اٹھارویں ترمیم اور وفاق
مسلم لیگ نے اپنے قیام کے بعد سے صوبہ سندھ کی بمبئی سے علیحدگی اور بنگال کی تقسیم کی حمایت کی۔
tauceeph@gmail.com
18 ویں ترمیم کا کمال ہے کہ دھرنا چلتا رہا اور امپائر کی انگلی نہیں اٹھ سکی ۔ یوں 18 ویں ترمیم امید کی کرن تھی ۔ یہ خیالات ایڈیٹروں کی تنظیم سی پی این ای کے اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام UNDP کے تحت ہونے والی کانفرنس میں پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رضا ربانی اور ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی کے تھے ۔
آئین میں 18 ویں ترمیم 2012 میں ہوئی تھی ۔ اس ترمیم کے تحت وفاق کے بہت سے اختیارات صوبوں کو منتقل ہوئے تھے، چنانچہ 1940 کی قراردادِ لاہور کے مطابق صوبوں کی خودمختاری کا معاملہ طے ہوا تھا مگر 3 سال گزرنے کے باوجود وفاق کی تمام وزارتیں صوبوں کو منتقل نہیں ہوئیں۔ پیپلز پارٹی کے تیسرے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے صوبوں کو منتقل ہونے والی مختلف وزارتیں جن میں تعلیم، صحت اور زراعت شامل ہیں مرکز میں قائم کردیں۔
وزیر اعظم نواز شریف نے گزشتہ دنوں ہائر ایجوکیشن کمیشن کو یہ ہدایات جاری کر کے کہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں جمہوریت سے متعلق ابواب شامل کیے جائیں ، اس ترمیم کی نفی کردی۔ 18ویں ترمیم کے مصنفین، خاص طور پر سینیٹر رضا ربانی کو یہ تشویش لاحق ہوئی کہ حکومت صوبائی خودمختاری میں مداخلت کررہی ہے۔ پاکستان میں صوبوں کے حقوق کا معاملہ ہمیشہ اہم رہا ہے اور برسرِ اقتدار آنے والی حکومتوں نے صوبوں کے حقوق کو غصب کرکے احساس محرومی پیدا کیا، یوں اکثریتی صوبے مشرقی پاکستان کے عوام آزادی کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔
اگر قیامِ پاکستان کے مقاصد کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت روزہ روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ مسلم لیگ ہمیشہ کمزور مرکز اور مضبوط صوبوں کی حامی رہی جب کہ کانگریس نے مضبوط مرکز کا نعرہ بلند کیا۔
مسلم لیگ نے اپنے قیام کے بعد سے صوبہ سندھ کی بمبئی سے علیحدگی اور بنگال کی تقسیم کی حمایت کی جس کا مقصد اقلیتی صوبوں کے حقوق کا تحفظ کرنا تھا مگر مسلم لیگ نے جب 7 سال کی طویل جدوجہد کے بعد ملک حاصل کیا تو نئی ریاست پر حکومت کرنے والے ٹولے نے صوبائی خودمختاری کے نعرے کو اپنی لغت سے خارج کردیا، یوں 23 مارچ 1940 کو عوام کے جلسے میں منظور کی جانے والی قرارداد میں پاکستان کو ریاستوں کا الحاق قرار دیا گیاتھا۔ قیامِ پاکستان کے فورا بعد صوبہ سرحد میں ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کو برطرف کر کے پھر سندھ میں ایوب کھوڑو حکومت کو رخصت کر کے ملک کو وحدانی طرزِ حکومت میں تبدیل کردیا گیا۔
قائد اعظم نے ڈھاکا کے جلسے میں بنگالی زبان کو ملک کی سرکاری زبان نہ بننے کا اعلان کر کے اکثریتی صوبے کے عوام کو مایوس کردیا تھا۔ مغربی پاکستان میں ون یونٹ بنا کر ایک طرف چھوٹے صوبوں میں احساسِ محرومی پیدا کیا گیا تو دوسری طرف اکثریتی صوبے مشرقی پاکستان کی اکثریت کو تسلیم نہ کر نے کا جواز پیدا کیا گیا۔ گورنر جنرل غلام محمد نے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر کے اکثریت صوبے کے عوام کو یہ پیغام دیا تھا کہ وہ آبادی میں اضافے کے باوجود اقتدار کی مثلث میں بالادستی حاصل نہیں کرسکتے۔ 1958 میں فوج نے پورے ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ کیا اور جنرل ایوب خان نے صدارتی آرڈیننس نافذ کیا جس سے مشرقی پاکستان کے دانشوروں کو 6 نکات کے ذریعے اپنے صوبے کے معاشی استحصال کے خاتمے کے علاوہ دوسرا حل نہیں ملا تھا۔ یوں عوامی لیگ نے 6 نکات کی بنیاد پر 1970 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔
