بلوچستان میں مثبت تبدیلیاں
بلوچستان کے بعض علاقوں میں بغاوت جیسی صورتحال ہے اور دوسری طرف مذہبی انتہاپسند دھماکے کرتے رہتے ہیں۔
tauceeph@gmail.com
بلوچستان میں اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک نے اچھی طرزِ حکومت کو بنیاد بنا کر انتظامی معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر عبدالماک کرپشن کے خاتمے کے لیے بنیادی اقدامات کر رہے ہیں۔ اگرچہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں بغاوت جیسی صورتحال ہے اور دوسری طرف مذہبی انتہاپسند دھماکے کرتے رہتے ہیں مگر بلوچستان کی حکومت امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
جب مئی 2013ء میں انتخابات ہوئے تھے تو بلوچستان میں اغواء کرنے والے 72 گروپ موجود تھے۔ یہ گروپ مختلف قبائل کی پشت پناہی کی بناء پر ڈاکٹروں، وکیلوں، اقلیتی فرقوں کے ارکان، پروفیسر اور عمائدین کو اغواء کرتے تھے۔ یہ الزام لگایا جاتا تھا کہ بلوچستان کی کابینہ کے بعض وزراء اغواء کی وارداتوں کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ ڈاکٹر عبدالمالک نے اقتدار سنبھالتے ہی ان گروہوں کے خلاف کارروائی کی ہدایات جاری کر دیں۔ یوں پولیس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے مشترکہ آپریشن سے ان گروہوں کا خاتمہ ہوا جس کا منطقی نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اغواء برائے تاوان کی وارداتیں کم ہو گئیں۔ بلوچستان کی حکومت کی بنیادی ترجیح تعلیم اور صحت کے شعبے ہیں۔
بلوچستان کی حکومت نے بجٹ کا 40 فیصد حصہ تعلیم اور صحت کے منصوبوں کے لیے مختص کیا ہے۔ اس رقم سے 6 یونیورسٹیاں اور تین میڈیکل کالج قائم ہو چکے ہیں۔ بلوچستان کے دوسرے بڑے شہر گوادر سے آواران اور نال سے پنجگور تک اور خضدار سے رتو ڈیرو تک نئی شاہراہیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ منصوبے ایک سال تک مکمل ہو جائیں گے۔
بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات ہو چکے ہیں۔ ہائی کورٹ میں تحریکِ التواء مقدمے کی بناء پر بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کے انتخابات نہیں ہو سکے۔ ڈاکٹر عبدالمالک نے تعلیمی اداروں کے نصاب میں تبدیلی کے لیے وفاق کی پالیسی کے خلاف مزاحمت کا فیصلہ کیا ہے۔ بعض مبصرین نیشنل پارٹی کی حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ سابق سینیٹر ثناء اﷲ کا کہنا ہے کہ انتہاپسندوں نے جدید تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی کوشش کی ہے اور مخلوط تعلیم دینے والے انگریزی میڈیم اسکولوں اور ادبی انجمنوں کو مستقل دھمکیوں کا سامنا ہے جب کہ صوبائی حکومت اس معاملے پر قابو پانے میں بے بس ہے۔
صحافی صدیق بلوچ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کو گزشتہ دنوں اپنی حمایت یافتہ نیشنل پارٹی کی چوتھی کانگریس میں اپنی حکومت کی کارکردگی پیش کرنی پڑی۔ نیشنل پارٹی کی اس کانگریس میں پورے ملک سے 500 کے قریب مندوبین شریک ہوئے تھے۔
کانگریس میں صوبائی حکومت کی کارکردگی کا تنقیدی جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ اور دیگر عہدیداروں کو مندوبین کی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس میں ڈاکٹرعبدالمالک اور ان کے ساتھیوں کو کسی کرپشن اسکینڈلز کے حوالے سے کسی شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس کانگریس میں دو رجحانات سامنے آئے، ایک رجحان ملک کے آئین کے تحت پرامن جدوجہد کے تناظر میں تھا۔ رہنماؤں اور مندوبین کی اکثریت کی رائے تھی کہ نیشنل پارٹی کو 1973ء کے آئین کے تحت صوبائی خودمختاری اور مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کرنی چاہیے۔ ان رہنماؤں کا یہ کہنا تھا کہ آئین میں کی گئی 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو بہت سے حقوق حاصل ہو چکے ہیں۔
