نارتھ کراچی صنعتی علاقے میں3 ہفتوں سے سیوریج لائنیں خراب
علاقے میں گزشتہ20 یوم سے چوک سیوریج لائنوںکی وجہ سے سڑکوں پررکے ہوئے گندے پانی کی مقدار بڑھتی جارہی ہے۔
کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کی عدم دلچسپی کے باعث صنعتی علاقے کے 3 سیکٹرز12D ،12C اور6B میں قائم سیکڑوں صنعتوں کے متاثر ہونے اور علاقے میں تعفن پھیلنے کاخطرہ پیدا ہوگیا ہے. فوٹو: فائل
نارتھ کراچی صنعتی علاقے کی سیوریج لائنیںگزشتہ تین ہفتوں سے چوک ہونے کے باعث علاقے کی 25سے زائد صنعتوں میں سیوریج کاپانی جمع ہوگیا۔
کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کی عدم دلچسپی کے باعث صنعتی علاقے کے 3 سیکٹرز12D ،12C اور6B میں قائم سیکڑوں صنعتوں کے متاثر ہونے اور علاقے میں تعفن پھیلنے کاخطرہ پیدا ہوگیاہے، نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے وائس چیئرمین اشہرجمیل نے بتایاکہ واٹراینڈ سیوریج بورڈکے عدم تعاون اورسیوریج کی چوک لائنوںکی صفائی کیلیے ''راڈنگ مشین''کی عدم دستیابی کے باعث حال ہی میں تعمیرکی جانیوالی نئی سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ علاقے میں گزشتہ20 یوم سے چوک سیوریج لائنوں کی وجہ سے سڑکوں پررکے ہوئے گندے پانی کی مقدار بڑھتی جارہی ہے۔
انھوں نے بتایاکہ ان نئی سڑکوں کا افتتاح 17 ستمبر 2012 کوگورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کیاتھا،انھوں نے بتایاکہ صنعتکار پہلے ہی یومیہ7 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ، ہفتے واردو یوم گیس سپلائی کی بندش اور صاف پانی کی مطلوبہ مقدارمیں عدم فراہمی جیسے مسائل سے دوچار تھے لیکن علاقے کی جانب سے بلوں کی مد میں100 فیصد باقاعدگی کے ساتھ ادائیگیوںکے باوجود جمع ہونیوالے سیوریج کے پانی کی نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے ان کے مسائل مزید بڑھ گئے ہیںکیونکہ صنعتکاروں کو اس بات کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ واٹربورڈ کے ہنگامی اقدامات نہ ہونے کے باعث علاقے کی بیشتر فیکٹریوں میں سیوریج کا پانی جمع ہوجائے گا ۔
اشہرجمیل نے بتایا کہ واٹربورڈ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے چونکہ ہائیڈرنٹس بند کردیے گئے ہیں اس لیے انہیں ''راڈنگ مشین'' میںاستعمال کیلیے پانی کے حصول میںمشکلات پیش آرہی ہیں ان ہی عوامل کے سبب بورڈ علاقے میں راڈنگ مشین کے ذریعے سیوریج کے پانی کے انخلاکیلیے آپریشن کرنے سے قاصر ہے۔
کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کی عدم دلچسپی کے باعث صنعتی علاقے کے 3 سیکٹرز12D ،12C اور6B میں قائم سیکڑوں صنعتوں کے متاثر ہونے اور علاقے میں تعفن پھیلنے کاخطرہ پیدا ہوگیاہے، نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے وائس چیئرمین اشہرجمیل نے بتایاکہ واٹراینڈ سیوریج بورڈکے عدم تعاون اورسیوریج کی چوک لائنوںکی صفائی کیلیے ''راڈنگ مشین''کی عدم دستیابی کے باعث حال ہی میں تعمیرکی جانیوالی نئی سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ علاقے میں گزشتہ20 یوم سے چوک سیوریج لائنوں کی وجہ سے سڑکوں پررکے ہوئے گندے پانی کی مقدار بڑھتی جارہی ہے۔
انھوں نے بتایاکہ ان نئی سڑکوں کا افتتاح 17 ستمبر 2012 کوگورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کیاتھا،انھوں نے بتایاکہ صنعتکار پہلے ہی یومیہ7 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ، ہفتے واردو یوم گیس سپلائی کی بندش اور صاف پانی کی مطلوبہ مقدارمیں عدم فراہمی جیسے مسائل سے دوچار تھے لیکن علاقے کی جانب سے بلوں کی مد میں100 فیصد باقاعدگی کے ساتھ ادائیگیوںکے باوجود جمع ہونیوالے سیوریج کے پانی کی نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے ان کے مسائل مزید بڑھ گئے ہیںکیونکہ صنعتکاروں کو اس بات کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ واٹربورڈ کے ہنگامی اقدامات نہ ہونے کے باعث علاقے کی بیشتر فیکٹریوں میں سیوریج کا پانی جمع ہوجائے گا ۔
اشہرجمیل نے بتایا کہ واٹربورڈ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے چونکہ ہائیڈرنٹس بند کردیے گئے ہیں اس لیے انہیں ''راڈنگ مشین'' میںاستعمال کیلیے پانی کے حصول میںمشکلات پیش آرہی ہیں ان ہی عوامل کے سبب بورڈ علاقے میں راڈنگ مشین کے ذریعے سیوریج کے پانی کے انخلاکیلیے آپریشن کرنے سے قاصر ہے۔