مگر دوسرے فوجی سربراہ جنرل یحییٰ خان نے اقتدار عوامی لیگ کو منتقل نہیں کیا۔ مغربی پاکستان کی اکثریتی جماعت پیپلز پارٹی نے جنرل یحییٰ خان کی حمایت کی۔ جماعتِ اسلامی نے البدر اور الشمس بنا کر فوجی آپریشن کو مضبوط کیا، یوں 16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش میں تبدیل ہوگیا۔ جنرل اے کے نیازی کی قیادت میں 90ہزار فوجیوں نے بھارت کی فوج اورمکتی باہنی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ اس خانہ جنگی میں ہزاروں لوگ قتل ہوئے، لاکھوں لوگ تباہ ہوئے۔
یہ سب کچھ صوبائی خود مختاری کی اہمیت کو تسلیم نہ کرنے کی بناء پر ہوا۔ پاکستان کی قومی اسمبلی نے 1973ء کے آئین کا مسودہ منظور کیا تو آئین میں صوبائی خود مختاری کے تحفظ کے لیے خصوصی آرٹیکل شامل ہوئے۔ اگرچہ مشترکہ مفاد کی فہرست کو صوبوں کی فہرست میں بالادستی حاصل نہیں مگر وزیر اعظم بھٹو کی نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما میر غوث بخش بزنجو کو یقین دہانی پر قوم پرست آئین پر دستخط کو تیار ہونے کہ 10 سال بعد یہ فہرست ختم کردی جائے گی مگر جنرل ضیاء الحق نے اس وعدے کو پورا نہیں کیا۔
1988 سے 1999 تک برسرِ اقتدار آنے والی حکومتیں صوبائی خودمختاری کے حصول کے لیے کچھ نہ کرسکیں۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ صوبہ بلوچستان متاثر ہوا۔ جنرل مشرف کے دورِ اقتدار میں بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع ہوا۔ یہ 1947 کے بعد سے بلوچستان میں چوتھا فوجی آپریشن تھا، اس آپریشن میں پاکستان کی حمایت کرنے والے واحد سردار نواب اکبر بگٹی قتل ہوئے، یوں بلوچستان کے نوجوانوں میں بلوچستان کی آزادی کا نعرہ مقبول ہوا۔ بلوچستان میں دوسرے صوبوں سے آ کر آباد ہونے والوں کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی۔ اس ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں بلوچستان کا تعلیم اور صحت کا نظام براہِ راست متاثر ہوا۔ بعد ازاں سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے اور مسخ شدہ لاشیں ملنے سے ہیجانی کیفیت پیدا ہوئی۔
بلوچستان کے شہروں اوردیہاتوں میں پاکستان کی پرچم لہرانا خطرناک جرم بن گیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی قیادت جنرل پرویز مشرف کی جیلوں میں قید ہوگئی۔ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے جلا وطنی کی زندگی گزاری تو اس دور میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں میں اس بات پر اتفاقِ رائے ہوا کہ ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے میثاقِ جمہوریت کیا جائے۔ ایک ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری کا دائرہ وسیع کرنے سے متعلق حکمتِ عملی پر بھی اتفاقِ رائے ہوا، پیپلز پارٹی کے چوتھے دور میں میثاقِ جمہوریت کے نفاذ کے لیے آئین میں 18ویں ترمیم شامل کرنے پر اتفاق ہوا۔ قومی اسمبلی اورسینیٹ سے 1940 کی قرارداد کے مطابق 1973 کے آئین میں 18ویں ترمیم کے نفاذ سے پہلے الیکٹرونک میڈیا میں اس بارے میں آگہی کی مہم نہیں چل سکی، اس طرح عام آدمی 18 ویں ترمیم کی اہمیت سے واقف نہیں ہوسکا۔ مگر اس ترمیم نے آئین کی ہیت کو تبدیل کردیا۔
