ورلڈکپ 2018 ‘روس نے میزبان شہروں کا اعلان کردیا

ایونٹ پرتقریباً 20 ارب ڈالرزخرچ ہوں گے

فیفا اور فٹبال ورلڈکپ2018 کے میزبان روس نے مشترکہ طور پر 11 میزبان شہروں کے نام ظاہر کر دیے ہیں۔ فوٹو: فائل

روس نے فیفا ورلڈکپ 2018 کے میزبان شہروں کا اعلان کردیا۔

میگا ایونٹ پر تقریباً 20 ارب ڈالرز اخراجات آئیں گے،فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی کے سربراہ سیپ بلاٹر نے روس کی تیاریوں پر اظہار اطمینان کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق فیفا اور فٹبال ورلڈکپ2018 کے میزبان روس نے مشترکہ طور پر 11 میزبان شہروں کے نام ظاہر کر دیے، ان میں دارالحکومت ماسکو سمیت کلیننگراڈ، کازا ن، نزہنی نووگروڈ، سینٹ پیٹرزبرگ، سمارا، سوچی، روسٹوف ، سرانسک، وولگوگراڈ اور یاکٹنبرگ شامل ہیں۔


سینٹ پیٹرز برگ کو سابق شاہی دارالحکومت جبکہ سوچی کو ونٹر اولمپکس 2014 کے میزبان ہونے کی وجہ سے شہرت حاصل ہے۔ قبل ازیں میگا ایونٹ کے میزبان شہروں کیلیے 13 ناموں پر مشتمل فہرست تیار کی گئی تھی، ان میں سے کراسنوڈیر اور یاروسلول کے نام قرعہ فال نہیں نکلا۔ اس سلسلے میں ٹی وی پر براہ راست نشر ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیفا کے صدر سیپ بلاٹر نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ 2018 کا فٹبال ورلڈ کپ نہایت کامیاب رہے گا، اس میں نہ صرف روسی عوام کی نیک خواہشات بلکہ میزبان ملک کے صدر ، حکومت، پارلیمنٹ اور فٹبالرزکی محنت بھی برابر شامل ہوں گی۔

انھوں نے اس موقع پر لوکل آرگنائزنک کمیٹی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ میگا ایونٹ کیلیے روس کی تیاریاں کافی تیز اور ہم اپنے شیڈول سے ایک ماہ آگے چل رہے ہیں، اس پر میں میزبان ملک کا شکرگزار ہوں۔ دریں اثنا روس کے اسپورٹس منسٹراور مقامی آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ وٹالی مٹکو نے بتایا کہ ورلڈکپ 2018 پر600 ارب روبلز لاگت آئے گی جو 19ارب 23 کروڑ ڈالرز کے مساوی رقم ہے۔

یہ اس اصل رقم سے دگنی ہے جس کا اعلان روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے دسمبر 2010 میں کیا تھا۔ اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میگا ایونٹ کی لاگت کے حوالے سے ابھی ہمارے اندازے ہیں اور کوئی( حتمی رقم مقرر نہیںہوسکی،ٹورنامنٹ پر جوبھی لاگت آئے گی اس میں سے آدھی روسی حکومت ادا کرے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم ایونٹ کے 5 میزبان وینیوز ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ، کازان، سوچی اور سرانسک میںکام کا آغاز کرچکے،امید ہے آئندہ ہفتے مزید 4 شہروں کے اسٹیڈیمز کیلیے ڈیزائن بننے شروع ہوجائیں گے۔
Load Next Story