چیف جسٹس آف پاکستان کی باتیں
چیف جسٹس صاحب کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ وکلا کی قربانیوں کی وجہ ہی سے آج عدلیہ آزاد ہے
سپریم کورٹ کے فیصلوں کی وجہ سے آج ملک میں نہ صرف جمہوریت قائم ہے بلکہ پارلیمنٹ بھی کام کر رہی ہے۔ فوٹو: فائل
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کراچی بار ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کے موقعے پر بالکل صائب کہا کہ جب آئین وقانون کے تحت فیصلے نہیں ہوتے تو نہ جمہوریت رہتی ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ' عدالتیں تمام فیصلے آئین کے فریم ورک میں ہی رہ کر کرتی ہیں، اس سے ایک انچ بھی باہر نہیں جا سکتیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلوں کی وجہ سے آج ملک میں نہ صرف جمہوریت قائم ہے بلکہ پارلیمنٹ بھی کام کر رہی ہے۔ انھوں نے تمام حلقوں پر یہ بات واضح کر دی ہے کہ آئین کے تحت فیصلے ہوں تو ملک میں جمہوریت مضبوط اور پارلیمنٹ کی بالادستی ہوتی ہے۔ انھوں نے بجا کہا کہ جب بار مضبوط ہوتی ہے تو عدالتیں بھی اچھے فیصلے کرتی ہیں۔ وکلا کی قربانیوں کی وجہ ہی سے آج عدلیہ آزاد ہے۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کے استحکام میں آئین اور قانون کی حکمرانی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جس ملک میں قانون کی جتنی زیادہ بالادستی ہو گی وہ اتنا ہی زیادہ مضبوط اور خوشحال ہو گا۔ جہاں قانون موم کی ناک بن جائے اور بااختیار طبقے پر قانون کی گرفت کمزور پڑ جائے تو وہاں افراتفری، انتشار اور عدم استحکام جنم لیتا ہے۔ شہریوں کے حقوق کا تحفظ نہ ہونے پر کمزور اور پسماندہ طبقہ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا اور اپنا حق حاصل کرنے کے لیے ہر جائز وناجائز حربہ استعمال کرتا ہے۔ جمہوریت میں پارلیمنٹ جو عوام کے منتخب نمایندوں پر مشتمل ہوتی ہے بھی اسی وقت مستحکم ہوتی ہے جب آئین اور قانون کو بالا دستی حاصل ہو۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر پارلیمنٹ خود ہی آئین اور قانون کی پاسداری نہ کرے تو اس کا اپنا وجود بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ ملک میں بدامنی اور لاقانونیت اپنے سائے بڑھانے لگتی ہے اور کوئی بھی طالع آزما بندوق کی نوک پر جمہوریت کا بوریا بستر گول کر کے ملکی سیاست میں اپنی شطرنج کی بساط بچھا دیتا ہے۔ ہر آمر کی پہلی کوشش عدلیہ پر کنٹرول اور اسے اپنا ہمنوا بنانا ہوتی ہے۔ عدلیہ ہی آئین وقانون کی اصل محافظ ہوتی ہے ،وہ ہی جمہوریت اور پارلیمنٹ کے وجود کو دوام بخشتی اور آمر کے شکنجے سے اسے محفوظ رکھتی ہے۔ ماضی کے اوراق پلٹے جائیں تو ان پر درج آمروں کو تحفظ بخشنے والے عدلیہ کے فیصلوں پر آج بھی انگلی اٹھائی جاتی ہے خاص طور پر آمریت کو سہارا فراہم کرنے والے جسٹس منیر کے نظریہ ضرورت کو حرف تنقید بنایا جاتا ہے۔