اب ان حقوق کو استعمال کرنا چاہیے۔ کانگریس میں بعض مندوبین کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اپنی مخصوص حکمتِ عملی کے تحت صوبائی حکومت کو مکمل آزادی سے کام کرنے کا موقع نہیں دے رہی، یوں پورے صوبے پر صوبائی حکومت کی عملداری نہیں ہے۔ صوبائی حکومت کی مکمل عملداری کے لیے آئینی طریقوں کو بروئے کار لایا جائے۔ اس کانگریس میں ایک رجحان یہ بھی سامنے آیا کہ بلوچ علیحدگی پسندوں کے ساتھ اشتراک کیا جائے اور بندوق کے ذریعے حقوق حاصل کیے جائیں مگر مندوبین کی اکثریت نے اس رجحان کو مسترد کر دیا۔ کانگریس کے شرکاء کی رائے تھی کہ ماضی میں بھی انتہاپسندانہ رجحانات نے بلوچستان کے حقوق کی جدوجہد کو نقصان پہنچایا ہے اور اب پھر ان انتہاپسندانہ اقدامات کی وجہ سے نقصان پہنچ رہا ہے۔
کانگریس میں بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے کارکنوں کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور وفاقی حکومت سے اپیل کی گئی کہ لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کے لیے حتمی اقدامات کیے جائیں۔ بہت سے مندوبین نے واضح طور پر اس رائے کا اظہار کیا کہ کسی بھی فرد یا ایجنسی کو کسی شہری کو غیر قانونی طور پر نظربند کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اگر کسی فرد کے خلاف کوئی الزام ہے تو اس کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلنا چائے۔ اس طرح ماورائے عدالت قتل سے حالات مزید خراب ہوتے ہیں ۔ اس طریقے سے کئی بے گناہ قتل ہوتے ہیں اور جو مجرم ہوتے ہیں وہ بھی عوام کے سامنے مظلوم بن جاتے ہیں۔
پھر لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہ ہونے سے صوبائی حکومت کے حالات کو معمول پر لانے کی کوشش متاثر ہو رہی ہے۔ اس طرح جلاوطن بلوچ رہنماؤں کی وطن واپسی پر بھی اس کانگریس میں غور ہوا۔ کئی مندوبین کی رائے تھی کہ جلاوطن بلوچ رہنماؤں کو ملک واپسی کے لیے حالات سازگار ہیں۔ کانگریس میں انتخابات میں منتخب ہونے والے عہدیداروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نیشنل پارٹی کو پورے ملک میں منظم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ تمام مظلوم طبقات نیشنل پارٹی میں اس طرح میں شامل ہو جائیں جس طرح 50ء کی دھائی میں کالعدم نیشنل عوامی پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔
نیشنل عوامی پارٹی نے ملک میں سامراج دشمن قومیتوں کے حقوق، جاگیردارانہ نظام کے خاتمے اور جمہوری اصولوں پر مبنی آئین بنانے کے لیے تاریخی جدوجہد کی تھی۔ میر غوث بخش بزنجو، مولانا عبدالمجید خان بھاشانی، جی ایم سید، میاں محمود علی قصوری، قسور گردیزی اور ولی خان وغیرہ نیپ کے اہم رہنماؤں میں شامل تھے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ 1958ء میں جنرل ایوب خان کے مارشل لاء نافذ کرنے کی ایک وجہ 1959ء میں ہونے والے ممکنہ انتخابات میں نیپ کی کامیابی کو روکنا تھا۔ نیشنل عوامی پارٹی نے مشرقی پاکستان کے رہنماؤں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ان تھک کوشش کی تھی۔ میر غوث بخش بزنجو مغربی پاکستان کے آخری رہنما تھے جن سے عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمن آخری وقت ملاقات کے لیے تیار ہوئے تھے مگر میر غوث بخش بزنجو کی تجاویز کو جنرل یحییٰ خان نے مسترد کر دیا تھا۔
1972ء میں نیپ کے رہنما میر غوث بخش بزنجو جمہوری نظام کے استحکام کے لیے پیپلز پارٹی سے تعاون کے لیے تیار تھے۔ بزنجو نے آئین کے مسودے کی تیاری کے لیے قومی اسمبلی میں کمیٹی میں اسی لیے شمولیت اختیار کی تھی کہ ایک ایسے آئین پر اتفاق ہو جائے جو مکمل طور پر وفاقی ہو اور جمہوری حکومتوں کو آئین کے تحت فرائض انجام دینے کا موقع مہیا کرے مگر بزنجو کی کوششوں کو نہ نیپ میں موجود انتہاپسندوں نے اور نہ بھٹو صاحب نے سمجھا جس کا نقصان یہ ہوا کہ آئین میں مذہبی رنگ نے بالادستی حاصل کر لی اور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے نیپ پر پابندی عائد کر دی۔ فوج نے بھٹو صاحب کا تختہ الٹ دیا۔
