حصص مارکیٹ میں مندی 250 پوائنٹس کی کمی
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس250.11 پوائنٹس کی کمی سے31756.29 ہوگیا۔
انڈیکس 31756 پر آگیا، 277 کمپنیوں کی قیمتوں میں کمی،63 ارب کا نقصان،28 کروڑ 23 لاکھ حصص کے سودے۔ فوٹو: آن لائن/فائل
بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈ اینڈ پورز کی جانب سے پاکستان کی طویل ومختصر مدتی ریٹنگ کو لاحق اندرونی وبیرونی خدشات کے اظہاراور سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کے حصول کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کو اتار چڑھاؤ کے بعد مندی کا رحجان غالب ہوگیا جس سے32000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد گرگئی جبکہ سرمایہ کاروں کے63 ارب1 کروڑ 13 لاکھ55 ہزار528 روپے ڈوب گئے۔
ماہرین اسٹاک کا دعویٰ ہے کہ کیپٹل مارکیٹ میں منافع بخش سرمایہ کاری کا پوٹینشل ابھی موجود ہے لہٰذا مذکورہ مندی عارضی نوعیت کی ہے اور آئندہ سیشنز میں دوبارہ تیزی رونما ہوگی، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں اور میوچل فنڈز کی جانب سے مجموعی طور پر47 لاکھ91 ہزار579 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے ایک موقع پر221 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران این بی ایف سیز کی جانب سے6 لاکھ94 ہزار678 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے37 لاکھ44 ہزار47 ڈالراور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 3 لاکھ52 ہزار855 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا اور منافع کے حصول پر رحجان غالب ہونے سے تیزی مندی میں تبدیل ہوگئی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس250.11 پوائنٹس کی کمی سے31756.29 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس153.56 پوائنٹس کی کمی سے20843.62 اور کے ایم آئی30 انڈیکس339.18 پوائنٹس کی کمی سے 51126.66 ہوگیا، کاروباری حجم منگل کی نسبت 9.53 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر28 کروڑ 23 لاکھ4 ہزار500 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار396 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں101 کے بھائو میں اضافہ، 277 کے داموں میں کمی اور18 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
ماہرین اسٹاک کا دعویٰ ہے کہ کیپٹل مارکیٹ میں منافع بخش سرمایہ کاری کا پوٹینشل ابھی موجود ہے لہٰذا مذکورہ مندی عارضی نوعیت کی ہے اور آئندہ سیشنز میں دوبارہ تیزی رونما ہوگی، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں اور میوچل فنڈز کی جانب سے مجموعی طور پر47 لاکھ91 ہزار579 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے ایک موقع پر221 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران این بی ایف سیز کی جانب سے6 لاکھ94 ہزار678 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے37 لاکھ44 ہزار47 ڈالراور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 3 لاکھ52 ہزار855 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا اور منافع کے حصول پر رحجان غالب ہونے سے تیزی مندی میں تبدیل ہوگئی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس250.11 پوائنٹس کی کمی سے31756.29 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس153.56 پوائنٹس کی کمی سے20843.62 اور کے ایم آئی30 انڈیکس339.18 پوائنٹس کی کمی سے 51126.66 ہوگیا، کاروباری حجم منگل کی نسبت 9.53 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر28 کروڑ 23 لاکھ4 ہزار500 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار396 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں101 کے بھائو میں اضافہ، 277 کے داموں میں کمی اور18 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