پوری دنیا کی دولت سمیٹ رہے ہیں اور اس دوڑ میں وہ ناجائز حربے بھی استعمال کرنے سے نہیں چوکتے۔ انھوں نے ایک استحصالی نظام قائم کر رکھا ہے ترقی پذیر ممالک میں پھیلی غربت' جہالت اور بہت سے دیگر مسائل کے ذمے دار طاقتور ترقی یافتہ ممالک ہیں۔
یہ ممالک ایک سازش کے تحت ترقی پذیر ممالک میں اپنی پسندیدہ حکومتیں لے کر آتے اور پھر ان ممالک کی معدنیات اور وسائل کو اپنے تصرف میں لے آتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے ذہین افراد بھی پر کشش معاوضہ کی خواہش میں ترقی یافتہ ممالک کا رخ کر لیتے ہیں جن کی محنت اور ذہانت کا فائدہ ترقی یافتہ ممالک تو اٹھاتے ہیں مگر ترقی پذیر ممالک بدستور مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کو ترقی کی دوڑ میں تیسری دنیا کے ممالک کو بھی شریک کرنا ہو گا اور وہاں جدید تعلیمی اور تحقیقی ادارے قائم کیے جائیں تاکہ سائنسی ترقی سے ترقی پذیر ممالک بھی مستفید ہوسکیں۔
جی 20 اجلاس میں ماحولیاتی تبدیلی کو بھی زیر بحث لایا گیا۔ ماحولیاتی تبدیلی میں صنعتی ممالک کا بڑا حصہ ہے وہ ماحولیات میں تبدیلی کا واویلا تو مچاتے ہیں مگر اپنی صنعتوں پر کوئی پابندی عائد نہیں کرتے۔ یوکرین کے مسئلہ پر امریکا اور روس کے درمیان اختلافات پوری شدت سے موجود ہیں' امریکا یورپی ممالک کی مدد سے روس کو کمزور کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
روس اب بھی ایک بڑی قوت ہے اور وہ امریکی بالادستی قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ جی 20 ممالک نے ایبولا وائرس کی روک تھام کے لیے عالمی ماحولیاتی فنڈ کی طرف سے 30 کروڑ ڈالر جاری کرنے کا بھی خیر مقدم کیا۔ اس وقت تین افریقی ممالک سیئر الیون' لائبیریا اور گنی ایبولا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک ہیں اور اب تک پانچ ہزار افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس بیماری کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ وبائی مرض پوری دنیا کو متاثر کرسکتا ہے۔
شام' عراق' یمن' افغانستان اور بہت سے دیگر ممالک میں ہونے والی گڑ بڑ کے ذمے دار امریکا اور اس کے نیٹو اتحادی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی اقتصادی ترقی اور خوشحالی پر توجہ ضرور دیں مگر ترقی پذیر ممالک کا استحصال بند کر دیں اور ان ممالک کو بھی آگے بڑھنے کا موقع فراہم کریں۔ اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کو ترقی پذیر ممالک کی امداد میں اضافہ کرنا ہو گا تاکہ یہ ممالک اپنے مسائل پر قابو پایا اور ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھ سکیں۔
جی 20 میں آسٹریلیا' برازیل' کینیڈا' چین' فرانس' جرمنی' بھارت' انڈونیشیا' اٹلی' روس' جاپان' اٹلی' سعودی عرب' جنوبی افریقہ' برطانیہ' امریکا' میکسیکو' کوریا' ارجنٹائن اور یورپین یونین شامل ہیں۔ اقتصادی ماہرین عالمی معیشت کا جو جائزہ پیش کرتے ہیں اس کے مطابق ترقی یافتہ ممالک پوری دنیا کی دولت سمیٹ رہے ہیں اور اس دوڑ میں وہ ناجائز حربے بھی استعمال کرنے سے نہیں چوکتے۔ انھوں نے ایک استحصالی نظام قائم کر رکھا ہے ترقی پذیر ممالک میں پھیلی غربت' جہالت اور بہت سے دیگر مسائل کے ذمے دار طاقتور ترقی یافتہ ممالک ہیں۔
یہ ممالک ایک سازش کے تحت ترقی پذیر ممالک میں اپنی پسندیدہ حکومتیں لے کر آتے اور پھر ان ممالک کی معدنیات اور وسائل کو اپنے تصرف میں لے آتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے ذہین افراد بھی پر کشش معاوضہ کی خواہش میں ترقی یافتہ ممالک کا رخ کر لیتے ہیں جن کی محنت اور ذہانت کا فائدہ ترقی یافتہ ممالک تو اٹھاتے ہیں مگر ترقی پذیر ممالک بدستور مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کو ترقی کی دوڑ میں تیسری دنیا کے ممالک کو بھی شریک کرنا ہو گا اور وہاں جدید تعلیمی اور تحقیقی ادارے قائم کیے جائیں تاکہ سائنسی ترقی سے ترقی پذیر ممالک بھی مستفید ہوسکیں۔
جی 20 اجلاس میں ماحولیاتی تبدیلی کو بھی زیر بحث لایا گیا۔ ماحولیاتی تبدیلی میں صنعتی ممالک کا بڑا حصہ ہے وہ ماحولیات میں تبدیلی کا واویلا تو مچاتے ہیں مگر اپنی صنعتوں پر کوئی پابندی عائد نہیں کرتے۔ یوکرین کے مسئلہ پر امریکا اور روس کے درمیان اختلافات پوری شدت سے موجود ہیں' امریکا یورپی ممالک کی مدد سے روس کو کمزور کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
روس اب بھی ایک بڑی قوت ہے اور وہ امریکی بالادستی قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ جی 20 ممالک نے ایبولا وائرس کی روک تھام کے لیے عالمی ماحولیاتی فنڈ کی طرف سے 30 کروڑ ڈالر جاری کرنے کا بھی خیر مقدم کیا۔ اس وقت تین افریقی ممالک سیئر الیون' لائبیریا اور گنی ایبولا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک ہیں اور اب تک پانچ ہزار افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس بیماری کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ وبائی مرض پوری دنیا کو متاثر کرسکتا ہے۔
شام' عراق' یمن' افغانستان اور بہت سے دیگر ممالک میں ہونے والی گڑ بڑ کے ذمے دار امریکا اور اس کے نیٹو اتحادی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی اقتصادی ترقی اور خوشحالی پر توجہ ضرور دیں مگر ترقی پذیر ممالک کا استحصال بند کر دیں اور ان ممالک کو بھی آگے بڑھنے کا موقع فراہم کریں۔ اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کو ترقی پذیر ممالک کی امداد میں اضافہ کرنا ہو گا تاکہ یہ ممالک اپنے مسائل پر قابو پایا اور ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھ سکیں۔