نویں جماعت کے نتائج جاری نہ ہونے سے طلبا پریشان

جنرل گروپ کے نتائج اکتوبرکے وسط جبکہ سائنس کا نتیجہ دسمبرمیں جاری ہوسکے گا

کراچی کے نویں جماعت سائنس اورجنرل گروپ کے ایک لاکھ 65 ہزارکے لگ بھگ طلبہ و طالبات میٹرک کے تعلیمی سیشن کے وسط تک اپنے نتائج سے محروم رہیں گے۔ فوٹو: فائل

انتظامی تبدیلی کے بعد ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کی انتظامیہ نتائج کے بروقت اجرا میں بری طرح ناکام ہوگئی۔

میٹرک بورڈ کی تاریخ میں پہلی بار نویں جماعت کے نتائج غیر معمولی تاخیر کے بعد تقریباً9ماہ بعد جاری کیے جائیں گے جبکہ کراچی کے نویں جماعت سائنس اورجنرل گروپ کے ایک لاکھ 65 ہزارکے لگ بھگ طلبہ و طالبات میٹرک کے تعلیمی سیشن کے وسط تک اپنے نتائج سے محروم رہیں گے، میٹرک بورڈ کی جانب سے نویں جماعت سائنس اور جنرل گروپ کے نتائج میں اس غیرمعمولی تاخیر کی وجہ کئی سال بعد نتائج کادستی اندراج (مینول ٹیبولیشن) بتائی جارہی ہے ،واضح رہے کہ میٹرک بورڈ کی جانب سے اس سے قبل میٹرک سائنس اور جنرل گروپ کے نتائج بغیردستی اندراج کے ہی جاری کیے جاچکے ہیں۔


تاہم نویں جماعت میں بورڈ انتظامیہ کی جانب سے اچانک دستی اندراج کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوئی جامع منصوبہ بندی نہیں کی جاسکی جسکے سبب نتائج میں غیر معمولی حدتک تاخیر کااندیشہ ہے، بورڈ انتظامیہ نے نویں سائنس اورجنرل گروپ کے نتائج کے دستی اندراج کے فیصلے کے بعد مذکورہ امورکی تمام تر ذمے داری بورڈ کے ڈائریکٹرریسرچ عبدالرحمٰن کوسونپ دی ہے جنھیں اس سے قبل متعلقہ کاموں کاکوئی تجربہ بھی نہیں ہے، بورڈ کے نئے چیئرمین اور ریٹائر بیوروکریٹ فصیح الدین خان کی جانب سے ڈائریکٹر ریسرچ عبدالرحمن کوریسرچ کے امور کے بجائے نویں جماعت کے نتائج کی تیاری کے سلسلے میں ایوارڈ لسٹوں اوردستی اندراج کاکام حوالے کیا گیا ہے۔

تاہم متعلقہ امورکا تجربہ نہ ہونے کے سبب نتائج کی تیاریوں میں انھیں انتہائی مشکلات پیش آرہی ہیں اورنتائج کااجرا غیرمعمولی تاخیرکاشکارہوگیاہے، واضح رہے کہ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت سابق چیئرمین بورڈ کے دور میں نویں سائنس اور جنرل گروپ کے امتحانات اپریل میں منعقد ہوئے تھے، نویں سائنس گروپ کے امتحانات میں تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار جبکہ جنرل گروپ کے امتحانات میں تقریباً 35 ہزار امیدوار شریک ہوئے تھے جس کے نتائج اگست اورستمبر میں جاری کیے جانے کا امکان تھا تاہم بورڈ کی جانب سے نتائج کے دستی اندراج کے سلسلے میں ناقص منصوبہ بندی اور غیر متعلقہ افسرکومذکورہ امور سپردکیے جانے کے سبب یہ نتائج بروقت جاری نہ ہوسکے۔

نتائج کی تیاری کے سلسلے میں کام کی رفتاردیکھ کر چیئرمین بورڈ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب جنرل گروپ کے نتائج اکتوبرکے وسط جبکہ سائنس گروپ کے نتائج دسمبرمیں جاری ہوسکیں گے،دوسری جانب نویں جماعت کے طلبہ وطالبات کاکہنا ہے کہ نتائج میں اس قدرغیرمعمولی تاخیر کے سبب تعلیمی سیشن کے وسط تک وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ نویں جماعت میں ان کا نتیجہ کیا ہے طلبا کا کہنا ہے کہ اب تک وہ توصرف میٹرک کے پرچوں کی تیاری کررہے ہیں تاہم اگرعین وقت پر انھیں اس بات کاعلم ہواکہ وہ نویں جماعت کے بھی ایک یا اس سے زائد پرچوں میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں توآخر وہ کس طرح انتہائی کم مدت میں نویں اوردسویں جماعتوں کے پرچوں کی بیک وقت تیاری کریں گے، طلبا نے بورڈ کی کنٹرولنگ اتھارٹی وزیراعلیٰ سندھ سے اپیل کی ہے کہ وہ بورڈ کے نئے چیئرمین کی اس ناقص منصوبہ بندی پرایکشن لیں تاکہ جلد از جلد ان کے نتائج کااجرا ممکن ہوسکے۔
Load Next Story