باجوڑ کی26 بچیوں کی بازیابی تشویشناک معاملہ

مدرسے ہماری مذہبی روایات میں خاص اہمیت کے حامل ہیں اور حصول تعلیم کے پیش نظر ان کی افادیت سے مفر ممکن نہیں۔

مناسب ہوگا کہ اس معاملے کو سیاسی نہ بنایا جائے بلکہ دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر پہلو سے تحقیقات کی جائے، فوٹو: ایکسپریس نیوز

ISLAMABAD:
شہر ناپرساں کراچی پر شاید کسی آسیب کا سایہ ہے، یکے بعد دیگرے متواتر ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جس سے نہ صرف ملک بھر میں ہلچل مچ جاتی ہے بلکہ عالمی طور پر بھی ملک کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ بدھ کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں ایک مکان سے باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والی 26 بچیوں کی بازیابی کی اطلاع پر شہر بھر میں سنسنی پھیل گئی، نہ صرف پولیس انتظامیہ اور دیگر ادارے حرکت میں آگئے بلکہ باجوڑ سے تعلق رکھنے والے پولیٹیکل ایجنٹ بھی فوری طور پر کراچی پہنچ گئے۔

ابتدائی طور پر یہی تاثر ابھر رہا تھا جیسے 26 بچیوں کو اغوا کے بعد لیاقت آباد میں رکھا گیا ہو، بعد ازاں صورت حال واضح ہوئی کہ یہ تمام معاملہ محض قرض دار اور قرض خواہ کے درمیان جھگڑے کا تھا اور جمشید روڈ پر قائم مدرسے کی خاتون رکن نے اپنے قرض دار پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے مدرسے میں زیر تعلیم بچیوں کی کفالت اس پر ڈالتے ہوئے بچیوں کو اس کے مکان میں منتقل کردیا تھا۔ لیکن معاملے کے صرف ایک ہی پہلو کو دیکھنا مناسب نہ ہوگا، کئی تشویشناک امر پنہاں ہیں جنھیں نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ بے شک یہ معاملہ قرض دار اور قرض خواہ کا ہے لیکن ایک غیر رجسٹرڈ مدرسے میں اس طرح معصوم بچیوں کو کفالت کی ذمے داری سے مفروریت اور دینی تعلیم کے نام پر چھوڑا جانا کسی صورت صحت مند اقدام قرار نہیں دیا جاسکتا۔


مدرسے ہماری مذہبی روایات میں خاص اہمیت کے حامل ہیں اور حصول تعلیم کے پیش نظر ان کی افادیت سے مفر ممکن نہیں، لیکن مذکورہ واقعہ اور ماضی قریب میں ہونے والے مدرسوں سے متعلق دیگر واقعات علم کے ان روشن میناروں کو گہنا رہے ہیں اور لوگوں میں مدرسوں سے متعلق منفی خیالات پروان چڑھ رہے ہے ۔

یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ باجوڑ سے تعلق رکھنے والی یہ بچیاں اردو سے مکمل لاعلم ہیں، اگر وہ قرض کے اس جھگڑے میں ادھر ادھر ہوجاتیں تو کسی اور قسم کا سانحہ بھی پیش آسکتا تھا۔منی پاکستان کو ردِ بلا کے تعویز کی ضرورت ہے، اگر خدانخواستہ ان بچیوں کے ساتھ کچھ غلط ہوتا تو بات صرف قرض کے جھگڑے کی نہیں رہتی ۔

بچیوں کے رشتے دار اور متعلقین باجوڑ سے فوری طور پر کراچی پہنچ گئے اور سات بچیوں کو ان کے والدین کے حوالے کردیا تھا ۔ ڈی آئی جی ویسٹ کا کہنا ہے کہ تمام بچیوں کو باجوڑ کے پولیٹیکل ایجنٹ کی موجودگی میں ان کے والدین کے حوالے کیا جائے گا ۔ اس معاملے میں بھی خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ بچیاں صحیح ہاتھوں تک ہی پہنچیں ۔ یہ معاملہ پورا دن میڈیا اور لوگوں کی توجہ کا مرکز رہا ۔ ملک بھر کی سیاسی جماعتوں نے بھی سرگرم کردار ادا کیا ۔ کراچی سے لے کر فاٹا تک کے ارکان پارلیمنٹ نے اظہار تشویش کیا ۔ لیکن مناسب ہوگا کہ اس معاملے کو سیاسی نہ بنایا جائے بلکہ دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر پہلو سے تحقیقات کی جائے ۔
Load Next Story