میر بزنجو نے ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم سے 1973ء کے آئین کی بحالی کے لیے تاریخی جدوجہد کی تھی۔ میر بزنجو کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی ایم آر ڈی کی تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر اتحاد میں حصہ لے گی تو ایک ایسی مضبوط حکومت قائم ہو گی کہ عسکری مقتدرہ اس حکومت کا تختہ نہیں الٹ سکے گی مگر بزنجو کی اس خواہش کی اہمیت کو پیپلز پارٹی کی قیادت نے اسی طرح محسوس نہیں کیا جس طرح 1973ء میں نیپ اور پیپلز پارٹی کے درمیان مفاہمت کے بارے میں میر صاحب کی خواہش کو نیپ کے انتہاپسندوں اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے قبول نہیں کیا تھا۔
1980ء سے 1999ء تک منتخب ہونے والی دونوں بڑی جماعتیں اپنی اپنی مدت پوری نہ کر سکیں اور پھر جنرل پرویز مشرف نے 1999ء میں اقتدار پر قبضہ کر لیا، مشرف حکومت کی ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کی جنگ نے پورے ملک کو لپیٹ میں لے لیا۔ اس وقت ملک مذہبی انتہاپسندی، اچھی طرزِ حکومت اور جمہوری بالادستی کے بحران کا شکار ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت بالائی طبقات کی سیاست کر رہی ہیں، دوسری طرف تحریکِ انصاب دائیں بازو کے مائنڈ سیٹ کے تحت سرگرمِ عمل ہے۔ مظلوم طبقات اور چھوٹی قومیتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھا نے والی کوئی جماعت موجود نہیں ہے۔
مذہبی جماعتیں جنون پیدا کر کے نہ صرف اقلیتوں کی زندگیوں کو پامال کر رہی ہیں بلکہ روشن خیالی اور سیکولر قوتوں کو بھی کچلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں ایک ترقی پسند اور سیکولر جماعت کی اشد ضرورت ہے۔ نیشنل پارٹی نے حکومت میں اچھی طرزِ حکومت کا تجربہ کیا ہے مگر یہ تجربہ اس وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب مظلوم طبقات، ترقی پسند اور سیکولر قوتیں ایک جماعت میں شامل ہو جائیں۔ یہ بات درست ہے کہ ملک میں اب نیشنل عوامی پارٹی جیسی جماعت کی ضرورت ہے۔
جب مئی 2013ء میں انتخابات ہوئے تھے تو بلوچستان میں اغواء کرنے والے 72 گروپ موجود تھے۔ یہ گروپ مختلف قبائل کی پشت پناہی کی بناء پر ڈاکٹروں، وکیلوں، اقلیتی فرقوں کے ارکان، پروفیسر اور عمائدین کو اغواء کرتے تھے۔ یہ الزام لگایا جاتا تھا کہ بلوچستان کی کابینہ کے بعض وزراء اغواء کی وارداتوں کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ ڈاکٹر عبدالمالک نے اقتدار سنبھالتے ہی ان گروہوں کے خلاف کارروائی کی ہدایات جاری کر دیں۔ یوں پولیس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے مشترکہ آپریشن سے ان گروہوں کا خاتمہ ہوا جس کا منطقی نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اغواء برائے تاوان کی وارداتیں کم ہو گئیں۔ بلوچستان کی حکومت کی بنیادی ترجیح تعلیم اور صحت کے شعبے ہیں۔
بلوچستان کی حکومت نے بجٹ کا 40 فیصد حصہ تعلیم اور صحت کے منصوبوں کے لیے مختص کیا ہے۔ اس رقم سے 6 یونیورسٹیاں اور تین میڈیکل کالج قائم ہو چکے ہیں۔ بلوچستان کے دوسرے بڑے شہر گوادر سے آواران اور نال سے پنجگور تک اور خضدار سے رتو ڈیرو تک نئی شاہراہیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ منصوبے ایک سال تک مکمل ہو جائیں گے۔
بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات ہو چکے ہیں۔ ہائی کورٹ میں تحریکِ التواء مقدمے کی بناء پر بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کے انتخابات نہیں ہو سکے۔ ڈاکٹر عبدالمالک نے تعلیمی اداروں کے نصاب میں تبدیلی کے لیے وفاق کی پالیسی کے خلاف مزاحمت کا فیصلہ کیا ہے۔ بعض مبصرین نیشنل پارٹی کی حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ سابق سینیٹر ثناء اﷲ کا کہنا ہے کہ انتہاپسندوں نے جدید تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی کوشش کی ہے اور مخلوط تعلیم دینے والے انگریزی میڈیم اسکولوں اور ادبی انجمنوں کو مستقل دھمکیوں کا سامنا ہے جب کہ صوبائی حکومت اس معاملے پر قابو پانے میں بے بس ہے۔
صحافی صدیق بلوچ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کو گزشتہ دنوں اپنی حمایت یافتہ نیشنل پارٹی کی چوتھی کانگریس میں اپنی حکومت کی کارکردگی پیش کرنی پڑی۔ نیشنل پارٹی کی اس کانگریس میں پورے ملک سے 500 کے قریب مندوبین شریک ہوئے تھے۔
کانگریس میں صوبائی حکومت کی کارکردگی کا تنقیدی جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ اور دیگر عہدیداروں کو مندوبین کی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس میں ڈاکٹرعبدالمالک اور ان کے ساتھیوں کو کسی کرپشن اسکینڈلز کے حوالے سے کسی شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس کانگریس میں دو رجحانات سامنے آئے، ایک رجحان ملک کے آئین کے تحت پرامن جدوجہد کے تناظر میں تھا۔ رہنماؤں اور مندوبین کی اکثریت کی رائے تھی کہ نیشنل پارٹی کو 1973ء کے آئین کے تحت صوبائی خودمختاری اور مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کرنی چاہیے۔ ان رہنماؤں کا یہ کہنا تھا کہ آئین میں کی گئی 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو بہت سے حقوق حاصل ہو چکے ہیں۔
اب ان حقوق کو استعمال کرنا چاہیے۔ کانگریس میں بعض مندوبین کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اپنی مخصوص حکمتِ عملی کے تحت صوبائی حکومت کو مکمل آزادی سے کام کرنے کا موقع نہیں دے رہی، یوں پورے صوبے پر صوبائی حکومت کی عملداری نہیں ہے۔ صوبائی حکومت کی مکمل عملداری کے لیے آئینی طریقوں کو بروئے کار لایا جائے۔ اس کانگریس میں ایک رجحان یہ بھی سامنے آیا کہ بلوچ علیحدگی پسندوں کے ساتھ اشتراک کیا جائے اور بندوق کے ذریعے حقوق حاصل کیے جائیں مگر مندوبین کی اکثریت نے اس رجحان کو مسترد کر دیا۔ کانگریس کے شرکاء کی رائے تھی کہ ماضی میں بھی انتہاپسندانہ رجحانات نے بلوچستان کے حقوق کی جدوجہد کو نقصان پہنچایا ہے اور اب پھر ان انتہاپسندانہ اقدامات کی وجہ سے نقصان پہنچ رہا ہے۔
کانگریس میں بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے کارکنوں کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور وفاقی حکومت سے اپیل کی گئی کہ لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کے لیے حتمی اقدامات کیے جائیں۔ بہت سے مندوبین نے واضح طور پر اس رائے کا اظہار کیا کہ کسی بھی فرد یا ایجنسی کو کسی شہری کو غیر قانونی طور پر نظربند کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اگر کسی فرد کے خلاف کوئی الزام ہے تو اس کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلنا چائے۔ اس طرح ماورائے عدالت قتل سے حالات مزید خراب ہوتے ہیں ۔ اس طریقے سے کئی بے گناہ قتل ہوتے ہیں اور جو مجرم ہوتے ہیں وہ بھی عوام کے سامنے مظلوم بن جاتے ہیں۔
پھر لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہ ہونے سے صوبائی حکومت کے حالات کو معمول پر لانے کی کوشش متاثر ہو رہی ہے۔ اس طرح جلاوطن بلوچ رہنماؤں کی وطن واپسی پر بھی اس کانگریس میں غور ہوا۔ کئی مندوبین کی رائے تھی کہ جلاوطن بلوچ رہنماؤں کو ملک واپسی کے لیے حالات سازگار ہیں۔ کانگریس میں انتخابات میں منتخب ہونے والے عہدیداروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نیشنل پارٹی کو پورے ملک میں منظم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ تمام مظلوم طبقات نیشنل پارٹی میں اس طرح میں شامل ہو جائیں جس طرح 50ء کی دھائی میں کالعدم نیشنل عوامی پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔
نیشنل عوامی پارٹی نے ملک میں سامراج دشمن قومیتوں کے حقوق، جاگیردارانہ نظام کے خاتمے اور جمہوری اصولوں پر مبنی آئین بنانے کے لیے تاریخی جدوجہد کی تھی۔ میر غوث بخش بزنجو، مولانا عبدالمجید خان بھاشانی، جی ایم سید، میاں محمود علی قصوری، قسور گردیزی اور ولی خان وغیرہ نیپ کے اہم رہنماؤں میں شامل تھے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ 1958ء میں جنرل ایوب خان کے مارشل لاء نافذ کرنے کی ایک وجہ 1959ء میں ہونے والے ممکنہ انتخابات میں نیپ کی کامیابی کو روکنا تھا۔ نیشنل عوامی پارٹی نے مشرقی پاکستان کے رہنماؤں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ان تھک کوشش کی تھی۔ میر غوث بخش بزنجو مغربی پاکستان کے آخری رہنما تھے جن سے عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمن آخری وقت ملاقات کے لیے تیار ہوئے تھے مگر میر غوث بخش بزنجو کی تجاویز کو جنرل یحییٰ خان نے مسترد کر دیا تھا۔
1972ء میں نیپ کے رہنما میر غوث بخش بزنجو جمہوری نظام کے استحکام کے لیے پیپلز پارٹی سے تعاون کے لیے تیار تھے۔ بزنجو نے آئین کے مسودے کی تیاری کے لیے قومی اسمبلی میں کمیٹی میں اسی لیے شمولیت اختیار کی تھی کہ ایک ایسے آئین پر اتفاق ہو جائے جو مکمل طور پر وفاقی ہو اور جمہوری حکومتوں کو آئین کے تحت فرائض انجام دینے کا موقع مہیا کرے مگر بزنجو کی کوششوں کو نہ نیپ میں موجود انتہاپسندوں نے اور نہ بھٹو صاحب نے سمجھا جس کا نقصان یہ ہوا کہ آئین میں مذہبی رنگ نے بالادستی حاصل کر لی اور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے نیپ پر پابندی عائد کر دی۔ فوج نے بھٹو صاحب کا تختہ الٹ دیا۔
میر بزنجو نے ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم سے 1973ء کے آئین کی بحالی کے لیے تاریخی جدوجہد کی تھی۔ میر بزنجو کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی ایم آر ڈی کی تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر اتحاد میں حصہ لے گی تو ایک ایسی مضبوط حکومت قائم ہو گی کہ عسکری مقتدرہ اس حکومت کا تختہ نہیں الٹ سکے گی مگر بزنجو کی اس خواہش کی اہمیت کو پیپلز پارٹی کی قیادت نے اسی طرح محسوس نہیں کیا جس طرح 1973ء میں نیپ اور پیپلز پارٹی کے درمیان مفاہمت کے بارے میں میر صاحب کی خواہش کو نیپ کے انتہاپسندوں اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے قبول نہیں کیا تھا۔
1980ء سے 1999ء تک منتخب ہونے والی دونوں بڑی جماعتیں اپنی اپنی مدت پوری نہ کر سکیں اور پھر جنرل پرویز مشرف نے 1999ء میں اقتدار پر قبضہ کر لیا، مشرف حکومت کی ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کی جنگ نے پورے ملک کو لپیٹ میں لے لیا۔ اس وقت ملک مذہبی انتہاپسندی، اچھی طرزِ حکومت اور جمہوری بالادستی کے بحران کا شکار ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت بالائی طبقات کی سیاست کر رہی ہیں، دوسری طرف تحریکِ انصاب دائیں بازو کے مائنڈ سیٹ کے تحت سرگرمِ عمل ہے۔ مظلوم طبقات اور چھوٹی قومیتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھا نے والی کوئی جماعت موجود نہیں ہے۔
مذہبی جماعتیں جنون پیدا کر کے نہ صرف اقلیتوں کی زندگیوں کو پامال کر رہی ہیں بلکہ روشن خیالی اور سیکولر قوتوں کو بھی کچلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں ایک ترقی پسند اور سیکولر جماعت کی اشد ضرورت ہے۔ نیشنل پارٹی نے حکومت میں اچھی طرزِ حکومت کا تجربہ کیا ہے مگر یہ تجربہ اس وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب مظلوم طبقات، ترقی پسند اور سیکولر قوتیں ایک جماعت میں شامل ہو جائیں۔ یہ بات درست ہے کہ ملک میں اب نیشنل عوامی پارٹی جیسی جماعت کی ضرورت ہے۔