یحییٰ خان کے مارشل لا کے سامنے بھی عدلیہ نے مزاحمتی کردار ادا نہیں کیا اور آمریت کے زیرسایہ جاری ہونے والے ہر حکم کو تحفظ بخشا۔ عدلیہ نے ہی 1977 میں نصرت بھٹو کیس میں ضیاء الحق کے مارشل لا کو آئینی حیثیت دے کر جمہوریت کا گلا گھونٹا اور منتخب وزیراعظم کو دار پر کھینچ دیا لیکن چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے آمر پرویز مشرف کے اقدامات کے خلاف جو آہنی کردار ادا کیا اور عدلیہ کی بالادستی کو منوایا وہ قابل تحسین ہے۔ اسی آہنی کردار کا نتیجہ تھا کہ وکلا عدلیہ کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے اور سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ عدلیہ کی آزادی کی تحریک میں وکلا ، سول سوسائٹی اور عوام نے بھرپور کردار ادا کیا۔ چیف جسٹس صاحب کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ وکلا کی قربانیوں کی وجہ ہی سے آج عدلیہ آزاد ہے' جب بار مضبوط ہوتی ہے تو عدالتیں بھی اچھے فیصلے کرتی ہیں۔ عدلیہ کی آزادی ہی نے جمہوریت کو استحکام بخشا۔
بلاشبہ جمہوری دور آنے کے بعد عدلیہ اور حکومت میں بعض مقدمات پر شدید نوعیت کے اختلافات پیدا ہوئے اور ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہوئی اور بعض حلقوں کی جانب سے ان خدشات کا اظہار بھی کیا جانے لگا کہ اب جمہوری حکومت کی رخصتی کا وقت آ گیا اور مارشل لا کی دھمک سنائی دینے لگی ہے مگر خوش آیند امر یہ ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود عدلیہ اور حکومت دونوں نے آئینی حدود کا احترام کرتے ہوئے اسے پار نہیں کیا اور اپنے اختلافات آئینی طریقے ہی سے ایک دوسرے پر واضح کرتے ہوئے اسے حل کرنے کی تگ و دو کی اور کوئی بھی غیرآئینی اقدام اٹھانے سے گریز کیا۔ خوش کن امر یہ ہے کہ عدلیہ نے جو بھی فیصلہ دیا حکومت نے فراخ دلی سے اسے قبول کرتے ہوئے کسی بھی طالع آزما کا راستہ روک دیا۔
اس دوران عدلیہ نے بھی بارہا اس امر کو واضح کیا کہ وہ آمریت کو تحفظ فراہم نہیں کرے گی۔ اس سے یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ عدلیہ ہی جمہوریت کی اصل محافظ اور آمریت کی راہ میں مانع ہے۔ کسی بھی جمہوری ملک میں عدلیہ کے فیصلوں کا بھرپور احترام کیا جاتا ہے حتیٰ کہ حکومت کو بھی اپنے مناقشوں کے تصفیے کے لیے عدلیہ سے رجوع اور اس کے فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔ جمہوریت نام ہی آئین کی سربلندی اور پاسداری کا ہے۔ پارلیمنٹ جمہوری دائرے کے اندر رہتے ہوئے عوامی خواہشات کے مطابق قانون سازی کرتی اور ملکی نظام کی سمتوں کا تعین کرتی ہے۔ وہ جو آئین تشکیل دیتی ہے اسی کے زیرسایہ تمام ادارے اپنے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔
عدلیہ پارلیمنٹ کے بنائے آئین اور قانون کی نگرانی کے فرائض بخوبی سر انجام دیتی ہے۔ اسے آئین کی تشریح کا حق ہوتا ہے اور اگر کوئی ادارہ اپنے فرائض کی حدود سے تجاوز کرے تو عدلیہ اس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے ۔ اداروں کے مابین پیدا ہونے والے نزاعات کا فیصلہ بھی عدلیہ ہی کرتی ہے۔ عوامی سطح پر بھی تمام قضیوں میں عدالتی فیصلوں کو حرف آخر سمجھا جاتا ہے۔ عدلیہ کی اہمیت کا اندازہ چرچل کے اس شہرہ آفاق جملے سے لگایا جا سکتا ہے کہ '' عدالتیں برطانیہ میں انصاف کر رہی ہیں تو ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔''