اس ترمیم کی بناء پر ایک طرف شہریوں کے جاننے کے حق کو آئینی تحفظ ملا تو دوسری طرف ریاست کی ہر شہری کو میٹرک تک تعلیم دینے کی ذمے داری کو تحفظ دیا گیا۔ صوبوں کو تقریباً وہ تمام حقوق مل گئے جن کا 1940 کی قراردادِ لاہور میں ذکر کیا گیا تھا۔ این ایف سی ایوارڈ کے لیے فارمولے کے تحت صوبوں کی آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ اس وقت کی حکومت نے صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کے پیچیدہ مرحلے میں درپیش مسائل کے حل کے لیے کوئی ادارہ قائم نہیں کیا۔ صوبوں نے اس ترمیم کے تحت ملنے والے اختیارات کے بارے میں سائنسی بنیادوں پر استوار حکمت عملی نہیں بنائی۔
اس ترمیم پر عملدرآمد کے دوران کچھ نئے حقائق سامنے آئے، خاص طور پر نصاب کے معاملے پر تنازعہ کھڑا ہوا اور ادویات کے معیار اور ان کی قیمتوں کے تعین کے لیے بھی وفاقی ادارے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ 18 ویں ترمیم کے مطابق نصاب کی تیاری کی ذمے داری صوبوں کا حق ہے۔ صوبوں کی تاریخ اور ثقافت کو اس طرح میں تحفظ مل سکتا ہے ۔ سائنس کے مضامین کا پور ے پاکستان میں ایک جیسا معیار ہونابھی ضروری ہے، عالمی مالیاتی اداروں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے فنڈنگ کے تناظر میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کو لازمی قرار دیا۔ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم گورڈن براون جو تعلیم کے شعبے میں خصوصی دلچسپی لیتے ہیں نے مرکز میں تعلیم کی وزارت کو برقرار رکھنے کا مشورہ دیا۔ مگر اس صورتحال میں صوبوں کا منفی رویہ بھی سامنے آیا۔ صوبوں نے این ایف سی ایوارڈ سے ملنے والی رقم کو تعلیم، صحت، سڑکوں کی تعمیراور پینے کے صاف پانی کی فراہمی پر خرچ کرنے کے لیے شفاف طریقہ کار اختیار نہیں کیا۔
جب نیا نظام بنتا ہے تو یہ صورتحال پیدا ہوتی ہے مگر اس ترمیم نے بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کو مشکل میں ڈال دیا کیونکہ اس ترمیم پر مکمل عملدرآمد سے ان کا علیحدگی کا مطالبہ بے معنی ہوگیا۔ صرف اورصرف اس ترمیم پر عملدرآمد کر کے ہی وفاق کو بچایا جاسکتا ہے۔
آئین میں 18 ویں ترمیم 2012 میں ہوئی تھی ۔ اس ترمیم کے تحت وفاق کے بہت سے اختیارات صوبوں کو منتقل ہوئے تھے، چنانچہ 1940 کی قراردادِ لاہور کے مطابق صوبوں کی خودمختاری کا معاملہ طے ہوا تھا مگر 3 سال گزرنے کے باوجود وفاق کی تمام وزارتیں صوبوں کو منتقل نہیں ہوئیں۔ پیپلز پارٹی کے تیسرے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے صوبوں کو منتقل ہونے والی مختلف وزارتیں جن میں تعلیم، صحت اور زراعت شامل ہیں مرکز میں قائم کردیں۔
وزیر اعظم نواز شریف نے گزشتہ دنوں ہائر ایجوکیشن کمیشن کو یہ ہدایات جاری کر کے کہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں جمہوریت سے متعلق ابواب شامل کیے جائیں ، اس ترمیم کی نفی کردی۔ 18ویں ترمیم کے مصنفین، خاص طور پر سینیٹر رضا ربانی کو یہ تشویش لاحق ہوئی کہ حکومت صوبائی خودمختاری میں مداخلت کررہی ہے۔ پاکستان میں صوبوں کے حقوق کا معاملہ ہمیشہ اہم رہا ہے اور برسرِ اقتدار آنے والی حکومتوں نے صوبوں کے حقوق کو غصب کرکے احساس محرومی پیدا کیا، یوں اکثریتی صوبے مشرقی پاکستان کے عوام آزادی کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔
اگر قیامِ پاکستان کے مقاصد کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت روزہ روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ مسلم لیگ ہمیشہ کمزور مرکز اور مضبوط صوبوں کی حامی رہی جب کہ کانگریس نے مضبوط مرکز کا نعرہ بلند کیا۔
