اقلیتوں کا تحفظ ہماری ذمے داری
گزشتہ دنوں ایک مسیحی جوڑے کو جس طرح ایک پرتشدد گروہ نے زندہ جلایا،یہ واقعہ انسانیت کی توہین ہے
قانون شکنی اور قانون کو ہاتھ لینے کے واقعات نے ہمارے رہے سہے سماجی ڈھانچے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں، فوٹو:فائل
قیام پاکستان کی تحریک میں مسیحی برادری نے بھی ناقابل فراموش کردار ادا کیا،بعدازاں ملک کی تعمیروترقی میں بھی بھرپور حصہ لیا، اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی سچے اور محب وطن پاکستانی ہیں، وطن عزیز کے ممتاز تعلیمی ادارے اسی کمیونٹی کے زیرانتظام چل رہے ہیں، لیکن نا بھلا ہو آمریت کا جس کے سائے تلے ملک میں عدم برداشت کا کلچر پروان چڑھا، پرتشدد گروہوں نے اقلیتوں پر حملے کرکے ان کو جانی ومالی نقصان پہنچایا ہے ۔ تسلسل سے ایسے شرمناک واقعات رونما ہونے سے پاکستان کا روشن چہرہ اقوام عالم میں داغ دار ہوگیا ہے۔
گزشتہ دنوں ایک مسیحی جوڑے کو جس طرح ایک پرتشدد گروہ نے زندہ جلایا،یہ واقعہ انسانیت کی توہین ہے ، اسی تناظر میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناصرالملک نے کوٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کو زندہ جلائے جانے کا معاملہ کھلی عدالت میں زیر سماعت لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں فل بنچ نے اقلیتوںکو تحفظ دینے کے فیصلے پر عملدرآمدکے مقدمے میں چاروں صوبوںکے ایڈووکیٹ جنرلز سے رپورٹس طلب کر لی ہیں۔ بلاشبہ سپریم کورٹ کا فیصلہ انتہائی صائب ہے کہ اس مقدمے کو کھلی عدالت میں چلایا جائے اور اس واقعے کے ذمے دار افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔انصاف میں تاخیر انصاف کے قتل کے مترادف ہے ، ناقص اور ناکارہ پولیس کا محکمہ بھی معاشرے میں بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ ہے ۔
جب بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو پولیس اول تو جائے وقوعہ پرگھنٹوں تاخیر سے پہنچتی ہے دوم واقعے کا اندراج تک نہیں ہوتا ۔ایک بات تو واضح ہے جب توہین رسالت کا قانون موجود ہے تو پھر کسی بھی گروہ یا فرد کو اختیار نہیں کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے کر کسی کے جان ومال کو نقصان پہنچائے۔ اقلیتوں کے حقوق کا مکمل تحفظ آئین پاکستان میں موجود ہے، ان کو بھی وہ تمام بنیادی حقوق حاصل ہیں جو کسی بھی پاکستانی کو حاصل ہیں۔ اسلام ایک مکمل دین ہے ،جو ساری عالم انسانیت کے لیے ہے ،اسلام میں اقلیتوں کو تمام حقوق حاصل ہیں اور ان کے تحفظ کی ذمے داری بھی مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں ریاست کمزور ہوئی ہے جب کہ جرائم پیشہ گروہ اور غیر ریاستی عناصر طاقتور ہوتے جا رہے ہیں۔
قانون شکنی اور قانون کو ہاتھ لینے کے واقعات نے ہمارے رہے سہے سماجی ڈھانچے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں، لوگ ایک قانون کو اپنی دشمنیاں نکالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور بلاتحقیق کسی واقعے کو بنیاد بنا کر اور مذہبی جذبات ابھار کر اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ پرتشدد گروہوں کی دست برد سے کوئی محفوظ نہیں ۔ قانون کی عمل داری کو مضبوط کر کے ہی ہم پاکستان کو ایک مضبوط ملک بنا سکتے ہیں ۔ حالیہ واقعہ ایک ٹیسٹ کیس ہے ، جس کا فیصلہ آنے والی نسلوں پر نہ صرف اپنے اثرات مرتب کرے گا، بلکہ ایسے اندوہناک واقعات کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی ۔
گزشتہ دنوں ایک مسیحی جوڑے کو جس طرح ایک پرتشدد گروہ نے زندہ جلایا،یہ واقعہ انسانیت کی توہین ہے ، اسی تناظر میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناصرالملک نے کوٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کو زندہ جلائے جانے کا معاملہ کھلی عدالت میں زیر سماعت لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں فل بنچ نے اقلیتوںکو تحفظ دینے کے فیصلے پر عملدرآمدکے مقدمے میں چاروں صوبوںکے ایڈووکیٹ جنرلز سے رپورٹس طلب کر لی ہیں۔ بلاشبہ سپریم کورٹ کا فیصلہ انتہائی صائب ہے کہ اس مقدمے کو کھلی عدالت میں چلایا جائے اور اس واقعے کے ذمے دار افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔انصاف میں تاخیر انصاف کے قتل کے مترادف ہے ، ناقص اور ناکارہ پولیس کا محکمہ بھی معاشرے میں بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ ہے ۔
جب بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو پولیس اول تو جائے وقوعہ پرگھنٹوں تاخیر سے پہنچتی ہے دوم واقعے کا اندراج تک نہیں ہوتا ۔ایک بات تو واضح ہے جب توہین رسالت کا قانون موجود ہے تو پھر کسی بھی گروہ یا فرد کو اختیار نہیں کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے کر کسی کے جان ومال کو نقصان پہنچائے۔ اقلیتوں کے حقوق کا مکمل تحفظ آئین پاکستان میں موجود ہے، ان کو بھی وہ تمام بنیادی حقوق حاصل ہیں جو کسی بھی پاکستانی کو حاصل ہیں۔ اسلام ایک مکمل دین ہے ،جو ساری عالم انسانیت کے لیے ہے ،اسلام میں اقلیتوں کو تمام حقوق حاصل ہیں اور ان کے تحفظ کی ذمے داری بھی مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں ریاست کمزور ہوئی ہے جب کہ جرائم پیشہ گروہ اور غیر ریاستی عناصر طاقتور ہوتے جا رہے ہیں۔
قانون شکنی اور قانون کو ہاتھ لینے کے واقعات نے ہمارے رہے سہے سماجی ڈھانچے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں، لوگ ایک قانون کو اپنی دشمنیاں نکالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور بلاتحقیق کسی واقعے کو بنیاد بنا کر اور مذہبی جذبات ابھار کر اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ پرتشدد گروہوں کی دست برد سے کوئی محفوظ نہیں ۔ قانون کی عمل داری کو مضبوط کر کے ہی ہم پاکستان کو ایک مضبوط ملک بنا سکتے ہیں ۔ حالیہ واقعہ ایک ٹیسٹ کیس ہے ، جس کا فیصلہ آنے والی نسلوں پر نہ صرف اپنے اثرات مرتب کرے گا، بلکہ ایسے اندوہناک واقعات کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی ۔