اس سے یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ عدلیہ کا ادارہ نہ صرف اندرون ملک معاملات کو رواں دواں رکھنے میں اہم ہوتا ہے بلکہ کسی بھی ملک وقوم کی بقاء کا انحصار بھی اسی ادارے پر ہوتا ہے۔ ہمارے لیے خوشی کی بات یہ ہے کہ آج ملک میں عدلیہ آزاد ہے اور وہ جمہوری اداروں کے تحفظ میں اپنا کردار بخوبی ادا کر رہی ہے۔ ہم سر فخر سے بلند کر کے کہہ سکتے ہیں کہ ''ہماری عدالتیں انصاف کر رہی ہیں اور کوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔''
سپریم کورٹ کے فیصلوں کی وجہ سے آج ملک میں نہ صرف جمہوریت قائم ہے بلکہ پارلیمنٹ بھی کام کر رہی ہے۔ انھوں نے تمام حلقوں پر یہ بات واضح کر دی ہے کہ آئین کے تحت فیصلے ہوں تو ملک میں جمہوریت مضبوط اور پارلیمنٹ کی بالادستی ہوتی ہے۔ انھوں نے بجا کہا کہ جب بار مضبوط ہوتی ہے تو عدالتیں بھی اچھے فیصلے کرتی ہیں۔ وکلا کی قربانیوں کی وجہ ہی سے آج عدلیہ آزاد ہے۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کے استحکام میں آئین اور قانون کی حکمرانی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جس ملک میں قانون کی جتنی زیادہ بالادستی ہو گی وہ اتنا ہی زیادہ مضبوط اور خوشحال ہو گا۔ جہاں قانون موم کی ناک بن جائے اور بااختیار طبقے پر قانون کی گرفت کمزور پڑ جائے تو وہاں افراتفری، انتشار اور عدم استحکام جنم لیتا ہے۔ شہریوں کے حقوق کا تحفظ نہ ہونے پر کمزور اور پسماندہ طبقہ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا اور اپنا حق حاصل کرنے کے لیے ہر جائز وناجائز حربہ استعمال کرتا ہے۔ جمہوریت میں پارلیمنٹ جو عوام کے منتخب نمایندوں پر مشتمل ہوتی ہے بھی اسی وقت مستحکم ہوتی ہے جب آئین اور قانون کو بالا دستی حاصل ہو۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر پارلیمنٹ خود ہی آئین اور قانون کی پاسداری نہ کرے تو اس کا اپنا وجود بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ ملک میں بدامنی اور لاقانونیت اپنے سائے بڑھانے لگتی ہے اور کوئی بھی طالع آزما بندوق کی نوک پر جمہوریت کا بوریا بستر گول کر کے ملکی سیاست میں اپنی شطرنج کی بساط بچھا دیتا ہے۔ ہر آمر کی پہلی کوشش عدلیہ پر کنٹرول اور اسے اپنا ہمنوا بنانا ہوتی ہے۔ عدلیہ ہی آئین وقانون کی اصل محافظ ہوتی ہے ،وہ ہی جمہوریت اور پارلیمنٹ کے وجود کو دوام بخشتی اور آمر کے شکنجے سے اسے محفوظ رکھتی ہے۔ ماضی کے اوراق پلٹے جائیں تو ان پر درج آمروں کو تحفظ بخشنے والے عدلیہ کے فیصلوں پر آج بھی انگلی اٹھائی جاتی ہے خاص طور پر آمریت کو سہارا فراہم کرنے والے جسٹس منیر کے نظریہ ضرورت کو حرف تنقید بنایا جاتا ہے۔
یحییٰ خان کے مارشل لا کے سامنے بھی عدلیہ نے مزاحمتی کردار ادا نہیں کیا اور آمریت کے زیرسایہ جاری ہونے والے ہر حکم کو تحفظ بخشا۔ عدلیہ نے ہی 1977 میں نصرت بھٹو کیس میں ضیاء الحق کے مارشل لا کو آئینی حیثیت دے کر جمہوریت کا گلا گھونٹا اور منتخب وزیراعظم کو دار پر کھینچ دیا لیکن چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے آمر پرویز مشرف کے اقدامات کے خلاف جو آہنی کردار ادا کیا اور عدلیہ کی بالادستی کو منوایا وہ قابل تحسین ہے۔ اسی آہنی کردار کا نتیجہ تھا کہ وکلا عدلیہ کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے اور سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ عدلیہ کی آزادی کی تحریک میں وکلا ، سول سوسائٹی اور عوام نے بھرپور کردار ادا کیا۔ چیف جسٹس صاحب کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ وکلا کی قربانیوں کی وجہ ہی سے آج عدلیہ آزاد ہے' جب بار مضبوط ہوتی ہے تو عدالتیں بھی اچھے فیصلے کرتی ہیں۔ عدلیہ کی آزادی ہی نے جمہوریت کو استحکام بخشا۔