مسلم لیگ نے اپنے قیام کے بعد سے صوبہ سندھ کی بمبئی سے علیحدگی اور بنگال کی تقسیم کی حمایت کی جس کا مقصد اقلیتی صوبوں کے حقوق کا تحفظ کرنا تھا مگر مسلم لیگ نے جب 7 سال کی طویل جدوجہد کے بعد ملک حاصل کیا تو نئی ریاست پر حکومت کرنے والے ٹولے نے صوبائی خودمختاری کے نعرے کو اپنی لغت سے خارج کردیا، یوں 23 مارچ 1940 کو عوام کے جلسے میں منظور کی جانے والی قرارداد میں پاکستان کو ریاستوں کا الحاق قرار دیا گیاتھا۔ قیامِ پاکستان کے فورا بعد صوبہ سرحد میں ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کو برطرف کر کے پھر سندھ میں ایوب کھوڑو حکومت کو رخصت کر کے ملک کو وحدانی طرزِ حکومت میں تبدیل کردیا گیا۔
قائد اعظم نے ڈھاکا کے جلسے میں بنگالی زبان کو ملک کی سرکاری زبان نہ بننے کا اعلان کر کے اکثریتی صوبے کے عوام کو مایوس کردیا تھا۔ مغربی پاکستان میں ون یونٹ بنا کر ایک طرف چھوٹے صوبوں میں احساسِ محرومی پیدا کیا گیا تو دوسری طرف اکثریتی صوبے مشرقی پاکستان کی اکثریت کو تسلیم نہ کر نے کا جواز پیدا کیا گیا۔ گورنر جنرل غلام محمد نے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر کے اکثریت صوبے کے عوام کو یہ پیغام دیا تھا کہ وہ آبادی میں اضافے کے باوجود اقتدار کی مثلث میں بالادستی حاصل نہیں کرسکتے۔ 1958 میں فوج نے پورے ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ کیا اور جنرل ایوب خان نے صدارتی آرڈیننس نافذ کیا جس سے مشرقی پاکستان کے دانشوروں کو 6 نکات کے ذریعے اپنے صوبے کے معاشی استحصال کے خاتمے کے علاوہ دوسرا حل نہیں ملا تھا۔ یوں عوامی لیگ نے 6 نکات کی بنیاد پر 1970 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔
مگر دوسرے فوجی سربراہ جنرل یحییٰ خان نے اقتدار عوامی لیگ کو منتقل نہیں کیا۔ مغربی پاکستان کی اکثریتی جماعت پیپلز پارٹی نے جنرل یحییٰ خان کی حمایت کی۔ جماعتِ اسلامی نے البدر اور الشمس بنا کر فوجی آپریشن کو مضبوط کیا، یوں 16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش میں تبدیل ہوگیا۔ جنرل اے کے نیازی کی قیادت میں 90ہزار فوجیوں نے بھارت کی فوج اورمکتی باہنی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ اس خانہ جنگی میں ہزاروں لوگ قتل ہوئے، لاکھوں لوگ تباہ ہوئے۔
یہ سب کچھ صوبائی خود مختاری کی اہمیت کو تسلیم نہ کرنے کی بناء پر ہوا۔ پاکستان کی قومی اسمبلی نے 1973ء کے آئین کا مسودہ منظور کیا تو آئین میں صوبائی خود مختاری کے تحفظ کے لیے خصوصی آرٹیکل شامل ہوئے۔ اگرچہ مشترکہ مفاد کی فہرست کو صوبوں کی فہرست میں بالادستی حاصل نہیں مگر وزیر اعظم بھٹو کی نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما میر غوث بخش بزنجو کو یقین دہانی پر قوم پرست آئین پر دستخط کو تیار ہونے کہ 10 سال بعد یہ فہرست ختم کردی جائے گی مگر جنرل ضیاء الحق نے اس وعدے کو پورا نہیں کیا۔
1988 سے 1999 تک برسرِ اقتدار آنے والی حکومتیں صوبائی خودمختاری کے حصول کے لیے کچھ نہ کرسکیں۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ صوبہ بلوچستان متاثر ہوا۔ جنرل مشرف کے دورِ اقتدار میں بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع ہوا۔ یہ 1947 کے بعد سے بلوچستان میں چوتھا فوجی آپریشن تھا، اس آپریشن میں پاکستان کی حمایت کرنے والے واحد سردار نواب اکبر بگٹی قتل ہوئے، یوں بلوچستان کے نوجوانوں میں بلوچستان کی آزادی کا نعرہ مقبول ہوا۔ بلوچستان میں دوسرے صوبوں سے آ کر آباد ہونے والوں کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی۔ اس ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں بلوچستان کا تعلیم اور صحت کا نظام براہِ راست متاثر ہوا۔ بعد ازاں سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے اور مسخ شدہ لاشیں ملنے سے ہیجانی کیفیت پیدا ہوئی۔
بلوچستان کے شہروں اوردیہاتوں میں پاکستان کی پرچم لہرانا خطرناک جرم بن گیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی قیادت جنرل پرویز مشرف کی جیلوں میں قید ہوگئی۔ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے جلا وطنی کی زندگی گزاری تو اس دور میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں میں اس بات پر اتفاقِ رائے ہوا کہ ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے میثاقِ جمہوریت کیا جائے۔ ایک ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری کا دائرہ وسیع کرنے سے متعلق حکمتِ عملی پر بھی اتفاقِ رائے ہوا، پیپلز پارٹی کے چوتھے دور میں میثاقِ جمہوریت کے نفاذ کے لیے آئین میں 18ویں ترمیم شامل کرنے پر اتفاق ہوا۔ قومی اسمبلی اورسینیٹ سے 1940 کی قرارداد کے مطابق 1973 کے آئین میں 18ویں ترمیم کے نفاذ سے پہلے الیکٹرونک میڈیا میں اس بارے میں آگہی کی مہم نہیں چل سکی، اس طرح عام آدمی 18 ویں ترمیم کی اہمیت سے واقف نہیں ہوسکا۔ مگر اس ترمیم نے آئین کی ہیت کو تبدیل کردیا۔
اس ترمیم کی بناء پر ایک طرف شہریوں کے جاننے کے حق کو آئینی تحفظ ملا تو دوسری طرف ریاست کی ہر شہری کو میٹرک تک تعلیم دینے کی ذمے داری کو تحفظ دیا گیا۔ صوبوں کو تقریباً وہ تمام حقوق مل گئے جن کا 1940 کی قراردادِ لاہور میں ذکر کیا گیا تھا۔ این ایف سی ایوارڈ کے لیے فارمولے کے تحت صوبوں کی آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ اس وقت کی حکومت نے صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کے پیچیدہ مرحلے میں درپیش مسائل کے حل کے لیے کوئی ادارہ قائم نہیں کیا۔ صوبوں نے اس ترمیم کے تحت ملنے والے اختیارات کے بارے میں سائنسی بنیادوں پر استوار حکمت عملی نہیں بنائی۔
اس ترمیم پر عملدرآمد کے دوران کچھ نئے حقائق سامنے آئے، خاص طور پر نصاب کے معاملے پر تنازعہ کھڑا ہوا اور ادویات کے معیار اور ان کی قیمتوں کے تعین کے لیے بھی وفاقی ادارے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ 18 ویں ترمیم کے مطابق نصاب کی تیاری کی ذمے داری صوبوں کا حق ہے۔ صوبوں کی تاریخ اور ثقافت کو اس طرح میں تحفظ مل سکتا ہے ۔ سائنس کے مضامین کا پور ے پاکستان میں ایک جیسا معیار ہونابھی ضروری ہے، عالمی مالیاتی اداروں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے فنڈنگ کے تناظر میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کو لازمی قرار دیا۔ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم گورڈن براون جو تعلیم کے شعبے میں خصوصی دلچسپی لیتے ہیں نے مرکز میں تعلیم کی وزارت کو برقرار رکھنے کا مشورہ دیا۔ مگر اس صورتحال میں صوبوں کا منفی رویہ بھی سامنے آیا۔ صوبوں نے این ایف سی ایوارڈ سے ملنے والی رقم کو تعلیم، صحت، سڑکوں کی تعمیراور پینے کے صاف پانی کی فراہمی پر خرچ کرنے کے لیے شفاف طریقہ کار اختیار نہیں کیا۔
جب نیا نظام بنتا ہے تو یہ صورتحال پیدا ہوتی ہے مگر اس ترمیم نے بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کو مشکل میں ڈال دیا کیونکہ اس ترمیم پر مکمل عملدرآمد سے ان کا علیحدگی کا مطالبہ بے معنی ہوگیا۔ صرف اورصرف اس ترمیم پر عملدرآمد کر کے ہی وفاق کو بچایا جاسکتا ہے۔