ایٹمی بجلی گھروں کے قیام کیخلاف حکم امتناع برقرار سماعت ملتوی
پیراڈائز پوائنٹ کراچی کے قریب کے ٹو اور کے تھری ایٹمی بجلی گھروں کے منصوبے انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں۔
اگر ثابت ہوا کہ مسافروں کی گمشدگی میں اے ایس ایف ملوث ہے تو ڈی جی اے ایس ایف کو ہتھکڑیاں لگوائیں گے، ہائیکورٹ۔ فوٹو: فائل
DERA GHAZI KHAN:
سندھ ہائیکورٹ نے کراچی میں 2 ایٹمی بجلی گھروں کے قیام کے منصوبے کیخلاف حکم امتناع26 نومبر تک برقرار رکھتے ہوئے سماعت 26نومبر تک ملتوی کردی۔
جمعرات کوکیس کی سماعت چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس مقبول باقر اور جسٹس شاہنواز طارق پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی، سندھ ہائیکورٹ میں ڈاکٹر پرویز ہود بھائی اور شرمین عبید چنائے کے وکیل عبدالستار پیرزادہ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ چین کے تعاون سے پیراڈائز پوائنٹ کراچی کے قریب کے ٹو اور کے تھری ایٹمی بجلی گھروں کے منصوبے انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں اور ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر سے پہلے عوامی سماعت کا انعقاد آرٹیکل19کی سیکشن10کے تحت لازم ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ معاملہ جتنا بھی حساس ہو عوامی رائے جاننا ضروری ہے، معاملے کی حساسیت کے پیش نظر عوامی سماعت کے بعد رپورٹ بیشک جاری نہ کی جائے اور اگر ایٹمی بجلی گھر تعمیر کرنا ہی ہے تو پہلے نئے سرے سے عوامی سماعت کی جائے، علاوہ ازیں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، سندھ انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی، پاکستان انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی سمیت دیگر کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں جواب داخل کردیا ہے۔
جواب کے مطابق کراچی کے ساحل پر نصب کیے جانے والے منصوبے انتہائی حساس نوعت کے ہیں، بین الا قوامی تعلقات عامہ اور نیشنل سیکیورٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے عوامی اعتراضات نہیں سنے گئے، آئندہ سماعت پر بھی درخواست گزار کے وکیل کے دلائل جاری رہیں گے، علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ نے کراچی ائیرپورٹ سے دو لاپتہ حاجیوں کی بازیابی سے متعلق درخواست پراے ایس ایف حکام سے ائیر پورٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج27نومبر تک پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس احمد شیخ کی سربراہی میں بینچ نے درخواست کی سماعت کی، عدالت میں دائر درخواست میں پسند خان نامی شہری نے موقف اختیار کیا کہ خضدار کے رہائشی 80سالہ احمد اور 42سالہ خان محمد فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد غیر ملکی ائیر لائن سے 5 نومبر کو وطن پہننچے تھے لیکن باہر نہیں آئے، دوران سماعت غیر ملکی ائیرلائن کے وکیل نے جواب میں موقف اختیار کیا کہ خان محمد اور احمد کو کراچی پہنچتے ہی رن وے سے حراست میں لیاگیا اور ان کا سامان اب بھی ائیر لائن انتظامیہ کے پاس محفوظ ہے۔
اے ایس ایف اور سول ایوی ایشن کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ دونوں مسافر ائیر پورٹ لابی یا لانج میں نہیں آئے،جسٹس احمد شیخ نے ریمارکس دیے کہ قائد اعظم محمد علی جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے مسافروں کی گمشدگی تشویشناک ہے، جسٹس احمد علی شیخ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دونوں حاجیوں کو زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا، اگر ثابت ہوا کہ مسافروں کی گمشدگی میں اے ایس ایف ملوث ہے تو ڈی جی اے ایس ایف کو ہتھکڑیاں لگوائیں گے،عدالت نے اے ایس ایف حکام کو 5 نومبر کی سی سی ٹی وی فوٹیج 27 نومبر تک پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
سندھ ہائیکورٹ نے کراچی میں 2 ایٹمی بجلی گھروں کے قیام کے منصوبے کیخلاف حکم امتناع26 نومبر تک برقرار رکھتے ہوئے سماعت 26نومبر تک ملتوی کردی۔
جمعرات کوکیس کی سماعت چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس مقبول باقر اور جسٹس شاہنواز طارق پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی، سندھ ہائیکورٹ میں ڈاکٹر پرویز ہود بھائی اور شرمین عبید چنائے کے وکیل عبدالستار پیرزادہ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ چین کے تعاون سے پیراڈائز پوائنٹ کراچی کے قریب کے ٹو اور کے تھری ایٹمی بجلی گھروں کے منصوبے انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں اور ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر سے پہلے عوامی سماعت کا انعقاد آرٹیکل19کی سیکشن10کے تحت لازم ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ معاملہ جتنا بھی حساس ہو عوامی رائے جاننا ضروری ہے، معاملے کی حساسیت کے پیش نظر عوامی سماعت کے بعد رپورٹ بیشک جاری نہ کی جائے اور اگر ایٹمی بجلی گھر تعمیر کرنا ہی ہے تو پہلے نئے سرے سے عوامی سماعت کی جائے، علاوہ ازیں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، سندھ انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی، پاکستان انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی سمیت دیگر کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں جواب داخل کردیا ہے۔
جواب کے مطابق کراچی کے ساحل پر نصب کیے جانے والے منصوبے انتہائی حساس نوعت کے ہیں، بین الا قوامی تعلقات عامہ اور نیشنل سیکیورٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے عوامی اعتراضات نہیں سنے گئے، آئندہ سماعت پر بھی درخواست گزار کے وکیل کے دلائل جاری رہیں گے، علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ نے کراچی ائیرپورٹ سے دو لاپتہ حاجیوں کی بازیابی سے متعلق درخواست پراے ایس ایف حکام سے ائیر پورٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج27نومبر تک پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس احمد شیخ کی سربراہی میں بینچ نے درخواست کی سماعت کی، عدالت میں دائر درخواست میں پسند خان نامی شہری نے موقف اختیار کیا کہ خضدار کے رہائشی 80سالہ احمد اور 42سالہ خان محمد فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد غیر ملکی ائیر لائن سے 5 نومبر کو وطن پہننچے تھے لیکن باہر نہیں آئے، دوران سماعت غیر ملکی ائیرلائن کے وکیل نے جواب میں موقف اختیار کیا کہ خان محمد اور احمد کو کراچی پہنچتے ہی رن وے سے حراست میں لیاگیا اور ان کا سامان اب بھی ائیر لائن انتظامیہ کے پاس محفوظ ہے۔
اے ایس ایف اور سول ایوی ایشن کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ دونوں مسافر ائیر پورٹ لابی یا لانج میں نہیں آئے،جسٹس احمد شیخ نے ریمارکس دیے کہ قائد اعظم محمد علی جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے مسافروں کی گمشدگی تشویشناک ہے، جسٹس احمد علی شیخ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دونوں حاجیوں کو زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا، اگر ثابت ہوا کہ مسافروں کی گمشدگی میں اے ایس ایف ملوث ہے تو ڈی جی اے ایس ایف کو ہتھکڑیاں لگوائیں گے،عدالت نے اے ایس ایف حکام کو 5 نومبر کی سی سی ٹی وی فوٹیج 27 نومبر تک پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