بلاشبہ جمہوری دور آنے کے بعد عدلیہ اور حکومت میں بعض مقدمات پر شدید نوعیت کے اختلافات پیدا ہوئے اور ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہوئی اور بعض حلقوں کی جانب سے ان خدشات کا اظہار بھی کیا جانے لگا کہ اب جمہوری حکومت کی رخصتی کا وقت آ گیا اور مارشل لا کی دھمک سنائی دینے لگی ہے مگر خوش آیند امر یہ ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود عدلیہ اور حکومت دونوں نے آئینی حدود کا احترام کرتے ہوئے اسے پار نہیں کیا اور اپنے اختلافات آئینی طریقے ہی سے ایک دوسرے پر واضح کرتے ہوئے اسے حل کرنے کی تگ و دو کی اور کوئی بھی غیرآئینی اقدام اٹھانے سے گریز کیا۔ خوش کن امر یہ ہے کہ عدلیہ نے جو بھی فیصلہ دیا حکومت نے فراخ دلی سے اسے قبول کرتے ہوئے کسی بھی طالع آزما کا راستہ روک دیا۔
اس دوران عدلیہ نے بھی بارہا اس امر کو واضح کیا کہ وہ آمریت کو تحفظ فراہم نہیں کرے گی۔ اس سے یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ عدلیہ ہی جمہوریت کی اصل محافظ اور آمریت کی راہ میں مانع ہے۔ کسی بھی جمہوری ملک میں عدلیہ کے فیصلوں کا بھرپور احترام کیا جاتا ہے حتیٰ کہ حکومت کو بھی اپنے مناقشوں کے تصفیے کے لیے عدلیہ سے رجوع اور اس کے فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔ جمہوریت نام ہی آئین کی سربلندی اور پاسداری کا ہے۔ پارلیمنٹ جمہوری دائرے کے اندر رہتے ہوئے عوامی خواہشات کے مطابق قانون سازی کرتی اور ملکی نظام کی سمتوں کا تعین کرتی ہے۔ وہ جو آئین تشکیل دیتی ہے اسی کے زیرسایہ تمام ادارے اپنے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔
عدلیہ پارلیمنٹ کے بنائے آئین اور قانون کی نگرانی کے فرائض بخوبی سر انجام دیتی ہے۔ اسے آئین کی تشریح کا حق ہوتا ہے اور اگر کوئی ادارہ اپنے فرائض کی حدود سے تجاوز کرے تو عدلیہ اس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے ۔ اداروں کے مابین پیدا ہونے والے نزاعات کا فیصلہ بھی عدلیہ ہی کرتی ہے۔ عوامی سطح پر بھی تمام قضیوں میں عدالتی فیصلوں کو حرف آخر سمجھا جاتا ہے۔ عدلیہ کی اہمیت کا اندازہ چرچل کے اس شہرہ آفاق جملے سے لگایا جا سکتا ہے کہ '' عدالتیں برطانیہ میں انصاف کر رہی ہیں تو ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔''
اس سے یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ عدلیہ کا ادارہ نہ صرف اندرون ملک معاملات کو رواں دواں رکھنے میں اہم ہوتا ہے بلکہ کسی بھی ملک وقوم کی بقاء کا انحصار بھی اسی ادارے پر ہوتا ہے۔ ہمارے لیے خوشی کی بات یہ ہے کہ آج ملک میں عدلیہ آزاد ہے اور وہ جمہوری اداروں کے تحفظ میں اپنا کردار بخوبی ادا کر رہی ہے۔ ہم سر فخر سے بلند کر کے کہہ سکتے ہیں کہ ''ہماری عدالتیں انصاف کر رہی ہیں اور کوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔''